نیوزی لینڈ حملے کے ردعمل میں کارفرما نفسیات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تربیت ہی آدمی کو انسانیت کے رتبے پر فائز کرتی ہے۔ ایک غیر تربیت یافتہ ذہن کبھی بھی تربیت یافتہ ذہن کا مقابل نہیں بن سکتا۔ اسی کو قرآن میں یوں کہا گیا ہے کہ ”اے نبی، کہہ دیجیے کیاعلم رکھنے والے اور علم نہ رکھنے والے برابر ہوسکتے ہیں۔ نصیحت تو وہی حاصل کرتے ہیں جو عقل والے ہیں۔ ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ہماری تربیت انسانی اقدار پر نہیں ہوئی ہے۔ ہم نے غم اور خوشی کو خانوں میں بانٹ رکھا ہے چاہے وہ مذہب و مسلک کے خانے ہوں یا ذات پات اور رنگ نسل کے۔

ہم عموماً دکھ تب ہی محسوس کرنے کی زحمت کرتے ہیں جب ہمیں خود کوئی زخم پہنچتا ہے بصورت دیگر ہم بے حسی کا عظیم مظاہرہ کرتے ہیں۔ آج ہم مغرب پر تو تنقید کررہے ہیں کہ وہ دہشت گرد اور ذہنی مریض کہہ کرفرق روا رکھتا ہے، مگر دل پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائیے، کیا ہم اپنے ہی لوگوں کو کافرکہہ کر فرق روا نہیں رکھتے۔ نیوزی لینڈ کا سانحہ بلا تخصیص مذہب و ملت پوری امت مسلمہ کا غم ہے۔ لیکن ہم نے دیکھا کہ ہم سے زیادہ سلیقے سے دکھ کا اظہار انہوں نے کیا جو ریاست کے ماں ہونے پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم نے کیا کیا؟ ہم نے ایک دوسرے پر تنقید کی کہ آپ نے مذمت کیوں نہیں کی؟ یا آپ فلاں کی مدح کیوں کررہے ہیں۔

ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ ہم ایک منتشر معاشرے میں رہتے ہیں جہاں متوازن رویوں کی توقع کرنا ہی فضول ہے۔ ہم اپنے حاکموں پر تو نظر رکھتے ہیں کہ وہ کیا کررہے ہیں لیکن کبھی خود اپنے گریبان میں نہیں جھانکتے۔ اور حاکموں پر بھی نظر رکھ کر ہم نے کون سا تیر مار لیا ہے۔ آج بھی وہی چور لٹیرے اچکے ہی ہمارے حکمران ہیں جو ہمیشہ سے تھے۔ بوتل ایک ہی ہے ہر بار ایک نیا لیبل لگ جاتا ہے اور ہم اسے ولایتی شراب سمجھ کر پی جاتے ہیں۔ حالانکہ یہ وہی شراب ہے جو ہمارے معدوں میں زہر بن کر اترتی ہے اور اندر سے ہمیں قتل کرتی چلی آئی ہے۔

نیوزی لینڈ کی انٹیلی جنس سے سوال کیا جارہا ہے کہ وہ کہاں سوئے ہوئے تھے اور مذاق یہ ہے کہ یہ سوال اس ملک کے لوگ کررہے ہیں جہاں آئے روز ایک انٹیلی جنس فیلیئر ہوتا ہے۔ ابھی ساہیوال کا واقعہ پرانا تو نہیں ہوا۔ ہمارے وزیر اعظم نے کہا تھا کہ میں قطر سے آکر انصاف کروں گا۔ اس کے بعد ان سے اتنی زحمت میں بھی نہیں ہوئی کہ چل کر متاثرین کے گھروں کو چلے جاتے۔ وزیر اعظم کے پاؤں میں مہندی نہیں لگی تھی ”لیکن تربیت کے فقدان نے انہیں یہ سوچنے کا موقع نہیں دیا کہ جہاں قتل ہوجائے، وہاں جایا جاتا ہے، انہیں بلایا نہیں جاتا۔ یہی کچھ ایک زمانے میں خادم اعلیٰ بھی کرتے رہے ہیں، معصوم زینب کے والد کو ساتھ بٹھا کر باہر نکلنے والی بتیسی بتا رہی تھی کہ اس معصوم پر گزرنے والی قیامت کا دکھ ہونا تو درکنار، انہیں یہ تمیز بھی نہیں ہے کہ بحیثیت حاکم انہیں کم از کم افسوس کا اظہار کرنے کی اداکاری کرنی ہے۔

