استاد طالب حسین درد کی یاد میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تھل کے صحراؤں میں اڑتی ہوئی ریت درختوں کے پتوں سے لپٹ لپٹ کے رو رہی ہے۔ جھنگ کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگی ہوئی ہے۔ اس کے گاوں خانوآنہ کے گھروں میں چولہوں کی راکھ درد کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ ہر طرف سے ایک ہی آواز فریاد بن کے سنائی دے رہی ہے۔

بابا طالب حسین درد چلے گئے

انہوں نے مالکونس ایمن کلیان بھیم درباری بھرویں نجانے کس کس راگ کو الاپا اور گایا مگر جوگ کا بادشاہ کہلایا

مجھے نہیں معلوم راگ جوگ اس کے لیے تخلیق ہوا تھا یا وہ راگ جوگ کے لیے مگر یہ طے ہے کہ اب راگ جوگ تو سنائی دے گا مگر اس کا جوگ سنائی نہیں دے گا

انہوں نے جوگ کو روگ کی عجیب کیفیت میں گایا۔ وہ جوگ کا الاپ ایک جادوگر کی طرح اٹھاتا۔ مجمع آنسوؤں سے تر ہو جاتا اور صبح کی اذان تک آنکھیں سمندر بن جاتیں۔ لوگ لال آنکھیں لئے گھروں کو روانہ ہوتے

نجانے کب سے وہ تھل کے صحراؤں میں یہ جادوگری دکھا رہا تھا

خاور سیال مرحوم کی خواہش کے آگے میں نے ہتھیار ڈالتے ہوئے منصور علی ملنگی مرحوم، اللہ دتہ لونے والا اور طالب حسین درد کے میوزیکل ٹریک بنا دیے۔ طالب حسین درد کے بارے میں میں مطمعن نہیں تھا اور میرا خیال تھا کہ میوزک کے اس نئے انداز کے بارے میں وہ کچھ نہیں جانتے۔ سو ریکارڈنگ بہت مشکل ہو جائے گی

طالب حسین درد سب سے پہلے تشریف لائے۔ چائے کے کپ کے بعد میں نے انہیں گیت سنانا شروع کیا

رون کوں وی لوھندے رہے ہاسیاں کوں وی سکدے رہے

سونے جئی شے تھی کے وی مٹی دے بھا وکدے رہے

محبت سے میرا ماتھا چوما اور کہا

تساں وڈی مہربانی کیتی اے جو ساڈے جئیے ماڑے فنکار واسطے وی گیت لکھیا نے چا

(آپ نے مجھ جیسے غریب کے لئے گیت لکھ کے بہت مہربانی کی ہے)

میں نے ان کے ہاتھ چومتے ہوے کہا

آپ ہمارا فخر ہیں۔ میرا گیت آپ گائیں، یہ میرے لیے عزت کی بات ہے۔

بہت خوش ہوئے اور کہا

شالا مولا علی ہور رنگ لاوی

حیرت انگیز طور پر طالب صاحب نے ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں گیت ریکارڈ کرا دیا اور کہا اگر تساں پاس کرو تاں ٹھیک، نیں تاں مڑ کر لیندے آں۔

میں نے اوکے کی آواز دی تو کہا

مڑ چا تاں میرا حق بنڑ دا اے یا نیں؟

بعد میں پھر میں نے ان کے دو آڈیو البم تیار کیے

ابھی چند دن پہلے ان کے بیٹے عمران طالب سے ملاقات ہوئی تو میں نے حال احوال پوچھا تو انہوں بتایا پہلے سے بہتر ہیں

مگر آج ان کے انتقال سے طبعیت بہت بوجھل ہے۔ طالب صاحب ایک مست فقیر شخص تھے انہوں نے اپنی منفرد گائیکی سے تھل کے صحراؤں کو مترنم کئے رکھا۔ ان سے لوگوں کی عقیدت و محبت ایسی تھی کہ لوگ انہیں بابا طالب حسین درد کے نام سے مخاطب کرتے تھے وہ واقعی ایک. بابا جی. تھے جوگ میں گاتے ہوئے وہ سننے والوں کے دلوں میں ایک تعویز کی طرح اثر کرتے تھے۔

تھل کے صحراؤں میں ان کے گائے ہوے گیتوں کی خوشبو ہمیشہ باقی رہے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •