جدہ میں ترکی کی فلائٹ مس ہونے کے بعد مجھ پر کیا گزری؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 275
  •  

پہلی قسط: ترکی کا تنہا سفر تھا اور جہاز میرے بغیر اڑ گیا۔

میں نے بارہا کاؤنٹر پر کھڑے اس شخص کو دیکھا، ایک لمحے کو دل چاہا رودوں پر پھر تھوڑی ہمت کرکے اس شخص کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔

(Can you tell me the way to get the new ticket؟ ) اس نے میری طرف دوبارہ دیکھا اوراپنے برابر میں کھڑے شخص سے عربی زبان میں بات کرنے لگ گیا۔ جس قدر غصہ مجھے خود پر سو جانے کی وجہ سے تھا اس سے کئی زیادہ غصہ اس شخص کو مجھ پر میری فلائٹ چھوٹ جانے کا تھا۔

میں نے اس کے ساتھ کھڑے افسر کو مخاطب کیا اور کہا کہ میرے پاس کوئی سم کارڈ ہے نہ ہی وائی فائی تک رسائی۔ خدا جانے اس پر میرے اس جملے کا کیا اثر ہوا۔ اس نے میری جانب پہلے تو حیرانی سے دیکھا پھر مجھ سے میرا بورڈنگ پاس مانگ لیا۔ میں نے بھی تاخیر کیے بغیراسے اپنا بورڈنگ دے دیا۔ اس نے جلدی جلدی میں بورڈنگ پاس پر کچھ لکھا پھر ساتھ والے خشم آلود نگاہوں والے افسر کو عربی زبان میں کچھ کہا پھر اس افسر نے بھی میری طرف دیکھ کر اسے واپس جواب دیا، اس کے بعد اس شخص نے میرا بورڈنگ پاس مجھے واپس دیا جس پرعربی میں کچھ لکھا ہوا تھا۔

پھر اس شخص نے مجھے وی آئی پی لاونج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہاں سے وائی فائی تک رسائی لے لو۔ میں نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اس کا شکریہ ادا کیا اور بیگ اٹھا کر لاونج کی طرف چل پڑی۔ لاونج میں داخل ہوتے ہی میں نے ایک درمیانے قد کے آدمی کو بورڈنگ پاس دیکھاتے ہوئے پوچھا کہ مجھے وائی فائے کی سہولت چاہیے؟ اس شخص نے مجھے میرے سوال کا جواب انگریزی زبان میں ہی ایک سوال کی صورت میں دیا کہ کیا آپ ہندوستان سے ہو؟

اس کے منہ سے الفاظ کا نکلنا ہی تھا کہ میں جذباتی ہوگئی، آنکھیں پوری طرح نم ہونے کو ہی تھیں کہ پیچھے سے ایک اور آواز میرے سماعت تک پہنچی ”What Happened؟ “ میں نے پلٹ کر اس شخص کو دیکھا اور میں تھینک یو کر کہ پہلے والے شخص سے ہی مخاطب ہوئی۔ کہ کیا آپ میری مدد کر سکتے ہیں؟ اس نے مجھے میرے پیچھے کھڑے شخص کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ( آپ ان سے بات کروں یہ آپ کے ملک سے ہیں، میں تو بنگلہ دیش سے ہوں مجھ کو اتنا نہیں آتا زبان ) ۔

میں نے واپس مڑ کر اس شخص کو دیکھا وہ تب بھی ہاتھ بانڈھے میرے پیچھے ہی کھڑا تھا، سیاہ رنگ کی شڑٹ اور نیلے رنگ کی جینز میں ملبوس اس شخص نے مجھے میری قومی زبان میں بات کرتے ہوئے کہا ”بتائیے کیا ہوا ہے“؟ اس کے پوچھنے پر میں جذبات پر قابو نہیں رکھ سکی۔ آنکھوں سے آنسو پانی کی طرح بہنے لگے، میں نے بھاری آواز میں اس کو بتایا کہ میں نے اپنی فلائٹ مس کردی ہے۔ اس نے میرے بہتے آنسو دیکھے اور جیب سے ایک عدد ٹیشو نکالا اور میری طرف بڑھایا۔

میں نے آنکھے صاف کی مگر آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ شاید دیار غیر میں جب کوئی اپنے ملک اپنی زبان کا مشکل مل جاتا ہے تو ایسا ہی ہوتا ہے۔ کچھ وقت لگا مجھے سنبھلنے میں جس کے بعد میں نے اسے ساری کہانی بتائی۔ اس شخص نے میری داستان خاموشی سے سنی اور بولا ”کہ آپ پریشان نہ ہوں، سب ٹھیک ہوجائے گا۔ آپ ترکی پہنچ جائیں گی۔ انشا اللہ۔ اس کے لہجے میں شامل اعتماد نے مجھے حوصلہ دیا۔ جس کے بعد اس نے مجھے سامنے موجود کرسی کی طرف اشارہ کیا اور کہا آپ آرام سے وہاں بیٹھ سکتی ہیں؟

میں نے ہاں میں سر ہلاتے ہوئے قدم آگے بڑھائے، وہ بھی میرے ہم قدم ہوگیا۔ کرسی کے قریب پہنچ کر اس نے مجھ سے پوچھا۔ کیا آپ کچھ کھائیں گی؟ میں شاید تکلفاً نہ کرتی مگر اس کے پوچھنے پر بھوک کی شدت کا احساس ہوا۔ میں ہاں کرتی یا نا کہ اس نے ساتھ ہی پوچھ لیا کھانے کے ساتھ کافی پیئں گی یا کولڈ ڈرنک؟ میں نے کہا کافی! ۔ وہ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ مڑنے لگا تو میں نے فورا کہا شکریہ! میں بہت پریشان تھی اور میں نے تو اب تک آپ کا نام بھی نہیں پوچھا۔

جس پراس نے بتایا کہ میرا نام رضوان ہے! اور آپ کا؟ فروا۔ میرا نام فروا وحید ہے اور میں لاہور سے ہوں! اس نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ واہ لاہور سے۔ زندہ دلوں کے شہر سے! میں ذرا مسکرائی اور جی میں جواب دیا۔ پھر اس نے مجھے بتایا کہ وہ اس لاونج کا انچارج ہے اس لیے مجھے ہرکاؤنٹر پر جانا پڑتا ہے، میں ہر گھنٹے بعد یہاں چکر لگاتا رہوں گا اگر آپ کو کسی چیز کی ضرورت ہو تو سامنے ہی میرا آفس ہے آپ بنگالی شخص سے کہ کے مجھے بلوا لیجیے گا۔

یہ کہہ کر وہ واپس چلا گیا۔ میں نے بھی سکھ کا سانس لیا اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ مگر ابھی پریشانی کم نہ ہوئی تھی کیونکہ یہاں کی فلائٹ مس کرنے کا مطلب تھا کہ میں اپنی اگلی فلائٹ جو اتاترک ایئرپورٹ سے ڈینزلی تک ہے یقینا وہ بھی مس کرنے والی ہوں۔ اب کیا کروں اور کس سے رابطہ کروں! میں وہاں بیٹھی سارا وقت مسلسل یہی سوچ رہی تھی کہ ایسے میں رضوان ایک ہاتھ میں شاپنگ بیگ جبکہ دوسرے ہاتھ میں کافی اٹھائے میرے پاس پہنچا، اس نے آکر دونوں چیزیں میرے پاس رکھیں اور کہا ”آپ کھانا کھا لیجیے“۔ اس شخص کا شکریہ میں کیسے ادا کرتی! میں نے اس سے کہا کہ آپ اتنا کچھ کر رہے ہیں میں آپ کی بہت مشکور ہوں۔

وہ مسکرایا اور سامنے بیٹھ گیا اور بولا آپ میرے ملک سے ہیں میری زمین سے میں کیسے آپ کی مدد نا کرتا۔ یہ الفاظ اتنے خوبصورت تھے۔ میری زمین، میرا ملک پاکستان، ہائے پاکستان مجھے ایک دم اس لمحے پاکستان بہت یاد آیا۔ مگر میں نے جتنا اپنے لوگوں کے بارے میں برا سوچ رکھا تھا وہ اس سے بالکل مختلف نکلا۔ دیارِغیر میں کوئی اپنے ملک کا مل جائے تو کتنا اچھا لگتا ہے میں نے اس وقت محسوس کیا۔ اس کا تعلق ضلع وہاڑی کے قریبی شہر بورے والا سے تھا۔

ہم نے کافی دیرتک بات چیت کی۔ اس نے اپنے بیٹے کی تصاویر بھی دکھائیں اور اپنی پسند کی شادی سے متعلق بھی بتایا۔ اس کے بعد اس نے مجھ سے میرا پاس پورٹ اور بورڈنگ لیا اور کہا کہ اب آپ بے فکر ہوجائیں آپ کی ٹکٹ کمپنسیٹ ہوجائے گی پر اب آپ کو انتظار کرنا ہوگا کیونکہ دو بجے اگلی شفٹ آئے گی میں اسی میں آپ کو ایڈجسٹ کروا دوں گا! اس کی اس بات سے جہاں مجھے راحت ملی وہیں اس بات کا دھچکا بھی لگا کہ اب مجھے مزید 15 گھنٹے ٹرانزٹ میں گزارنے پڑیں گے۔ لیکن پھر خود کو حوصلہ دیا کہ کچھ نا ہونے سے یہ بہت بہتر ہے۔

رضوان نے میری لاونج میں موجود تمام سیلز گرلز سے بات چیت کروا دی تاکہ میں اپنا وقت گزار سکوں اور مجھے بوریت بھی نا ہو۔ وہ تمام لڑکیاں عربی تھیں اور ان کے ساتھ جہاں میں نے بات کر کے وقت گزارا وہیں بہت کچھ دیکھنے اور سیکھنے کو بھی ملا۔ ایک بات تو واضع رہی کہ عربی اور عجمی کا فرق آج بھی ختم نہیں ہوا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 275
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں