اختر رضا سلیمی کا ناول ”جندر“

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 181
  •  

”جندر“ اختر رضا سلیمی کا نیا ناول پڑھ کر ایسا لطف آیا کہ میں اسے تقریباً ایک ہی نشست میں پڑھ گیا۔ شعور کی رو میں بہتا ہوا یہ ناول، خیالات کا ایک دائرہ مکمّل کر کے اپنے نقطۂ آغاز پر آکر ختم ہوجاتا ہے۔ اس کا مرکزی کردار ولی خان (اپنی دانست میں) بسترِ مرگ پر لیٹا، موت کا منتظر ہے، خیالات کے گھیرے میں بار بار دور جاتا اور یوں ایک خاص مقام پر ٹھہرا ہوا وہ وقت کے سنگ ہائے میل ماپتا واپس اسی نقطے پر پلٹ پلٹ کر اپنی کہانی کو مکمل کرتا ہے۔

یہ واحد متکلّم کی آپ بیتی ہے جو بسترِ مرگ پر آنے والے وقت کا تجزیہ کرتے کرتے ماضی میں بہت پیچھے جا کر اپنی پوری کہانی سنا رہا ہے۔ ایک ایسا بچّہ جس نے ماں کو نہیں دیکھا، کہ وہ اس کی پیدائش کے فوراً بعد ہی مر گئی تھی، مگر اس نے ماں کو جس طرح محسوس کیا، اس نے اس کی بقیہ زندگی کی شکل ڈھالی۔ ماں کی کوکھ میں سنی ”جندر“ (یا ایک بڑی پن چکّی) کی آواز جو اس کے ذہن پر ماں کی خوش بو اور آواز کی طرح یوں ثبت تھی کہ اس نے ماں کی گود، لوری، لمس اور خوش بو کی جگہ لے لی تھی۔

ایک ایسا خلا جو اس کی ذات کا حصّہ بن گیا تھا، جندر کی آواز نے، جسے وہ پیدائش سے پہلے سے سن رہا تھا، نہ صرف اس کے خالی پن کو گہرا کیا بلکہ اسے یوں پر بھی کر دیا کہ اس آواز کی غیر موجودی اس کے خالی پن کا مترادف بن گئی۔ ورثے میں ملی اس جندر کی آواز اُس کے لیے ایسی لوری بن گئی جس سے وہ عمر کے کسی حصّے میں الگ نہ ہو سکا یہاں تک کہ مرتے وقت بھی وہ اسی آواز کو سنتے ہوئے مر جانا چاہتا ہے۔ اس لازم ملزوم تعلق کا احساس اسے شعور کی ابتدائی منزلیں طے کرتے ہوئے ہوتا ہے جب وہ گویا اپنی تحلیلِ نفسی کرتا ہے، خود آگاہی کے دور سے گزرتا ہے، اپنے لاشعور کو پہچانتا ہے اور اسے شعور کی سطح پر لے آتا ہے، یعنی خود شناسی کی منزل سے گزرتا ہے مگر صرف اس حد تک کہ وہ اپنی اس عادت یا مجبوری کا سدِّباب نہیں تو کر پاتا یا شاید کرنا نہیں چاہتا مگر اس کے لیے دنیا سے کٹ جانا گوارا کر لیتا ہے۔

گویا وہ جندر اصل میں اس کا عشق بھی تھا اور اس کی مجبوری بھی یا دوسرے لفظوں میں وہ جندر ہی اس کا مقصدِ حیات بن گیا تھا جس کی وجہ سے اس کی عمر کا بیشتر حصّہ آبادی سے ہٹ کر اس پن چکّی پر ہی گزرا۔ یوں لوگ اِسے، اُس کا شوق یا آزاد فطرت پر محمول کرتے اور وہ اپنے اس طرزِ زندگی کی بدولت بظاہر آزاد طبع، اپنی مرضی کا مالک نظر آتا۔ اس کی بیوی جو اس کی آزاد مزاجی کے عشق میں گرفتار ہوتی ہے، شادی کے بعد یہ جانتی ہے کہ اس کی آزاد طبیعت دراصل اس کی شدید نفسیاتی غلامی کا نتیجہ ہے کہ وہ شخص اس جندر کی آواز سے جدا نہیں ہو سکتا اور اس کے بغیر سکون سے سو بھی نہیں سکتا، گویا وہ جتنا مضبوط نظر آتا تھا، اصل میں ایک ایسا کمزور شخص ہے جو ایک بے جان شے سے بھی دامن نہیں چھڑا سکا۔ نتیجتاً وہ سکون اور نیند کی خاطر اکیلا رہ جاتا ہے۔

اختر رضا سلیمی کی کہانی کا ماحول، کردار اور مناظر جیتے جاگتے انسان ہیں اور کسی تجرباتی واردات کا احساس دلاتے ہیں۔ کرداروں کی تحلیلِ نفسی کی تکنیک کو نظر میں رکھا جائے تو اس سے مصنف کی نفسیات کے بارے میں گہری تجزیاتی فکر کا پتا ملتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس فکری سفر کے دوران ناول کا مرکزی کردار اپنے علاوہ، اپنے باپ اور اپنی بیوی کی بھی تحلیلِ نفسی کرنے کی کوشش کرتا ہے اور محض واقعات سے نہیں بلکہ اپنے تجزیے سے بھی ان کرداروں کی سوچ کی تصویر کشی کرتا ہے۔

