گڈ مارننگ میسج اور ہراسمنٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سوشل میڈیا بہت ارزاں ہو چکا۔ چند ہزار کا موبائل اور ہر وقت کی فیس بک، انسٹا اور ٹویٹر آپ کے ہاتھ میں۔ اب عورت کے پیچھے اس کی گلی میں نہیں جانا پڑتا بس فیس بک کھولنی پڑتی ہے۔ مہذب رویوں اور ہراسمنٹ میں یہی کوئی بالشت بھر کا فرق ہے اور وہ ہے نیت کا۔ اپنی اور دوسرے کی حد پہچاننے کا۔ آپ کی حد وہاں سے ختم ہو جاتی ہے جہاں سے دوسرے کی شروع ہوتی ہے پھر چاہے وہ مرد ہو یا عورت۔ تمیز، تہذیب اور اخلاق کا برتاؤ ہر دو کا حق ہے پھر چاہے وہ سوشل میڈیا ہو، بازار ہو کہ دفتر۔

اب وقت ہے کہ معاشرے کو سوشل میڈیا مینرز سکھائے جائیں۔ انہیں بتایا جائے کہ سوشل میڈیا پر بھی اپنا کردار ساتھ لایا جاتا ہے۔ انہیں سمجھایا جائے کہ جس طرح سے آپ ہر کسی کے گھر پر فون نہیں ملا سکتے اسی طرح ہر کسی کو غیر ضروری میسج کرنا ایک بد تہذیب حرکت ہے۔ اگر آپ گلی سے گزرتی ہر عورت کو سلام نہیں کرتے تو ہر عورت کو فرینڈ ریکوئسٹ بھی کیوں بھیجتے ہیں۔ ہاں اگر آپ گلی کی ہر عورت کو بھی سلام کرتے ہیں تو آپ کا کیس سنجیدہ نوعیت کا ہے۔

مہذب رویہ یہ ہے کہ آپ بغیر کسی ضرورت یا قریبی دوستی اور رشتہ داری کے کسی کے میسنجر کے قریب مت پھٹکیں۔ یہ قریبی احباب کی جگہ ہے۔ اگر آپ کسی کے دوستوں کی فہرست میں شامل ہیں تو فیس بک کی وال ایک پبلک ایریا ہے۔ وہاں پر ہر بات ساری دنیا کے سامنے کی جاتی ہے۔ وال پر بات کرنے کی جرات کریں۔ اور جو بات آپ وال پر نہیں کر سکتے وہ لے کر میسنجر میں گئے اور دوسرا فرد بات میں گریزاں ہے تو آپ ہراساں کر رہے ہیں۔ چاہے وہ گڈ مارننگ کا میسج ہے یا کچھ اور۔

اور اگر کسی کی پروفائل پرائیویسی پر ہو تو اسے بار بار میسج بھیجنا تو ایک واضح ہراسمنٹ ہے۔ فیس بک مینرز یہ بھی ہیں کہ ہر ذاتی چیز اور تصاویر فیس بک پر نہ لگائی جائیں اور یہ بھی کہ ہر کسی کی تصاویر پر کمنٹ کرنا اور دل دینا آپ کا اخلاقی فریضہ نہیں۔ وہی معاشرہ جس میں آپ عورت اور مرد کو جدا بٹھانا چاہتے ہیں ان کو سوشل میڈیا پر بھی پرے رہنے دیا جائے۔ اصل زندگی میں عورت کو محدود کر دینے والا معاشرہ سوشل میڈیا پر ہر عورت کو آزاد اور قابل رسائی کیوں دیکھنا چاہتا ہے؟

دوسرے افراد چاہے وہ مرد ہوں یا عورتیں ان کو دی گئی عزت لوٹ کر آپ تک واپس ضرور آتی ہے۔ ان کی رائے اور رضا کا احترام کریں۔ رضا کا مذاق بنا کر افراد کے حقوق مت سلب کریں! انسانوں کو ان کی جنس سے پہلے انسان فرض کر لیا جائے تو شاید ہراسمنٹ کی حد سمجھ میں آنے ہی لگ جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •