کیا آپ جانوروں اور پرندوں سے محبت کرتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 110
  •  

بعض لوگ انسانوں سے محبت نہیں کرتے اور بعض جانوروں اور پرندوں اسے بھی محبت کرتے ہیں۔ آج میں آپ کو اپنی زندگی میں ایک بھیڑ ، چند کبوتروں اور بہت سے کچھووں سے محبت کی کہانی سناتا چاہتا ہوں۔

یہ ان دنوں کی بات ہے جب آتش جوان نہیں بچہ تھا اور سادہ لوح تھا۔ اس نے یہ محاورہ نہیں سنا تھا۔ غم ندادی بز بخر۔ سن بھی لیا ہوتا تو اسے اس کی اہمیت کا اندازہ نہ ہوتا۔

جب میں بچہ تھا تو اپنے والدین کے ساتھ پشاور شہر سے باہر چارسدہ روڈ پر رہتا تھا۔ ہمارے گھر کے قریب ایک بہت بڑی عیدگاہ تھی جس میں ایک باغ تھا۔ سال میں دو دفعہ تو عید کی نماز پڑھی جاتی تھی اور باقی دن ہم وہاں فٹ بال کھیلتے تھے۔ ہر ہفتے وہاں ایک گڈریا سمندر خان اپنی بکریاں اور بھیڑیں چرانے آتا تھا۔ مجھے وہ بھیڑیں بہت پسند تھیں۔ میں انہیں دور دور سے دیکھتا رہتا تھا کیونکہ میں ان کے ساتھ کھیلنا چاہتا تھا۔

ایک دن میں نے اپنے ابوجان سے کہا کہ مجھے ایک بھیڑ خرید دیں۔ کہنے لگے اس کا خیال کون رکھے گا۔ میں نے کہا میں رکھوں گا۔ چنانچہ ابوجان نے ایک بھورے اور سفید رنگ کی بھیڑ بیس روپے دے کر خرید لی۔ میں نے اس کا نام ’فردوس‘ رکھا اور اسے گھر لے آیا۔

چند دن تو میں فردوس سے کھیلتا رہا لیکن پھر اس کی گندگی اور ذمہ داری سے بیزار ہونے لگا۔ جب میرا ہنی مون کا دورانیہ ختم ہو گیا تو ابوجان کو میرے معصوم مسئلے کا ایک حل سوجھا۔ وہ مجھے اور فردوس کو گڈریے کے پاس لے گئے اور کہنے لگے سمندر خان! تم یہ بھیڑ واپس لے لو لیکن جب بدھ کے دن ادھر سے گزرو تو میرے بیٹے سہیل کو اس کی بھیڑ فردوس سے کھیلنے دینا میں تمہیں اس کے دو روپے ماہانہ دیا کروں گا۔ گڈریا بھی مان گیا اور میں بھی خوش ہو گیا۔ اگلے کئی ماہ تک میں فردوس سے کھیلتا رہا لیکن جب میں گرمیوں کی چھٹیوں میں اپنی نانی اماں سے ملنے لاہور گیا تو وہ فردوس بیمار ہو کر فوت ہو گئی۔ میں بچہ تھا میں نے سوچا وہ میری جدائی میں مر گئی ہے۔ میرا ایک شعر ہے

؎ وہ کب کی جا چکی خالدؔ مگر میں اس کے بارے کبھی
کبھی سوچوں تو آنکھوں میں نمی محسوس کرتا ہوں

کینیڈا آنے کے بعد جب میں نے ٹورانٹو سے باہر شہرِ وھٹبی کے ہسپتال میں کام کرنا شروع کیا تو میں نے اکیسویں منزل پر تین بیڈ روم کا ایک پینٹ ہاؤس کرائے پر لے لیا۔ اس پینٹ ہاؤس کی ایک بڑی سی بالکونی تھی جہاں سے جھیل نطر آتی تھی۔

جب گرمیوں کا موسم آیا تو میری بالکونی میں دو کبوتروں نے ایک گھونسلہ بنایا۔ پھر دو انڈے دیے۔ ان انڈوں سے دو بچے پیدا ہوئے۔ کبوتر ان کے لیے دور دور سے دانا دنکا لاتے۔ وہ بچے بڑے ہوئے تو ایک دن والدین اور بچے چاروں کبوتر اڑ گئے۔ اگلے سال گرمیوں میں پھر دو کبوتر آ گئے اور یہ سلسلہ کئی سال تک جاری رہا۔ میں نے ان کبوتروں کو نام دے دیے اور انہیں دانا دنکا دینے لگا۔ میری ان سے دوستی ہو گئی۔

ماں کا نام کلوپٹرا تھا۔ باپ کا نام۔ راسپوتین۔ بیٹی کا نام اولگا۔ بیٹے کا نام۔ راجا۔ وہ کبتروں کی کینیڈین ملٹی کلچرل فیملی تھی۔ میرے بہت سے دوست دور دور سے میرے کبوتروں کے خاندان کو دیکھنے آتے تھے۔

جب میں نے اپنا سائیکو تھیریپی کا کلینک شروع کیا تو میری ایک مریضہ کیوبا کی سیر کرنے گئی۔ واپسی پر وہ میرے لیے ایک کچھوا لائی۔ میں اس پتھر کے خوبصورت کچھوے کو اپنی میز پر پیپر ویٹ کے طور پر استعمال کرتا۔ میرے مریض سمجھے کہ میں کچھوے پسند کرتا ہوں۔ وہ تحفے کے طور پر کچھوے لاتے گئے اور میں مسکرا کر ان کے تحفے وصول کرتا گیا۔ پچھلے بیس برس میں میرے کلینک میں دو سو سے زیادہ کچھوے جمع ہو گئے ہیں۔ میز ہر ’کرسی پر‘ بل شیلف پر ’لکڑی کے پتھر کے‘ کپڑے کے ’آتش فشاں کے لاوے کے‘ شیشے کے اورپلاسٹک کے۔ الغرض اب یہاں ہر رنگ، نسل اور ملک کے کچھوے موجود ہیں۔ میں مریضوں سے کہتا ہوں تھیریپی کا سفر کچھوے کی دیومالائی کہانی کے سفر کی طرح ہے جس میں کچھوا سست رو ہوتا ہے لیکن خوگوش تیز ہونے کے باوجود سو جاتا ہے اور کچھوا جیت جاتا ہے۔

میرے مریضوں کے بچے بڑے شوق سے میرے کلینک آتے ہیں۔ میں ان کے والدین کے ساتھ باتیں کرتا ہوں وہ میرے کچھووں سے کھیلتے ہیں۔ ایک مریضہ کی بیٹی نے میرے کلینک کو کچھوا لائبریری بنا لیا ہے۔ وہ ہر ہفتے ایک کچھوا پسند کر کے اپنے ساتھ لے جا تی ہے اور اگلے ہفتے واپس لے آ تی ہے۔

مجھے اس کالم لکھنے کی تحریک اس نے پچھلے ہفتے دی جب وہ میرے لیے ایک کارڈ لائی۔ اس کارڈ پر ایک کچھوا بنا تھا اور اندر لکھا تھا

I AM SO SORRY I BROKE THE TURTLE۔ I DON ’T KNOW IF YOU ARE MAD AT ME OR HAPPY THAT I TOLD THE TRUTH BUT I AM VERY VERY VERY VERY VERY SORRY FOR BREAKING THE TURTLE FROM AKAYSHA TO DR SOHAIL

میں نے اکیشا کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے مجھے سچ بتایا اور مشورہ دیا کہ آئندہ وہ لکڑی کے کچھوے لے کر جائے جو آسانی سے نہیں ٹوٹتے۔ اکیشا یہ جان کر بہت خوش ہوئی کہ میں اس سے ناراض نہیں ہوا۔ اکیشا نے ماں سے کہا۔ ڈاکٹر ٹرٹل بہت اچھے ڈاکٹر ہیں۔ اور نیا کچھوا لے کر مسکراتے ہوئے گھر چلی گئی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 110
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 205 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail