موت سے آنکھ مچولی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

افغانستان سے خبریں آرہی ہیں کہ سالہا سال بعد وہاں امن قائم ہونے کو ہے۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ 17 برس کے بعد اب وہ وہاں سے امریکی فوجوں کو نکال لیں گے۔ قطر میں 16 دن تک امن بات چیت کرنے والے ملا عبدالغنی برادر سے صرف افغانی نہیں، پاکستانی بھی بہ خوبی واقف ہیں اس لیے کہ پچھلے برس وہ پاکستان کی جیل سے چھوٹ کر گئے ہیں۔

افغان ان کے اثر و رسوخ سے بہ خوبی واقف ہیں اور اس لیے ان کے دورِ اقتدار میں خواتین گھروں میں قید رکھی گئیں۔ لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی لگی، موسیقاروں اور گلوکاروں کے ساتھ بہت برا سلوک ہوا۔ کابل کے فٹ بال اسٹیڈیم میں لوگوں کو برسر عام سخت سزائیں دی جاتی تھیں جن میں ہاتھ کاٹنا، گردن اڑا دینا اور دوسری وہ سزائیں شامل تھیں جنھیں باہر کی دنیا میں غیر انسانی خیال کیا جاتا تھا۔

قطر میں جب سے افغانستان میں جنگ بندی اور غیر ملکی افواج کے انخلا کی بات چل رہی ہے، اس وقت سے تعلیم یافتہ اور جدید خیالات رکھنے والے افغان بہ طور خاص افغان عورتوں کا دم لبوں پر ہے۔ وہ نہیں جانتیں کہ آنے والا وقت ان کے لیے کن عذابوں کو لے کر آرہا ہے۔ افغانستان میں رہنے والوں نے خواہ وہ پشتون، ہزارہ، تاجک، ازبک یا کسی بھی قومیت سے تعلق رکھتے ہوں، انھوں نے 1979 سے جو دربدری اور کسمپرسی کی زندگی گزاری ہے، وہ وہی جانتے ہیں۔ ان کی نسلیں تباہ ہوگئیں، وہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جنھیں طب، انجینئرنگ یا کمپیوٹر سائنس میں آگے جانا تھا، وہ یا مارے گئے یا پاکستان، ایران اور مغرب کے ملکوں میں بے زمین و بے آسمان زندگی گزارتے رہے۔

میں ذاتی طور پر ان افغان گھرانوں کو جانتی ہوں جنہوں نے اپنے لیے اور اپنے ملک کے لیے سنہرے خواب دیکھے تھے لیکن ان میں سے بیشتر کے خواب بکھر گئے۔ کچھ شدید ڈپریشن کا شکار ہوئے اور کچھ ان ملکوں میں روزی کمانے پر مجبور ہوئے جہاں ان کی جڑیں نہ تھیں۔ ایسی لڑکیاں بھی تھیں جو اعلیٰ گھرانوں سے تعلق رکھتی تھیں، جنہوں نے امریکا سے لینگیوسٹکس میں ایم ایس کیا تھا اور پھر اپنے خاندان اور احباب کے بکھراؤ سے گھبرا کر روزی کمانے کے لیے سپر اسٹورز پر سیلز ویمن ہوئیں۔

وہ افغان جو کھیتی باڑی کرتے تھے اور مویشی پالتے تھے، آج یہ سوچ کر ہراساں ہیں کہ اگر ان کے ملک میں واقعی امن قائم ہوگیا اور وہ اپنے باغات اور کھیتوں میں کام کرنے کے لیے نکلے تو وہ، ان کے بچے اور ان کی مدد کرنے والے کاشتکار کس طرح محفوظ و مامون رہیں گے۔ بیسویں صدی کے نصف آخر میں ترقی یافتہ ملکوں نے بارودی سرنگوں کا وہ مہلک ہتھیار بنایا جس نے تیسری دنیا کے ان ممالک میں موت کے بیج بو دیے، جن پر جنگ مسلط کر دی گئی تھی۔

افغانستان، گوئٹے مالا، صومالیہ، موزمبیق، عراق اور کئی دوسرے ملکوں کی مٹی میں سوتی ہوئی اس موت کے بارے میں اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ موجودہ ٹیکنالوجی کے ذریعے اسے اگر دنیا سے مکمل طور پر ختم کرنے کی کوشش کی جائے تو اس کام میں گیارہ سو برس لگیں گے۔ زمین اور پیڑوں کی جڑوں میں چھپائی جانے والی یہ سرنگیں کبھی انسانوں کو ہلاک کر دیتی ہیں اور کبھی ان کے ہاتھ اور پیر ساتھ لے جاتی ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں کے درمیان 11 کروڑ سے زیادہ سرنگیں بچھائی گئیں جب کہ 108 ملکوں میں ان کا ذخیرہ 25 کروڑ تک پہنچتا ہے۔ 2003 تک ہر سال کروڑوں بارودی سرنگیں تیار کی جاتی تھیں لیکن ان کے خلاف چلنے والی مہم سے ان کی پیداوار میں نمایاں کمی ہوئی۔ اس کی مخالفت میں شہزادی ڈیانا نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اسی طرح ہالی ووڈ کے کئی اداکاروں اور اداکاراؤں نے بھی اس کی پیداوار روکنے کی مہم چلائی۔

یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ 2015 ء سے اس کی پیداوار اور پھیلاؤ بڑی حد تک کم ہوگیا ہے۔ 1975 سے اب تک 10 لاکھ لوگ اس کا شکار ہوئے ہیں۔ ان میں باغوں اور گلیوں میں کھیلنے والے بچے، گھاس پھونس چرتے ہوئے مویشی اور کھیتوں میں کام کرنے والے کاشتکار بہ طور خاص ان کا نوالہ ہوئے ہیں۔ امن کے لیے آواز بلند کرنے والوں کی یہ بڑی کامیابی ہے کہ اس وقت صرف 58 ملکوں میں یہ سرنگیں موجود ہیں اور ان کی تعداد میں بھی بہت کمی ہوئی ہے۔

اگر افغانستان سے امریکی اور دوسری غیر ملکی فوجیں نکل جاتی ہیں اور افغانیوں کو اپنے وطن واپس لوٹنے کا یا جو لوگ افغانستان میں موجود ہیں، انھیں آزادانہ کام کرنے کا موقع ملتا ہے تو ان کے لیے لاکھوں کی تعداد میں پوشیدہ یہ بارودی سرنگیں سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ وہ ان سے کس طرح نمٹیں گے، انھیں یہ بات معلوم نہیں۔ ان سرنگوں کو ناکارہ بنانے والوں کی تعداد کم ہے اور ہم نہیں جانتے کہ ان میں سے کتنے افغانستان بھیجے جائیں گے۔

اس موقع پر ریگوبرٹا کی یاد آتی ہے جنہوں نے اپنے لوگوں کے لیے زندگی کی تمام خوشیاں تج دیں۔ افغانستان میں حقیقی امن قائم کرنے کے لیے ہمیں ریگوبرٹا، جوڑی ولیمز جیسے بہادر اور بے لوث انسانوں کی ضرورت ہے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ زمینی بارودی سرنگ دوسرے ہتھیاروں سے اس لیے مختلف ہے کہ ایک بار یہ زمین میں دبادی جائے اور دبانے والا سپاہی اس کو چھوڑ کر چلا جائے تو یہ ایک فوجی اور شہری میں، ایک عورت اور بچے میں، اور ایک بوڑھی دادی اماں میں، جو گھر کا چولہا جلانے کے لیے لکڑیاں چننے نکلی ہو، تمیز نہیں کرسکتی۔

مشکل یہ ہے کہ فوجی نقطۂ نگاہ سے جنگ کے دوران کسی ایک دن، ایک یا دو ہفتے، بلکہ اگر جنگ طویل ہوجائے ماہ دو ماہ تو اس ہتھیار کے استعمال کرنے کا جواز ہوسکتا ہے مگر جنگ بندی کے بعد بارودی سرنگ امن کے دنوں یا زمانوں کا ادراک نہیں کرسکتی۔ بارودی سرنگ ہمیشہ، ابدالآباد تک، شکار کے لیے تیار رہتی ہے۔ عام لفظوں میں، بارودی سرنگ مستعد ترین سپاہی ہوتی ہے، یعنی دائمی چوکی دار کا کام کرتی ہے۔ جنگ ختم ہوجاتی ہے مگر بارودی سرنگ موت کا کھیل جاری رکھتی ہے۔

اس وقت کمبوڈیا میں چالیس سے ساٹھ لاکھ تک زمینی بارودی سرنگیں ملک کے پچاس فیصد علاقے میں پائی جاتی ہیں۔ افغانستان میں غالباً نوے لاکھ زمینی بارودی سرنگیں بچھی ہوئی ہیں۔ امریکی فوج کے مطابق، افغانستان پر روسی فوجوں کی یلغار کے دنوں میں پورے ملک میں تین کروڑ کے قریب زمینی بارودی سرنگیں بچھائی گئی تھیں۔ سابقہ یوگوسلاویہ میں چند سالہ لڑائی کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں ساٹھ لاکھ زمینی بارودی سرنگیں بچھائی گئیں۔ انگولا میں نوے لاکھ، موزمبیق میں دس لاکھ، صومالیہ میں دس لاکھ۔ میں اس طرح گناتی گئی تو آپ اُکتا جائیں گے۔

جب ICRCنے 1970 دنیا کے تمام ملکوں پر زور دیا کہ وہ بلا امتیاز افراد کو زخمی اور اپائج کرنے والے ہتھیاروں پر پابندیاں بڑھانے پر غور کریں تو زمینی بارودی سرنگوں پر پابندی کی بہت کم حمایت کی گئی۔ کئی برسوں کی گفت و شنید اور معاملت کے نتیجے میں 1980 کا Convention on Conventional Weapons وجود میں آیا۔ یہ معاہدہ زمینی بارودی سرنگوں کو ضابطے میں لانے میں معاون ہوا تھا۔ جب کہ یہ اجتماع کمان داروں کو یہ بتانے کی کوشش کررہا تھا کہ کب اس ہتھیار کا استعمال صحیح ہوگا اور کب صحیح نہیں ہوگا، اس نے ان کو دورانِ جنگ اس قانون کے اطلاق کے بارے میں فیصلے کرنے کی بھی اجازت دی تھی۔

سوویت بلاک کے انہدام کے ساتھ، لوگوں نے جنگ اور امن دونوں کو بدلے ہوئے انداز میں دیکھنا شروع کردیا۔ اور لوگوں نے اس پر بھی غور شروع کردیا کہ جوہری بربادی کے مہیب خطرے کے امکانات کی عدم موجودگی کی صورت میں سرد جنگ کے دوران لڑائیاں کس طرح لڑی جاتی تھیں۔ تب انھیں پتہ چلا کہ اُس دور میں لڑی جانے والے اندرونی لڑائیوں میں سب سے پرفریب ہتھیار افراد کُش زمینی بارودی سرنگ تھا جو کثرت سے استعمال کیا جاتا تھا۔ اور یہ بھی کہ اس نے ایک بھیانک وبا کی صورت میں پورے کرۂ ارض کو آلودہ کردیا ہے۔

افغانستان میں اگر امن قائم ہوجاتا ہے تو دُنیا افغانوں کی کس طرح مدد کرے گی کہ وہ بارودی سرنگوں سے نجات حاصل کرسکیں اور جنگ بندی یا فوجوں کی واپسی کے بعد بھی ان کے بچے اور مویشی موت سے آنکھ مچولی نہ کھیلیں۔
بشکریہ ایکسپریس۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •