نیوزی لینڈ کا قاتل اور ہمارا مقتول معاشرہ


نیوزی لینڈ میں ایک واقعہ ہوتا ہے جس میں ایک جنونی شخص 5 سے 6 عدد رائفلز اور دھماکہ خیز مواد کے ساتھ ایک مسجد پر حملہ آور ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں 49 مسلمان شہید ہو جاتے ہیں۔ قاتل پورے واقعہ کی وڈیو بنا کر اسے لائیو اسٹریم بھی کرتا ہے، جبکہ قاتل کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک عدد منشور بھی پوسٹ کیا گیا تھا جس میں قتل کا مقصد نفرت بھی ہے اور اس میں مستقبل کے خدشات کا بھی اظہار کیا گیا ہے کہ کس طرح مسلم اور دیگر ممالک سے آنے والے تارک وطن اس کے روزگار اور حق ملکیت کو متاثر کر سکتے ہیں، اس نے اپنی رائفلز پر مختلف تاریخیں اور نام بھی درج کیے ہیں جس کا پس منظر تاریخی ہے اس رویہ کی جس حد تک مذمت کی جائے کم ہے، اس وقت تمام ممالک اپنے ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں اور مسلمانوں سے اپنی یک جہتی کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔

اب ہو گا کیا؟ ہو گا یہ کہ نیوزی لینڈ اب اس سلسلے میں اتنی سخت قانون سازی کرے گا اور ایسے اقدامات کرنے کے لئے اپنی سر دھڑ کی بازی لگا دے گا کہ ایسا واقعہ دوبارہ نہ رونما ہو سکے، اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ وہاں فوراَ ہی گن لاز میں ریفارمز کی باتیں شروع ہو گئی ہیں، اسی طرح کے واقعات امریکہ میں بھی معمول ہیں یہی گن لاز وہاں بھی زیر بحث ہیں، اسوقت وہ لوگ 2 گروپس میں تقسیم ہیں ایک گروپ یہ کہتا ہے کہ اپنی حفاظت کرنا میرا حق ہے جبکہ دوسرا گروپ کہتا ہے کہ یہ کام صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کام ہے، خیر یہ بحث جن اصولوں پر ہے وہ ابھی ہمارے سمجھ میں آنے کی نہیں تو اسے چھوڑ دیتے ہیں، بات یہ ہورہی تھی کہ جب جب ان ممالک میں اس طرح کے واقعات ہوتے ہیں تو یہ ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ اس طرح کے تشدد کو کیسے روکا جائے بلکہ یہ لوگ سائینسی بنیادوں پر پتہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ایسا ہوا ہی کیوں، اُنھوں نے ریسرچ کے مختلف ادارے تک قائم کر رکھے ہیں اسی وجہ سے ہم آج بھی اسکاٹ لینڈ یارڈ کی تفتیش پر یقین کرتے ہیں، امریکی ایف بی آئی اور سی آئی اے سے مدد لیتے ہیں، پاکستان میں ہونے والے کئی جرائم میں ایف بی آئی سے مدد لی گئی ہے، اپنی سوسائیٹی کو محفوظ رکھنے کے لئے وہ جس حد تک جا سکتے ہیں چلے چاتے ہیں، چاہے اپنے ہی شہریوں کی ای میلز ہیک کرنا ہوں یا فون کالز ریکارڈ کرنا ہوں۔

اپنے ملک میں تشدد روکنے کے لئے کسی بھی قسم کے لسانی تعصب، مذہبی جذبات یا سیاسی معاملات کو خاطر میں نہیں لاتے، اور قانون کو کسی بھی حالت میں نافذ کرتے ہیں، گرفتار کر کے سزا دیتے ہیں، حفاظتی تحویل میں نہیں لیتے، یہ ہوگیا گورے کا ردعمل اور ہونے والے اقدامات، ہم چاہے کتنے ہی متعصب ہو جائیں ان سب چیزوں سے انکار نہیں کر سکتے۔

اب آپ ذرا ہمارا کردار ملاحظہ فرما لیں، کل سے پوری قوم صدمے سے دوچار ہے اور سکتے کی کیفیت میں ہے کہ یہ ہمارے ساتھ کیا ظلم ہو گیا ہے، اور پوری قوم اسے علامہ اقبال کی عینک لگا کر ”جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی“ اور ”یہ تہذیب آپ اپنے خنجر سے“ والی بے پر کی کیفیت میں مبتلا نظر آتی ہے، گلا پھاڑ پھاڑ کر ہماری آنکھیں باہر آ گئیں کہ دیکھو دہشت گرد نہیں کہا، ہمارا ہوتا تو فوراَ دہشت گرد بول دیتے، ان کے ڈبل اسٹینڈرڈ ہیں، یہ سب مسلمانوں سے نفرت کرتے ہیں، یہ چاہتے ہیں کہ مسلمان دنیا سے ختم ہو جائیں وغیرہ وغیرہ۔ شام تک جب صورتحال واضح ہوتی ہے، انویسٹیگیشن کسی مقام پر پہنچتی ہے، حملہ آور کا مقصد سامنے آتا ہے تو ہم سناٹے میں آ جاتے ہیں، ہمارا مینار پاکستان روشن رہتا ہے اور ایفل ٹاور تاریکی میں ڈوب جاتا ہے، اُسے دہشت گرد بھی کہ دیا جاتا ہے

ہمارے ہاں ایک کے بعد ایک واقعہ رونما ہوتا چلا جاتا ہے اور ہر نیا واقعہ اتنا سنگین ہوتا ہے کہ ہم پرانا والا بھول جاتے ہیں، لیکن کوئی ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاتا، ہم صرف علما کو ہی جمع کرتے رہ جاتے ہیں کہ مل کر فتوی ہی دے دو، لیکن شومئی قسمت کے سارے علماء اتنی خوں ریزی کے بعد بھی اس پر متحد نہیں ہو سکے کہ مل کر خودکش حملوں یا ملک میں کیے جانے والے کسی بھی حملے کو حرام قرار دے سکیں، منور حسن صاحب کا موقف بھی آپ سب کے سامنے ہے۔

ایک بڑے مزے کا پہلو یہ ہے کہ ہماری سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ آخر ہم مغربی دنیا سے مطالبہ کیا کریں؟ کس تنظیم کے خلاف کارروائی کی بات کریں کیسے اُن کی حکومتوں کو الزام دیں، آخر کیسے اس بات کو ثابت کریں کہ مغرب نے جاب بوجھ کر یہ واقعہ کروایا ہے۔

لیکن جذبات کی آندھی میں اُڑنے والی دھول ہماری آنکھوں سے اُن حقائق کو اوجھل کر دیتی ہے کہ کس طرح ہم نے جنگلی جانوروں کو تربیت دی، اُنکو اپنا ہیرو مانا، ان کو بنانے والوں کو اپنا محسن جانا اور آج تک ہم اُن کو اپنا محسن ہی جانتے ہیں۔ انھی ہیروز کے ہاتھوں ہمارے 70 ہزار پاکستانی مارے جاتے ہیں اور ہم کنفیوز رہتے ہیں کہ اگر میں ان کو مجرم بول دوں تو کہیں میں اسلام کے دائرے سے ہی نہ خارج ہو جاؤں۔ میں کنفیوز ہوں کہ اچھا مجاہد کون ہے۔ ہم اتنے سفاک ہیں کہ ہماری زبان نہیں کانپتی یہ کہتے ہوئے کہ افغان طالبان اچھے ہیں اور پاکستانی طالبان برے ہیں۔

ہم اعتراض کرتے ہیں کہ مغربی ممالک اپنے دہشت گرد کو ذہنی مریض قرار دیتے ہیں جبکہ اگر تشدد کوئی مسلمان کرے تو دہشت گرد قرار دیتے ہیں، بات یہ ہے کہ وہ کیوں ایسا نہ کریں، جب مسلمان دہشت گردی کرتا ہے تو افغانستان، پاکستان یا شام میں بیٹھی ایک تنظیم اس کی ذمہ داری قبول کرتی ہے اور گورے کے پاس پورا جواز ہوتا ہے اُسے دہشت گردی بول کر ایکشن کرنے کا۔ جبکہ مغرب میں کوئی ذمہ داری قبول نہیں کرتا ہے۔ کوئی تنظیم بھی نہیں ہے۔ تو وہ پھر اسے ذہنی مریض نہ بولیں تو کیا بولیں؟

جب کسی غیر مسلم ملک میں کوئی مسلمان بے گناہ ہجوم پر ٹرک چڑھا دیتا ہے تو ہم اللہ اکبر کے نعرے لگاتے ہیں اور اس کا جواز پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، فتوی تلاش کرتے ہیں، یاد رکھیں کہ جن لوگوں نے آرمی پبلک اسکول میں بچوں کو قتل کیا، اُن کے پاس بھی فتوی موجود تھا۔ ہم جانتے ہیں کہ حکیم اللہ محسود، الیاس کاشمیری، عبداللہ محسود، بیت اللہ محسود، فضل اللہ جیسے لوگوں کو ہمارے ہاں کون لوگ اپنے بچے قرار دیتے تھے، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک دوسرے ملک کا ہائی جیکر، قاتل اور دہشت گرد آپ کے ملک کا باعزت شہری ہو، اور اس کی تنظیم کے لوگ ایک امریکی ڈینئیل پرل کا سرکاٹ کر آپ کے آس پاس گھومتے پھرتے رہیں، مسجدوں میں واعظ دیتے رہیں، آپ کے اور میرے بچوں کو بھرتی کرتے رہیں، ان جیسے لوگوں کوہم اپنے ملک میں آزادی سے سارے کام کرنے دیں اور پھر دوسرے ملکوں سے مطالبہ کریں کہ وہ مسلمانوں پر ظلم ہونے سے روکیں، یقین کریں دنیا کو آپ کی بات سمجھ ہی نہیں آئے گی، وہ کہتے ہیں کہ یہ کیسے لوگ ہیں کہ اپنے قاتلوں کو اپنا محسن مانتے ہیں اور ہم سے مطالبہ کرتے ہیں، یہ کیسی قوم ہے۔

مساجد پر حملوں میں پاکستان ورلڈ ریکارڈ رکھتا ہے۔ ہم زمین پر قبضے کی خاطر عیسائیوں کی پوری بستی جلانے کا بھی اعزاز رکھتے ہیں۔ ہمارے علماء کی ایک پوری کھیپ ان واقعات کو جائز قرار دیتی ہے، ہم سفاک اتنے ہیں کہ اسکول میں گھس کر 150 بچے مار دیتے ہیں، مساجد میں خودکش دھماکے کرتے ہیں وہاں مرنے والوں کے سروں سے فٹ بال کھیلتے ہیں ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ کر فخریہ تصویریں بنواتے ہیں، بچوں کے ہاتھ میں اسلحہ دے کر قتل کرواتے ہیں۔ کسی کو قتل کرنے کے لئے صرف اتنا جواز ہی کافی ہوتا ہے کہ اس کا تعلق مخالف فرقے سے ہو۔

وہ تو شاید اپنے ملک میں تشدد روک لیں گے لیکن کیا ہم اپنے ہی سفاک قاتلوں سے جان چھڑانے کو تیار ہیں؟ کیا ہم اُ ن کو قاتل اور مجرم بھی کہنے کو تیار ہیں؟ نہیں بالکل نہیں، ہم انڈیا سے جنگ کرکے 2 ارب لوگوں کی زندگی اور مستقبل خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ لیکن چند مٹھی بھر لوگوں کی خاطر جنہیں ہم اپنا اثاثہ کہتے ہیں، سے جان نہیں چھڑا سکتے، بلکہ خوفناک حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ایک وزیر فرماتے ہیں کہ کالعدم تنظیموں کے افراد کو قومی دھارے میں لایا جائے گا۔

ڈبل اسٹنڈرڈز گوروں کے نہیں ہیں، ہمارے ہیں اور ہم اپنے ہی ڈبل اسٹنڈرڈز کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں اور چڑھ رہے ہیں، آج نیوزی لینڈ میں ہوا ہے، ہمارے ہاں بہت مرتبہ ہوتا رہا ہے، اگر ہم نے اب بھی سبق نہ سیکھا تو کیا ہو سکتا ہے، اُسے کیا اب بھی سمجھانے کی ضرورت ہے؟ پہلے اپنا گھر ٹھیک کیجیئے اُ س کے بعد دوسروں سے مطالبہ کریں، پہلے قرآن خود پر نافذ کریں، پھراُسکے ریفرینس پوسٹ کریں، دنیا آپ کی بات قرآن دیکھ کر نہیں آپ کا عمل دیکھ کر مانے گی اور عزت کرے گی، ورنہ تو ہم پہلے ہی اپنے دین کو بہت رسوا کر چکے۔

نوٹ: اس پورے مضمون کا تعلق کسی بھی طریقے کی بین الا اقوامی سیاست سے نہیں ہے، اس کا تعلق اس معاشرت سے ہے جو ہم نے اپنے ملک میں اور گورے نے اپنے ملک میں قائم کی ہے، تو برائے مہربانی اس کے مقابلے میں افغانستان اور عراق پر کیے جانے والے حملوں کا ذکر مت کیجیئے گا، وہ بالکل الگ موضوع ہے۔

Facebook Comments HS