نئے پاکستان میں چرسیوں کا مستقبل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نشے میں مبتلا چرسی بھی ایک زمانہ میں عام انسانوں کی طرح ماں کے پیٹ سے باہر آنے کے بعد اپنی ماں کا دودھ پیا کرتا تھا مگر افسوس کہ وقت و حالات نے اسے چرس پینے پر مجبور کر دیا کیونکہ برا وقت ان چرسیوں کو بتا کر نہیں آیا۔

جناح یونیورسٹی کراچی میں منشیات کے استعمال کے خلاف منائے جانے والے عالمی دن کے موقع پر بتایا گیا کہ پاکستان میں منشیات استعمال کرنے والوں کی تعداد میں ہر سال چالیس ہزار نئے افراد کا اضافہ ہو رہا ہے جبکہ ہماری کل آبادی کے تین اعشاریہ چھ فی صد افراد چرس پیتے ہیں۔ ہر فرد کو منشیات کے استعمال کے لیے روزانہ 150 روپے کی ضرورت ہوتی ہے جس کی بنا پر ملک میں روزانہ 11 ارب روپے مالیت کی منشیات استعمال کی جاتی ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 76 لاکھ سے زائد افراد منشیات کا استعمال کرتے ہیں جن میں 78 % مرد اور 22 %خواتین شامل ہیں

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کو منشیات کے استعمال سے کس طرح روک سکتے ہیں۔ جس کے لیے ضروری ہے کہ منشیات فروشوں کی پکڑ اور روک تھام کے علاوہ منشیات استعمال کرنے والوں کی ذہنی کیفیت اور ان کے درد کو سمجھا جائے، ناکہ انہیں چرسی/ ملنگ کہہ کر اپنے مہذب معاشرے سے رد کر دیا جائے کیونکہ چرسی بھی غیر چرسیوں کی طرح اپنی زندگی کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے دن رات سوچتا ہے اور کوشش بھی کرتا ہے کیونکہ چرسی بھی عام انسانوں کی طرح مختلف پریشانیوں کا شکار ہوتا ہے۔

پاکسان کا واحد رجسٹرڈ چرسی کا نام نثار چرسی ہے جو صاف جواب دیتا ہے کہ ’ہم خود چرس پیتا ہے اس لئے نام چرسی لکھتا ہے‘ نثار نے اپنے والد کی وفات کے بعد دکان کا چارج سنبھالا اور تیس سال دن رات کی محنت سے یہ مقام حاصل کیا کہ اب یہ معمولی سی دکان باقاعدہ طور پر ایک نامور ریسٹورنٹ کی شکل اختیار کر چکی ہے جس کا نام ’شیش محل‘ ہے۔

نئے پاکستان میں تمام نشے میں مبتلا چرسی احباب وزیر اعظم عمران خان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمیں ملنگ ظاہر کر کے دیوار سے مت لگایا جائے کیونکہ ہم چرسی بھی غیر چرسیوں کی طرح ماں بہنوں، باپ بھائیوں اور بیوی بچوں والے ہوتے ہیں اس لیے ہم چرسیوں کو بھی مین سٹریم میں آنے کی اجازت دی جائے، اور خان صاحب کو یہ بھی واضح کردینا چاہتے ہیں کہ ہمارا چرسی طبقہ غیر چرسیوں کی جانب سے دکھاوے والی عزت کا بالکل طلب گار اور بھوکا نہیں کیونکہ چرسی کا ایمان ہے کہ عزت اور زلت دینے والی صرف خدا کی ذات ہے۔

اے گردشو تمہیں ذرا تاخیر ہو گئی

اب میرا انتظار کرو میں نشے میں ہوں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •