کیا کرائسٹ چرچ واقعے سے دنیا کچھ سیکھے گی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہر شکاری جانور ایک بنیادی صفت رکھتا ہے کہ وہ بہت کم اپنی ہی نسل اور قبیلے کا شکار کرتا ہے۔ سینڈ ٹائیگر شارک، برفانی ریچھ، مکڑے اور کچھ دوسری ایسی اقسام ہیں جو اپنی بھوک مٹانے کے لئے ایسا کرتے ہیں۔ مگر ایسے جاندار جو اپنے علاقے کے بارے میں بہت ملکیتی جذبات رکھتے ہیں اس میں مگر مچھ جیسی مخلوق ہے۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ ریپٹائیلز میں یہ خاصیت موروثی چلی آتی ہے کہ وہ متعلقہ چیزوں کے بارے میں بہت حساس اور غصیلے ہوتے ہیں۔

مگر عبادت گاہوں، اجتماعات اور عوامی مقامات پہ انسانوں کا قتل عام کرنے میں کسی جانور کا حصہ نہیں ہے۔ جانور آپ پہ تبھی حملہ آور ہوتا ہے کہ جب اس کی جان کو آپ سے خطرہ ہوتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ انسان کیوں دوسرے انسانوں کے بارے میں اتنے متشدد رویئے رکھتا ہے؟ اسے دوسرے انسان سے کیا خطرہ ہو سکتا ہے کہ مارنے اور مر جانے کو برا سمجھتا ہی نہیں۔ آخراس نفرت کے قاعدے سے نسل انسانی نے اب تک کتنے محاز فتح کر لئے ہیں۔

دہشت اور نفرت کے بیانیے سے لوگوں میں عدم برداشت کے علاوہ کوئی مثبت رویہ تو پروان چڑھ نہیں سکا۔ جب انسان جانوروں کی طرح خود کو خونخوار بناتے جائیں گے تو پھر تہذیب کے صفحے سے انسانیت کے لئے محبت اور احترام جیسے الفاط کا کیا جواز رہ جائے گا۔ کسی بھی انسان یا پھر گروہ کا نظریہ بزور بازو نافذ کرنا ناممکن ہے۔ جبکہ قتل و غارت گری سے مزید نفرت ہی پھیلے گی، جس کا خمیازہ اب تک پوری دنیا کے انسانوں نے بھگتا ہے۔ پھر اس میں معصوم اور غیر معصوم دونوں ہی لقمہ اجل بنتے ہیں۔

کوئی بھی سفاک عمل کہ جس سے انسانوں کے بیچ خوف و ہراس پھیلتا ہے، اس کی اجازت کوئی بھی معاشرہ نہیں دے سکتا۔ کرسٹ چرچ میں ہونے والے افسوسناک اور دردناک واقعے نے پوری دنیا کے امن پسند باسیوں کو ہلا کے رکھ دیا ہے۔ خاص کر جس انداز سے سوشل میڈیا پہ ویڈیو کو نشر کیا گیا اور پھر لوگ اسے وائرل بناتے رہے، یہ سب اسی نفرت کا آئینہ دار ہے کہ جس سے آج تمام انسان متاثر ہو رہے ہیں۔ جو لوگ ویڈیو شیئرنگ کرتے رہے وہ دراصل ٹیرنٹ کے نسل پرستی اور نفرت بھرے منشور پہ عمل کرتے ہوئے لوگوں کو ڈراتے رہے۔

کل سے تمام دنیا کا اور بالخصوص مغربی میڈیا جہاں اس کے اسباب پہ بات کر رہا ہے، وہیں نفرت کے اس بیانیے پہ بھی بات ہونے لگی ہے کہ جس نے کبھی نسل پرستی کا خول چڑھایا ہوا ہوتا ہے تو کبھی مذہب کا روپ دھارا ہوا ہوتا ہے۔ ہم نے بحیثیت انسان نفرت کی بہت بڑی قیمت چکائی ہے۔ ایشیائی ممالک اور یورپی ممالک میں ایک امتیازی لکیر جو پہلے سے ہی موجود رہی ہے وہ ایسے واقعات سے مزید ابھر آتی ہے اور پھر اسے کئی طرح کے نام دیے جاتے ہیں۔

ایسے میں گلوبل ولیج اجنبی خطوں اور قوموں کی بستی بن جاتا ہے۔ انسانوں کی مختلف نظریات کے تحت تقسیم نے نفرت کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کیا اب اس میں اضافہ یہ ہو گیا کہ سفید، سیاہ اور گندمی رنگوں کے علاوہ مذہب کا عنصر بھی شامل ہو گیا ہے یا پھر پہلے سے موجود تعصب نے سائیبر سہولت کو اپنا کر یہ کام تیز کر دیا۔

دو مساجد پہ ہونے والے حملے دراصل مغربی ممالک میں موجود انتہائی دائیں بازو کے حامیوں کی جانب سے ایک منصوبہ بند کارروائی نظر آئی ہے۔ اس سے پہلے دہشت گردی کے ہر واقعے کو ایشیائی اور بالخصوص اسلامی ممالک سے جوڑا جاتا رہا ہے، لیکن اب کی بار اتنے بڑے پیمانے پہ قتل و غارت گری کی واردات اس ملک میں نظر آئی ہے کہ جو محفوظ ترین ملک سمجھا جاتا ہے۔

برینڈن ٹیرنٹ نامی آدمی جو آسٹریلوی شناخت رکھتا ہے، اس پہ قتل کا مقدمہ دائر ہو چکا ہے، وہ پولیس کی تحویل میں ہے۔ لیکن 87 صفحات پہ مشتمل اس منشور کا کیا ہو گا کہ جس میں مہاجرین اور بالخصوص مسلمانوں کے بارے شدید نفرت کا اظہار کیا گیا ہے۔ کتنے لوگ اس منشور کے حامی ہوں گے۔ نفرت اور تعصب کا پرچار یا جارحیت کا راستہ کبھی امن پسندی کی طرف جاتا ہی نہیں۔ انسانوں کو خوف کی حالت میں مبتلا کر کے جو بھی مقاصد حاصل ہوں مگر نفرت کا بدلہ نفرت اور پھر مزید نفرت کا یہ تسلسل ایک بڑی تباہی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔

یہ فکر بھی ہونی چاہیے کہ کسی بھی مذہب یا سماج میں موجود شدت پسند ذہنیت کی حوصلہ افزائی ممکن نہیں۔ اس کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ نفرت کے بیج سے نفرت کی فصل ہی اگائی جا سکتی ہے، ہر مذہب اور ہر مکتب محبت اور برداشت کے بنیادی فلسفے کا درس دیتا ہے یہ اور بات ہے کہ انسان اپنی درندگی کی علامت کو کسی نہ کسی بہانے ظاہر کرتا ہے۔

نیوزی لینڈ کی حکومت اور عوام نے جس طرح اس واقعے کی مذمت کی اور مہاجرین کے بارے میں اپنے دلی جذبات کا اظہار کیا ہے، وہی اصل عکس ہے کہ جو کسی بھی قوم کی حقیقی ترجمانی کرتا ہے، ورنہ برینڈن ٹیرنٹ دراصل اس جارحانہ ذہنیت کا نمائندہ ہے جو دیگر کئی معاشروں کے اندر بھی کہیں نہ کہیں موجود ہوتی ہے۔ ایسی متشدد سوچ کس طرح فروغ پاتی ہے، وہ کون سے عوامل ہیں جو ایسے خیالات کو تقویت دیتے ہیں یہ ایک الگ بحث ہے۔ مگر دنیا کو اس وقت یہ کام کرنا ہے کہ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کی باتوں کو دھیان سے سنے، آٹو میٹک اسلحہ کے لئے قانون سازی ہونی چاہیے، روایتی ہتھیاروں کو آٹو میٹک ہتھیاروں میں تبدیل کرنے کے بارے میں جو چھوٹ حاصل ہے، اسے کیسے ختم کرنا چاہیے۔

کیونکہ کسی بھی دہشت گردی کے واقعے میں سب سے زیادہ نقصان دہ آٹو میٹک اسلحہ ہے، اسلحہ بردار آسانی سے گرفت میں نہیں آتا۔ جبکہ اس دوران کئی افراد کو مسلسل موت کا شکار کرتا رہتا ہے۔ گرفتار آسٹریلوی شہری جو دنیا میں گھومتا رہا اور تاریخ کے بارے میں کافی معلومات رکھتا ہے، آخر اس نے یہ سفاکانہ اور غیر انسانی کام کیوں کیا، اس نے مسلمانون کا انتخاب کیوں کیا، اس ملک میں کہ جہاں مسلمان آبادی کافی کم تعداد میں ہے۔

وہ دبئی سے بلغاریہ گیا، پھر بخارسٹ، ہنگری اور متعدد مقامات گھوما، تو کیا دبئی میں اس کے لئے سافٹ ٹارگٹس نہیں تھے۔ بندوق پہ درج سیریلیک سکرپٹ کی تحریر کا تاریخی پس منظر بھی ہے۔ جنگی جدوجہد جو عثمانیہ عہد اور بلغاریہ کے تاریخی حوالوں پہ مبنی تھی، ان حوالوں کا مقصد لوگوں کی توجہ مبذول کرانا ہو سکتا ہے۔ یعنی اس طرح نفرت کی بنیاد کو بیان کرنا تھا۔ اس طرح یورپ میں مسلمان مہاجرین کی موجودگی ہی اس واقعے کی بڑی وجہ تھی یا پھر سفید فاموں کی برتری جیسی خواہش اس ”نسلی قوم پرستی“ کے پیچھے کھڑی ہے۔ دنیا کو وزیر اعظم جسینڈا آرڈرن کی ہر ہر بات کو سننا چاہییے کیونکہ اس وقت وہ اپنے ملک کے امن کے بارے میں سب سے زیادہ فکرمند ہیں۔ جیسے کہ انہوں نے امریکی صدر کی طرف سے ہونے والی مدد کی پیشکش پہ انہیں کہا کہ ”آپ پوری مسلم کمیونٹی سے ہمدردی اور یک جہتی کا اظہار کریں“۔

ہم سب کو یہ جاننا چاہیے کہ نفرت آمیز بیانات سے گریز کریں، یقین کریں کہ گزشتہ دن سی این این کی طویل نشریات میں آنے والے مختلف قومیت کے لوگوں نے اس واقعے کی انتہائی مذمت کی۔ سیاہ فام یورپینز اور امریکی بھی عدم تحفظ کا اظہار کرتے نظر آئے۔ مہذب دنیا کے لئے ایسے واقعات کی کوئی گنجائیش نہیں ہو سکتی۔ جو زور اور وسائل The Great Replacement جیسے نفرت انگیز مواد کی نشرو اشاعت پہ صرف ہوتا ہے اس کا نصف بھی اگر بین المذاہب ہم آہنگی اور برداشت پہ لگے تو دنیا رہنے کے لئے اب بھی بہترین جگہ بن سکتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •