نثری نظم اور کتاب ”ایسا ضروری تو نہیں“

اگر میں بات یہیں سے شروع کرلوں کہ ہر شخص شعر کہے ایسا ضروری تو نہیں، تو یہ ایک جملۂ معترضہ ہوگا مگر ایسا کہنا ضروری ہے کیونکہ اگر آپ کے پاس کچھ کہنے کو نہیں تو کس حکیم نے کہا ہے کہ درخت کٹوا کر کاغذ ضائع کریں۔ لیکن یہ اشد ضروری ہے کہ آپ شعرکہیں، نثر لکھیں یا کسی اور طرح اظہار کریں جب آپ کے پاس اظہار کرنے کو کچھ ہو۔ روبینہ فیصل کی کتاب ”ایسا ضروری تو نہیں“ پڑھ کر اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ اس کے پاس کہنے کو کچھ نہیں بلکہ بہت کچھ ہے اور یہی اس کے شاعرانہ رخ کا جواز بھی ہے اور خصوصیت بھی۔

Read more

اختر رضا سلیمی کا ناول ”جندر“

”جندر“ اختر رضا سلیمی کا نیا ناول پڑھ کر ایسا لطف آیا کہ میں اسے تقریباً ایک ہی نشست میں پڑھ گیا۔ شعور کی رو میں بہتا ہوا یہ ناول، خیالات کا ایک دائرہ مکمّل کر کے اپنے نقطۂ آغاز پر آکر ختم ہوجاتا ہے۔ اس کا مرکزی کردار ولی خان (اپنی دانست میں ) بسترِ مرگ پر لیٹا، موت کا منتظر ہے، خیالات کے گھیرے میں بار بار دور جاتا اور یوں ایک خاص مقام پر ٹھہرا ہوا وہ وقت کے سنگ ہائے میل ماپتا واپس اسی نقطے پر پلٹ پلٹ کر اپنی کہانی کو مکمل کرتا ہے۔

Read more
––>