شمالی امریکہ کی شاعرات: ناہید ورک کے تراجم

ترجمہ وہ علاقہ غیر ہے جہاں جانے سے پہلے آپ سوچتے ہیں کہ اس علاقے میں جائیں کہ نہ جائیں۔ کچھ جیالے اور جیالیاں اس دریا میں بے خطر بھی کود پڑتے ہیں اور ان میں جو شناور ہوتے ہیں وہ دوسرے کنارے پر پہنچ کر بھی دکھا دیتے ہیں۔ مگر یہ بہت سنجیدہ کام ہے اور تخلیق سے زیادہ صبر طلب بھی ہے۔ مجھے بے حد خوشی ہوتی ہے جب ان لوگوں کو دیکھتا ہوں جو ایسے سنجیدہ کام

Read more

"بر بساط غالب” پر جگنو کی جھلملاہٹ

ہمارا عہد، عہد میر و غالب سے الگ ہے رازؔ سو اب جگنو کریں گے گفتگو خورشید کے فن پر لیجیے، ایک جگنو سورج کی آب و تاب پہ روشنی ڈالنے کو حاضر ہے۔ میرے اس جملۂ معترضہ کو ادب سے ہٹ کر کچھ نہ سمجھیے گا۔ یقیناً حالات حاضرہ کا یہی خلاصہ ہے۔ مگر انھیں کے مطابق رازؔ تم مرزا بھی ہو، سو، تم بھی کر کے دیکھ لو حضرت غالبؔ کے جیسی پیش دستی ایک دن تو پھر

Read more

’’آخری‘‘ اُمّید کا قتل

جانتے ہو یہ دیوانگی، جنون، سحر زدگی کیوں ہے؟ کیوں کہ ہجوم کو ایک جاں لیوا امید دلائی گئی تھی اور بتایا گیا تھا کہ یہ ان کی آخری امید ہے۔ اس وقت بھی کچھ لوگ منع کر رہے تھے کہ ایسا مت کرو، ”آخری“ امید کبھی مت دلاؤ کیونکہ امید اگر آخری ہو تو اس کے بعد صرف مایوسی بچتی ہے۔ یہ آخری کا لفظ نکال دو مگر اس وقت یہی تو وہ جادوئی لفظ تھا جس سے کام

Read more

آن۔لائن مشاعرہ

ایک چیلے نے پوچھا ”حکیم جی! اڑنا نہیں آتا مگر اڑنا بھی ہے، کیا کریں“ ۔ اس پر حکیم چغد نے اپنے کٹے ہوئے پروں کو سمیٹا اور گول گول آنکھیں کیمرے میں گھسا کر غصے سے بولے ”اسے تو بند کر نالائق، کیا آن لائن اڑے گا“ ہم نے بھی کیا بے پر کی اڑانا شروع کردی۔ بات ہو رہی تھی مشاعرے کی۔ آن لائن مشاعرے ہونا نیک فال ہے مگر ایسا بھی کیا کہ سبھی فال نکالنا شروع

Read more

کورونا کا۔ ۔ ۔ بو کاٹا

جھوٹ بولے کورونا کاٹے۔ ”کاٹتا کیسے ہے“ یہ تو کسی ”بز“ اخفش سے پوچھیے باقی ہمیں سب پتہ ہے، کورونا کس نے، کیسے اور کیوں پھیلایا۔ ہمیں اس کے علاج، ویکسین کے تماشوں، دواساز کمپنیوں اور ہسپتال کے دھندوں کے علاوہ یہ بھی پتہ ہے کہ کورونا سے اب تک نہ کوئی بیمار ہوا نہ مرا۔ ہم ڈیتھ سرٹیفکیٹ تبھی دیں گے جب کسی کو وائرس کے ہاتھوں خود مرتے دیکھیں گے۔ ویسے بھی وائرس کے ہاتھ نہیں، صرف دانت ہوتے ہیں۔ شیطانی میڈیا کی ویڈیوز ثابت کرتی ہیں کہ کورونا تمام مذاہب عالم کے خلاف ایک سازش ہے اور وہ سازش ہی کیا جس میں امریکہ شریک نہ ہو۔

Read more

”ہماری امّی، مبارکہ حیدر“، مرتّب شعیب حیدر۔ کچھ تاثرات

حیدر قریشی صاحب نے ”پسلی کی ٹیڑھ“ لکھ کر کیا یوں کہ ہم لوگوں کو بالکل اس طرح کسی اور طرف لگا دیا جیسے کوئی ماہر، واردات کے وقت کچھ جعلی ثبوت جان بوجھ کر چھوڑ جاتا ہے اور کھوجی ان ثبوتوں کے پیچھے بھٹک جاتے ہیں اور یوں جرم کا سرا ان کے ہاتھ نہیں آ پاتا۔ اب آپ ٹیڑھ کو پسلی میں تلاش کیجیے اور باقی کی ہڈیاں بھول جائیے۔ بات یہ ہے کہ حیدر قریشی صاحب نے

Read more

نثری نظم اور کتاب ”ایسا ضروری تو نہیں“

اگر میں بات یہیں سے شروع کرلوں کہ ہر شخص شعر کہے ایسا ضروری تو نہیں، تو یہ ایک جملۂ معترضہ ہوگا مگر ایسا کہنا ضروری ہے کیونکہ اگر آپ کے پاس کچھ کہنے کو نہیں تو کس حکیم نے کہا ہے کہ درخت کٹوا کر کاغذ ضائع کریں۔ لیکن یہ اشد ضروری ہے کہ آپ شعرکہیں، نثر لکھیں یا کسی اور طرح اظہار کریں جب آپ کے پاس اظہار کرنے کو کچھ ہو۔ روبینہ فیصل کی کتاب ”ایسا ضروری تو نہیں“ پڑھ کر اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ اس کے پاس کہنے کو کچھ نہیں بلکہ بہت کچھ ہے اور یہی اس کے شاعرانہ رخ کا جواز بھی ہے اور خصوصیت بھی۔

Read more

اختر رضا سلیمی کا ناول ”جندر“

”جندر“ اختر رضا سلیمی کا نیا ناول پڑھ کر ایسا لطف آیا کہ میں اسے تقریباً ایک ہی نشست میں پڑھ گیا۔ شعور کی رو میں بہتا ہوا یہ ناول، خیالات کا ایک دائرہ مکمّل کر کے اپنے نقطۂ آغاز پر آکر ختم ہوجاتا ہے۔ اس کا مرکزی کردار ولی خان (اپنی دانست میں ) بسترِ مرگ پر لیٹا، موت کا منتظر ہے، خیالات کے گھیرے میں بار بار دور جاتا اور یوں ایک خاص مقام پر ٹھہرا ہوا وہ وقت کے سنگ ہائے میل ماپتا واپس اسی نقطے پر پلٹ پلٹ کر اپنی کہانی کو مکمل کرتا ہے۔

Read more