سیاست میں جھوٹ کو کیش کروانے کے ایسے ویسے تماشے!


یوں تو عام طور پر سیاست میں سچ کا سکا ذرا کم ہی چلتا ہے۔ تقاریر سے بیانات تک کئی سیاستدان تھوڑا تھوڑا جھوٹ کا سہارا لیتے نظر آتے ہیں۔ مگر ایسا بھی نہیں ہے کہ سیاست کو تمام اخلاقی اور انسانی اقدار سے بھی الگ رکھا جائے یا پھر سیاستدانوں کو بول چال کے معاملات میں کوئی خاص استثنا حاصل ہے۔ جو چیز اخلاقی طور پر غلط ہو گی، وہ سیاست میں درست نہیں ہو سکتی۔ مگر پچھلے چند برسوں سے جھوٹ جس طرح سیاست میں دیدہ دلیری سے سرایت کرنے لگا ہے، وہ ایک نیا تماشا ہے! حیرت کی بات یہ ہے کہ میڈیا کے عروج پر مشتمل رواں زمانے میں بھی اس تماشے نے اپنی مارکیٹ برقرار رکھی ہوئی ہے۔

کئی لوگوں کا خیال تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ صدارتی حلف اٹھانے کے بعد جھوٹ بولنے کی دیرینہ عادت پر قابو پا لیں گے مگر وائٹ ہاؤس میں قدم رکھتے ہی انہوں نے اس ”آرٹ“ سے آمریکی انٹیلیجنس کو بھی چکرا دیا۔ شکر ہے کہ امریکن بطور قوم تعلیم یافتہ اور حقیقت پسند ہیں، بصورت دیگر کئی تماشے ہوتے۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی تو ٹرمپ سے بھی آگے نکلے۔ ایک ارب آبادی کو بیوقوف بنا کر آیندہ الیکشن میں سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے، پاکستان کے خلاف جھوٹ پر جھوٹ بولتے جا رہے ہیں۔ سرجیکل اسٹرائیک کے حوالے سے انھوں نے ایسے ایسے دعوے کیے جن پر دنیا بھی ہنسنے لگی مگر کہیں سے بھی ضمیر اور سیاسی اخلاقیات نے اپنی موجودگی کا احساس نہیں دلایا!

پاکستانی سیاست میں جھوٹ کوئی نئی بات نہیں۔ قیام پاکستان سے آج تک سیاستدان اپنے اپنے مفادات کے لیے جھوٹ بولتے رہتے ہیں۔ عوام بھی ان جھوٹوں پے اعتبار کرتے رہتے ہیں۔ مگر جیسے جیسے میڈیا کی طاقت بڑھی ہے، ان کی اثر انگیزی بھی کم ہوئی ہے۔ تاہم اب بھی اکثر و بیشتر سچ اور جھوٹ کے درمیان تمیز کرنا مشکل معاملہ بن جاتا ہے۔ چنانچہ سیاستدان کرپشن، بھتا خوری اور بیڈ گورننس کے معاملات پر فخر سے غلط بیانیاں کرتے رہتے ہیں۔

حتی کہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے ایسی ایسی الزام تراشیاں بھی ہوتی ہیں، جن کا نہ تو سر ہوتا ہے اور نہ ہی پیر۔ مخالفین کے بیانات کو توڑ پھوڑ کر اپنے سیاسی مفادات کے مطابق استعمال کرنا بھی یہاں کے سیاسی روایات کا حصہ ہے۔ حال ہی میں شیخ رشید کے اس بیان پر پیپلز پارٹی کا ردعمل بھی ناقابل اعتبار سیاسی کلچر کا تسلسل ہے، جس میں ٹویٹس اور پریس کانفرنس کے ذریعے بتایا گیا کہ شیخ رشید نے بلاول بھٹو زرداری کو جان سے مارنے کی دھمکی دی ہے، حالانکہ شیخ رشید نے تو طبعی موت نہیں بلکہ سیاسی موت مارنے کی بات کی تھی۔ بہر حال بعض اوقات جھوٹ، سیاسی پروپگنڈہ اور ذاتی الزامات اتنے گڈ مڈ ہو جاتے ہیں کہ سچ ڈھونڈنا، سچ بولنے سے بھی زیادہ دشوار بن جاتا ہے!

Facebook Comments HS