آج کی تاریخ میں حکومت نے سوشل میڈیا کے دباؤ پر آنے والے دن پرچم سرنگوں کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس حکومت کی اچھی بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا کا نوشتہ دیوار پڑھ لیتی ہے۔ لیکن سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ وہ حاکم جنہوں نے قوم کی سمت کا تعین کرنا ہے، یہ قوم کب تک ان عقل کے اندھوں کو ہاتھ پکڑ پکڑ کر راستہ دکھاتی رہے گی اور راستہ بھی وہی قوم دکھا رہی ہے جو اپنے محلے میں کچھ مخصوص گھروں کا پانی تک نہیں پیتے کہ وہ ان کے مسلک سے تعلق نہیں رکھتے۔

میں اور میرے کچھ دوست اس زنگ آلود گھٹن زدہ معاشرے کے نوحہ گر ہیں اور ہم نے اپنا یہی روزینہ بنا رکھا ہے کہ اس ملک کے عوام اور ان سے جڑے ہر معاملے پر اپنی اپنی بیاض میں سے ایک مرثیہ نکالیں اور اسے اپنی اپنی دیوارِ گریہ پر دے ماریں کہ شاید وہاں سے یہ کسی ذہن پر اثر کرجائے۔

میرے لیے نیوزی لینڈ کا سانحہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا کراچی کا عاشورہ، بارہ ربیع الاول، پشاور کا اے پی ایس اور چرچ حملہ، پنجاب کی لٹتی عصمتیں اور بلوچستان کی گمشدہ لاشیں۔ میں اس واقعے کو افغانستان، عراق، شام، یمن، بحرین، فلسطین اور کشمیر سے ہٹ کر ظلم نہیں سمجھتا۔ ظلم کی ایک داستاں ہے جو تاریخ کے پردوں میں چھپے خوں آشام ہاتھ رقم کرتے چلے آئے ہیں۔ میرے لیے انسانی خون کل بھی محترم تھا اور آج بھی محترم ہے اور آنے والے کل میں بھی محترم رہے گا۔ میں اسے مذہب ومسلک کے خانوں میں نہیں بانٹتا لیکن افسوس کے ہمارا معاشرہ ایسا ہی کرتا ہے۔ میں اور میرے جیسے کچھ اور نوحہ گر یہ چاہتے ہیں کہ کم از کم ہمارے معاشرے میں سے لہو کی دھار کا قبلہ دیکھ کر مذمت کرنے کی روایت ختم ہونی چاہیے۔

اس کرہ ارض پر کہیں بھی کوئی انسان مارا جاتا ہے تو فقط اس انسان کا قتل نہیں بلکہ ہزاروں سال کے اس ارتقائی سفر کا قتل ہوتا ہے جس میں انسان نے جنگلوں اور غاروں سے نکل کر مہذب شہروں میں رہنا سیکھا ہے۔ آج کی اس مہذب دنیا میں بھی اگر کوئی بھی شخص کسی انسان کے خون کا پیاسا ہے تو وہ شخص ہمیں آئینہ دکھا رہا ہے کہ ارتقا کے اس سفر میں کہیں نہ کہیں کچھ غلطی ہوگئی ہے اور ہمیں اس غلطی کو درست کرنا ہوگا، اپنی اور اپنے ہم وطنوں کی تربیت کرنا ہوگی کہ تربیت ہی وہ واحد شے ہے جو آدمی کو انسان بناتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •