پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی، اپنے حقِ آزادی کی منتظر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکہ کی قید میں پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی، معاشرے کے اندھیروں کو دور کرنے والا ایسا چراغ ہے جس کو بجھانے میں عالمی مُنصِفوں نے کوئی کسر نہ چھوڑی۔ ”عافیہ صدیقی اپنی ذات میں ادارے کی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ جہاں جائے گی تبدیلی لائے گی۔ “ پروفیسر نوم چومسکی کا یہ قول عافیہ صدیقی کی قابلیتوں اور کارناموں سے بھرپور مختصر زندگی کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی بیک وقت اعلیٰ تعلیم یافتہ اور بہترین تحریری و تقریری صلاحیتوں کی مالک تھی۔

 قرآن اور دینی علوم سے دلچسپی اور ان پر عبور اس کی اضافی قابلیت تھی۔ گلستان شاہ لطیف اسکول سے لے کر ایم آئی ٹی (MIT) برینڈیز (Brandeis) جیسی امریکہ کی بہترین جامعات سے پی ایچ ڈی کی ڈگری کے حصول تک ان کا تعلیمی ریکارڈ نہایت شاندار رہا ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے ان کا مضمون ”ایجوکیشن“ تھا۔ دین کے علم کی پیاس بجھانے وہ خاص طور پر امریکہ سے پاکستان آئی۔ شوق کے ساتھ قرآن حفظ کیا۔ قابل شخصیات کی معاونت کے ساتھ ”اسلام، عیسائیت اور یہودیت“ کے موضوع پر تحقیق کی۔

انہوں نے ”پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ اور خواتین پر اس کے اثرات“ کے موضوع پر بھی تحقیق کی اور کیرول وِلسن ایوارڈ حاصل کیا۔ بچوں سے محبت کی وجہ سے خصوصی طور پر ان کے لیے تربیتی نشستوں کا اہتمام کیا۔ ان کے پی ایچ ڈی کا موضوع بھی ”ابتدائی عمر میں بچوں کی نشو و نما“ تھا۔ ان کے مطابق، معاشرے کی زوال پذیری ہی نئی نسل کے انحطاط کی وجہ ہے۔ معاشرے کی مثبت تبدیلی اور خوشحالی ان کا خواب تھا جس کی تعبیر کے لیے وہ تن من دھن سے مصروفِ عمل تھیں۔

وہ اسلامی نظامِ تعلیم کے ذریعے معاشرے میں انقلاب لانے کی جستجو میں رہتی تھیں۔ وہ ایسا جدید نصاب تیار کر رہی تھیں جو کم وقت میں دلچسپی کے ساتھ بچوں کی سمجھ میں آ سکے۔ ان کا مرتب کردہ نصاب اسلام کے محور سے مربوط تھا۔ یونی ورسٹی سرگرمیوں میں دیگر مختلف تنظیمیں اپنی دلچسپی کے اسٹالز لگاتی تھیں۔ عافیہ کا بھی اسٹال ہوتا جس پر لکھا ہوتا ”فری انسائیکلو پیڈیا فور یور لائف“۔ وہ اپنے جیب خرچ سے قرآن کے تراجم خرید کر مفت تقسیم کیا کرتی تھی۔

 لوگوں کے پوچھنے پر جواب ہوتا، ”یہ آپ کی زندگی کا مکمل انسائیکلو پیڈیا ہے۔ “ بزرگ خواتین سے محبت اور ان کی خدمت عافیہ کے شوق میں شامل تھی۔ وہ اولڈ ہومز میں جا کر ان کی اعزازی خدمت کر کے سکون محسوس کرتی تھی۔ عافیہ دنیا بھر میں مسلمانوں پر روا ظلم و ستم پر افسردہ تھی۔ اس کے نزدیک اس ظلم و ستم کے ذمہ دار امتِ مسلمہ کے حکمران ہیں۔ اس نے بوسنیائی کشمیری فلسطینی مسلمانوں کے لیے ہزاروں ڈالرز فنڈ جمع کیے۔

 تعلیم کے ذریعے دنیا میں مثبت تبدیلی عافیہ صدیقی کا خواب تھا۔ حالات کی ستم ظریفی اور حکمرانوں کی مفادپرستی کس طرح ان کے خوابوں کی تعبیر میں مانع رہے؟ اس کا اندازہ ان کے ساتھ پیش آنے والے پے درپے دردناک سانحات سے ہوتا ہے۔ ڈاکٹرعافیہ صدیقی تعلیم مکمل ہونے بعد کراچی منتقل ہو کر والدہ کے گھر رہائش پذیر ہوتی ہیں۔ 2003 میں اپنے کاموں کی غرض سے اسلام آباد روانگی کے لیے ایئرپورٹ جاتے ہوئے حکمرانِ وقت پرویز مشرف کے حکم پر انہیں تین چھوٹے بچوں سمیت اغوا کر لیا جاتا ہے۔

 بگرام ایئربیس افغانستان لے جا کر پانچ سال تک امریکی عقوبت خانے میں انسانیت سوز مظالم میں قید رکھا گیا۔ برطانوی نَومسلم صحافی ایوون ریڈلے نے یہیں سے رہائی پانے کے بعد عالمی میڈیا کے سامنے امریکی جیل میں موجود ”قیدی نمبر 650“ کے ڈاکٹر عافیہ ہونے کا انکشاف کیا۔ ریڈلے نے عافیہ پر امریکی فوجیوں کے شرمناک اور دل دہلا دینے والے مظالم کا انکشاف بھی کیا۔ اس کے بعد اس خاتون کے خلاف سازشی مقدمہ تیار کیا گیا۔

جس کے مطابق یہ کمزور اور زخموں سے چُور خاتون M۔ 4 گن اٹھا کر امریکی فوجیوں پر حملے کی غرض سے فائر کر دیتی ہے۔ فائر اس ڈرامائی انداز سے خطا ہوتا ہے کہ آس پاس در و دیوار میں کہیں گولی کا نام و نشان نہیں۔ ایک فوجی قریب سے گولی مار کر عافیہ کو زخمی کر دیتا ہے، مگر وہ بچ جاتی ہیں اور 2009 میں امریکہ منتقل کر دی جاتی ہیں۔ ان پر امریکی قیدیوں پر حملہ کرنے اور مارنے کا الزام لگایا جاتا ہے۔ نام نہاد مقدمہ چلا کر عدالت میں جرم ثابت کیے بغیر 86 سال قید کی سزا سنا دی جاتی ہے۔

عافیہ اپنا فیصلہ اللّٰہ کے حوالے کرنے کا اعلان کرتی ہیں۔ قید کی سزا کے طور پر انہیں 6 × 6 کے تنگ و تاریک کوٹھڑی میں رکھا جاتا ہے۔ جسمانی تشدد اور برہنگی کی اذیت، قرآن کی بے حرمتی پر لباس دینے کی شرط مظالم کا حصہ ہونے کے باوجود اس کا عزم قوی تر ہے۔ دوسری جانب اس کے اہلِ خانہ اس مظلوم بیٹی کے لیے انصاف کی تلاش میں مسلسل سرگرداں ہیں۔ عدالتی فیصلے میں ان کو دی جانے والی سزا کو سیاسی سزا کہا گیا ہے۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •