پاکستان بچانا ہے تو پانی بچانا ہو گا
ہائیڈروجن کے دو حصے اور آکسیجن کے ایک حصہ سے مل کر بننے والا یہ محلول بے رنگ سا بے ذائقہ سا صرف نظر آتا ہے اس کی اہمیت کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ ہنٹر گیدرر کی سوسائٹی سے لے کر آج تک کی سیویلائزڈ سوسائٹی تک اس کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکا۔ جتنی بھی پرانی تہذیبیں گزری ہیں وہ ہمیشہ پھلنے پھولنے کے لیے ہمیشہ پینے کے پانی کے قریب قریب جگہ بناتے تھے۔ تاکہ وہ کچھ اُگا سکیں پینے کے لیے پانی استعمال کر سکیں اور جو جانور رکھیں وہ بھی پانی پی سکیں۔
ان پرانی تہذیبوں میں سے میزو پوٹیمیا، میزو امیریکن، سومیرین، موہنجوداڑو، ہڑپہ، مصری تہذیبوں کو دیکھا جائے تو ان سب کا مسکن کہیں صاف پانی کے کنارے ہی ملے گا کیونکہ اس پانی کے ذریعے وہ اپنا کھانا بھی تلاش کرتے تھے اس کے ذریعے وہ کشتیاں بنا کر سفر بھی کیا کرتے تھے اور دشمن کے وار سے بچ کر بھی رہتے تھے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ مذاہب میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہیں یہ زم زم کی شکل میں موجود ہے کہیں گنگا جل اور کہیں ہولی واٹر کے نام سے منسوب ہے۔
کہیں یہ بچوں کو گھٹی کی صورت میں دیا جا رہا ہوتا ہے اور کہیں یہ کسی پیر فقیر نے دم کیا ہوتا ہے۔ پانی زندگی ہے اس کا متبادل کوئی نہیں۔ رمضان کے دن ہوں تو اس بات کا اندازہ کوئی بھی روزہ دار لگا سکتا ہے۔ پاکستان جو کہ ایک زرعی ملک ہے ایک رپورٹ کے مطابق 2025 تک پاکستان سے پانی ختم ہو جائے گا؟ میں اس سوال کا جواب اور ممکنہ حل ڈھونڈنے کے لیے نکلا
اس سلسلے میں میری ملاقات لاہور میں پانی کے ادارہ واسا کے سربراہ (ایم ڈی) سید زاہد عزیز سے ہوئی۔ شاہ صاحب ایک نہایت ہی شفیق انسان ہیں۔ پانی کے مسئلہ کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ایمرجنسی بنیادوں پر کام جاری ہے جس کے لیے واسا لاہور نہر اور دریا کے پانی کو صاف پینے کے قابل بنانے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ گذشتہ دنوں جاپان کا پریذنٹ ایوارڈ حاصل کرنے والے 49 ممالک میں سے پاکستان کے واحد شخص ہیں جن کو پانی کے کام کے حوالے سے یہ ایوارڈ ملا ہے۔
دوسری ملاقات میری وائس چیرمین واسا شیخ امتیاز محمود صاحب سے ہوئی جن کا تعلق پی ٹی آئی سے ہیں جو کہ عوام دوست آدمی ہیں ان کے آفس میں ہمیشہ لوگوں کا رش لگا ہوتا ہے اور یہ لوگوں کے واسا کے متعلق کام کرواتے رہتے ہیں۔ ان کا وژن پانی بچانے کے حوالے سے بہت اچھا ہے انہوں نے واٹر پولیس بنانے کے حوالے سے بات کی۔ سوشل موبلائزیشن کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر تاجور سعید اور ڈپٹی ڈائریکٹر فخر حیات وٹو سے ملاقات ہوئی جنہوں نے بتایا کہ اگر ہم پاکستان کے ہر شہری میں یہ شعور اجاگر کرنے میں کامیاب ہو جائیں کہ پانی کیسے بچانا ہے تو شاید ہم کسی ڈیم کے بنانے سے بھی زیادہ پانی بچا سکتے ہیں۔ ہاں اس سب کے لیے حکومتی اداروں کا تعاون بجٹ، گاڑیاں اور لوگ درکار ہوں گے۔ ان کی ٹیم سوشل موبلائزیشن پانی بچانے کے حوالے سے پورے لاہور میں کام کر رہی ہے۔
ان سب سے ملاقات کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ جہاں پانی کے ڈیم بنانے کی ضرورت ہے اس ملک کو سب سے زیادہ ضرورت شاید آگہی اور شعور کی ہے اگر لوگوں تک نہ صرف پیغام پہنچے ان کو اس بات کا بھی پابند بنا دیا جائے کہ وہ اپنے گھر وں میں پانی بچانے کا بندوبست کریں تو میں بھی سمجھتا ہوں کہ ہم پانی کو ایک حد تک بچا سکتے ہیں۔ ہم جہاں ڈیم کے لیے کام کر رہے ہیں حکومت پاکستان کو اس بات پر سوچنا ہو گا کہ پانی کے ذخائر تیزی سے گھٹتے جا رہے ہیں وزیر اعظم پاکستان ماحول دوست انسان ہیں ان کو اس بات پر سنجیدگی سے سوچنا ہوگا ان کو کرنا یہ ہوگا کہ واسا لاہور، واسا راولپنڈی، واسا فیصل آباد کی بجائے واسا پاکستان بنانا ہوگا کیونکہ یہ کسی ایک شہر کا مسئلہ نہیں ہو گا مستقبل میں بلکہ پورے پاکستان کا اجتماعی مسئلہ ہوگا۔
واسا پاکستان ہر شہر شہر گاؤں گاؤں کی حد تک جہاں پر زمین سے پانی نکالا جائے گا وہ اس کا معمولی سا بل لیں گے۔ سیوریج کا نظام پورے پاکستان میں سنبھالیں گے۔ واٹر چارج کا خیال رکھیں گے۔ پورے پاکستان میں جو بھی جہاں بھی پانی ضائع کرتا ہو اس پر جرمانے بھی عائد کرنے ہوں گے۔ ہر گھر جو بنے اس میں ایک واٹر ٹینک نصب کیا جانا چاہیے جس میں بارش کا پانی سٹور کیا جائے اس بارش کے پانی کو پودوں کے لیے استعمال کیا جانا چاہے۔
اس کے علاوہ جو پانی کچن کا استعمال ہوتا ہواس کو فلش ٹینک کے ساتھ ملایا جائے تاکہ صاف پینے کے پانی ضائع ہونے سے بچانا ہوگا۔ ایگری کلچر ملک ہونے کی وجہ سے ہم پورے ملک میں صاف پینے کے پانی کو بے دردی سے استعمال کر رہے ہیں اور کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہے کوئی بھی کہیں بھی کسی سے بغیر پوچھے ٹیوب ویل لگائے گا اور مفت کا پانی استعمال کرے گا۔ ایگری کلچر سیکٹر میں کسان جس فصل کو 400 ملی میٹر پانی سے اُگا سکتا ہے اس فصل پر 4000 ملی میٹر پانی استعمال کیا جا رہا ہے۔
انڈسٹریل سیکٹر ایسے ہی مفت میں پانی کا بے دریغ استعمال کر رہا ہے اور اس صاف پانی کے بدلے وہ پانی کو گندا کرکے پھر ندی نالوں میں ڈال رہا ہے اس حوالے سے میری پہلے ایک ملاقات ڈاکٹر اشرف، جو کہ اس وقت پی سی آر ڈبلیو آر کے چیئرمین ہیں، سے بھی ہو چکی ہے وہ بھی اس بات پر متفق ہیں کہ حکومت کو پالیسی بنانی ہو گی۔ پانی کے حوالے سے کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی استعمال کرنا سکھانا ہوگا۔ کھالوں ندی نالوں کو پکا کرنا ہوگا۔
ڈرپ ایریگیشن اور سپرنکلر ایریگیشن پر ہمیں فصلیں تیار کرنی ہوں گی۔ اگر ہم نے اس پر توجہ نہیں دی تو 2025 تک ہم پانی کی کمی کا شکار ہو جائیں گے۔ پاکستان انڈیا کی اگلی جنگیں بھی پانی پر ہوں گی۔ اب بھی دیکھ لیں۔ جب انڈیا ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا تو وہ ہمارے پانی روکنے کی باتیں کرنا شروع کرتا ہے۔ ہمیں جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا۔ جیسے عمران خان صاحب نے تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرنے کا کہا تھا اب کی بار ہمیں پانی بچاؤ کے لیے ایمرجنسی نافذ کرنی ہوگی۔ کراچی اور کوئٹہ کی صورتحال ہم سب کے سامنے ہے جہاں پانی کے لیے لوگ لڑنے مرنے پر تیار ہو جاتے ہیں جہاں لوگ تین تین کلومیٹر لمبی لائن لگا کر پانی لیٹر کے حساب سے لے کر جاتے ہیں خدا نہ کرے کہ یہ حالات پورے ملک میں آئیں ہم سب کو مل کر اس پر کام کرنا ہوگا۔
جیسے ڈیم کے لیے سابقہ چیف جسٹس ثاقب نثار اور وزیر اعظم عمران خان صاحب نے ڈیم فنڈ کے لیے اپیل کی اب سے ایک قدم اور آگے بڑھانا ہوگا ہمیں اپنے تعلیمی نصاب میں یہ بات شامل کرنی ہوگی کہ کیسے ہم پانی بچا سکتے ہیں اس ملک میں اس وقت نوجوانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے ان سب کو ملا کر ہمیں ایک تحریک چلانی ہوگی۔ پورے ملک میں شعور بیدار کرنا ہوگا۔ یہ واسا کی سوشل موبلائزیشن کی ٹیم اکیلے کام نہیں کر سکتی۔ اس کے لیے سارے نوجوانوں سول سوسائٹی کو سوشل موبلائزر بننا ہوگا۔
شفقت محمود صاحب، ڈاکٹر مراد راس صاحب، اس حوالے سے آپ کو پہلا قدم اٹھانا ہو گا۔ ہماری آنے والی نسلوں کے لیے نصاب میں یہ بات شامل کروانی ہو گی تاکہ بچوں کا اس بات کا احساس دلوایا جا سکے کہ پانی کی کیا اہمیت ہے۔ میں نے یہ تحریر پانی کے عالمی دن 22 مارچ آنے سے پہلے اس لیے لکھی ہے کہ اس دن کو پورے جوش خروش سے ہر سکول میں منانا ہوگا۔ ہمیں سکولوں کے بچوں کی مدد سے پورے معاشرے کو اس بات کا احساس کروانا ہوگا کہ بس اب مزید پانی ضائع نہیں کرنا۔
پانی زندگی ہے اور ہمیں اس زندگی کا خیال کرنا ہوگا۔ اس 22 مارچ کو اگر پورے ملک اور خصوصا پنجاب کے تمام سکولز واٹر مارچ کے طور پر منائیں اور پورے پنجاب اور پورے پاکستان میں پانی کی اہمیت کے حوالے سے تقاریب ہوں، ریلیاں ہوں، پانی بچانے کے حوالے سے ریلیاں نکالی جائیں تو یقین جانیں جب بھی کوئی فرد نہاتے ہوئے، شیو کرتے ہوئے، گاڑی دھوتے ہوئے، برتن دھوتے ہوئے، کپڑے دھوتے ہوئے پانی کا نل کھلا چھوڑے گا تو اس کو پانی کی اہمیت کا احساس ہوگا۔
اور اس 22 مارچ کو اگر جمعہ کے خطبے میں امام مسجد پانی کی اہمیت کے حوالے سے تقاریر اور قرآن پاک کے حوالے سے پانی بچانے کے لیے بتائیں تو اس بات کا بہت مثبت اثر ہمارے لوگوں پر جائے گا۔ آئیں ہم سب آج سے ایک عہد کر لیں ہم نے اس پیغام کو گھر گھر گلی گلی تک پہنچانا ہے اور ہماری آنے والی نسلوں کے لیے پانی بچانا ہے ورنہ 2025 ہم سے دور نہیں ہے۔