یہاں یہ بات بھی محلِّ نظر ہے کہ گاؤں کی لڑکی، جو ایک استانی ہے اور میٹرک کا ایک طالب علم، جو یوں دنیا سے الگ تھلگ بیٹھا ہے، ان کے درمیان فلسفے اور ادب کی گفتگو جس انداز میں اور جس سطح پر ہوتی ہے، وہاں ایک مختصر مدّت کے لیے فضا کچھ اجنبی معلوم ہونے لگتی ہے اور ان دونوں کی ادبی نگاہ اور آگاہی اس پورے ماحول میں کچھ مختلف احساس دلاتی ہے۔ تاہم اس کا جواز خود اس کی بیوی کا ایک مثالی کردار ہے اور مثالی کردار بہرحال وجود رکھتے اور دنیا کو نئے رخ دینے کا سبب بنتے ہی ہیں۔

ہم اگر ڈھونڈیں تو ہمیں زندگی میں ایسی مثالی کردار بہرحال نظر آتے ہیں۔ اور پھر ولی خان نے ایک موقع پر خود اپنی بیوی کی مثالیت پسندی کا ذکر بھی کیا ہے لہٰذا ناول میں اس بات کا جواز خود رکھا گیا ہے۔ یہاں اہم بات یہ ہے کہ وہ عورت خود ایک آزاد روح تھی جو اپنے شوہر میں ایک مثالی مرد دیکھنا چاہتی تھی اور جس تاثر کے ٹوٹنے پر اس نے ایک جھٹکے سے خود کو اس سے الگ کر لیا اور باقی زندگی اکیلے گزارنے کو ترجیح دی۔

ناول میں اس آدمی کی اپنی بیوی سے ناولوں پر تجزیاتی گفتگو، جس میں وہ دونوں قرأۃ العین حیدر اور عبداللہ حسین کے ناولوں کا موازنہ کرنے لگتے ہیں، گویا مصنف کا اپنے آپ سے مکالمہ ہے۔ اس ناول میں ان دونوں بڑے ناولوں کا ہلکا سا اثر دکھائی بھی دیتا ہے اور شاید مصنف کے ذہن میں ناول لکھتے وقت یہی خیال تھا جس کی گونج اس گفتگو میں ظاہر ہوئی ہے اور یوں ناول نویس نے یوں ان دونوں کو خراجِ عقیدت پیش بھی کیا ہے۔ مگر جس طرح انہوں نے مکالموں کے ذریعے ”اداس نسلیں“ کو ایک درجہ اوپر رکھا ہے، اسی طرح اپنے ناول کو بھی عبداللہ حسین کے ناول سے نسبتاً قریب رکھنے کی کوشش کی ہے، شاید یہ مکالمہ اس اثر کا جواز پیش کرنے کی ایک بالواسطہ کوشش ہے۔

اس ناول میں بزرگوں کا ذکر جس عقیدت اور غیر معمولی واقعات کی صورت میں ہوا ہے اور جس طرح ایک روحِ سفر ہمیں نسلوں میں نظر آتی ہے، وہ ”آگ کا دریا“ کو ہلکا سا چھو کر گزر جاتی ہے یعنی ماضی کی رومانویت اور سید احمد شہید کے لوگوں کا واقعہ اور وقت کا سفر قرأۃ العین حیدر کے ناول کی یاد دلاتا ہے۔ جب کہ ناول کے شروع میں وہ شخص اپنی لاش کے ممکنہ انجام کی جزئیات کی تفصیل پر جس طرح غور کرتا ہے اور کئی صورتوں میں ہیبت ناک مناظر کی تصویر کشی ہوتی ہے، اسی طرح جندر کی، اناج پیسنے کی اور دیگر جزئیات کی تفصیل، یہ سب عبداللہ حسین کے ناول ”اداس نسلیں“ کی یاد دلاتے ہیں۔

یہاں یہ پہلو غور طلب ہے کہ اگر میں اختر رضا سلیمی کے پہلے ناول ”جاگے ہیں خواب میں“ کو سامنے رکھوں تو ان دونوں ناولوں میں سید احمد بریلوی اور ان سے جڑا رومان قابلِ توجّہ ہے جو مصنف کے ان واقعات یا شخصیات سے کسی جذباتی تعلّق کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اسی طرح ان دونوں ناولوں میں کچھ دھندلکوں میں لپٹے واقعات اور ان کی پراسراریت مصنف کے یہاں کسی اندرونی، روحانی یا تہذیبی تلاش کا پتا دیتی معلوم ہوتی ہے۔

کہانی کے اختتام پر ہماری نظر صنعتی ترقی کے انسانی معاشرے اور سوچ پر ہونے والے میکانی اثرات کی طرف بھی جاتی ہے اور ہمیں یہ سوچنے کی دعوت بھی دیتی ہے کہ مشینی زندگی کے مثبت اثرات کے ساتھ ساتھ اس کے منفی اثرات اور ان کی جانب دیدۂ بینا کی توجہ بھی اشد ضروری ہے

ادب سوچ کا سفر ہے اس لیے میں اس ناول کو اختر رضا سلیمی کے فکری اور باطنی سفر کا ایک پڑاؤ سمجھتا ہوں اور ”جندر“ میں ان کے نقشِ قدم پچھلے ناول سے آتے دیکھتا ہوں جن میں ایک روحانی اور نفسیاتی فضا مربوط ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ یہ اندازِ تحریر ان کی روحانی تجربوں کی خواہش بھی ہو سکتی ہے اور کسی سطح پر دوچار ہونے والے خود ان کے کسی تجربے کا شاخسانہ بھی۔ یا پھر یہ اس مثالیت کا اشارہ بھی ہو سکتی ہے جس میں کسی نئی دنیا یا جہت کی تلاش شامل ہو۔ آخر میں، اس ناول پر میں اختر رضا سلیمی صاحب کو دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 181
  •