کنیز کی قسمت: کراچی کی ایک کال گرل کی زندگی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’اس نے مجھے میلے سے اٹھایا اور بازار میں بٹھا دیا۔ مجھے اس پر اتنا اعتماد تھا کہ جب تک مجھے صورتحال کا صحیح طور پر پتا چلتا، تب تک ”آپاں“ میرے پہلے ”جوڑی دار“ سے پہلا ”ٹائم لگانے“ کے پیسے وصول کر کے اپنی ڈب میں اڑس چکی تھیں۔ وہ دن ہے اور آج کا دن، کہروڑ پکا کی کنیز کورنگی کے کوارٹر ایریا میں اپنی قسمت پھوڑ رہی ہے‘ ۔

میں دفتر میں بیٹھا ایک فیچرکو ایڈٹ کر کے مکمل کرنے کی تیاری کر رہا تھا کہ فون کی گھنٹی بجی۔ میں نے اسے سستی میں اسے بجنے دیا کہ یہ فون میرے لیے نہیں ہو گا اور دوسرا ساتھی ریسیو کر لے گا کیونکہ میں آپریٹر کو کہہ چکا تھا کہ صرف ضروری کال ملا دے کیونکہ لکھنے کا بہت سارا کام پڑا تھا۔

خیردفتری ساتھی نے فون سنا اور اپنے چہرے کے تاثرات کو خوشگوار بناتے ہوئے بتایا کہ آپ کی کال ہے۔ کوئی خاتون بات کر رہی تھیں، جنھوں نے پہلے دو تین سوالات کے ذریعے تصدیق در تصدیق چاہی کہ میں وہی ”سومرو“ بول رہا ہوں جس سے بات کرنے کا اسے کہا گیا ہے پھر وہ پوچھنے لگیں :

” آپ مجھ سے مل سکتے ہیں؟“
”کس سلسلے میں؟“

”میں، جی! ۔ وہ۔ میں آپ کو اپنی اسٹوری بتانا چاہتی ہوں۔ ایسا کریں کل دوپہر میں آجائیں آپ“ ۔
انھوں نے میری مرضی معلوم کرنے کا تکلف کیے بغیر آرڈر سنا دیا تو الجھن ہونے لگی کہ خاتون کو کم از کم اگلے بندے کی مصروفیت اور فراغت کا تو پوچھنا چاہیے تھا۔ بہرحال بات آگے بڑھائی۔
”آپ ایسا کریں کہ کل چھوڑیں پرسوں تشریف لے آئیں تو یہاں دفتر میں تفصیلی بات چیت ہو سکتی ہے“ ۔

”نہیں جی! میں نہیں آ سکتی اتنا دور۔ مجھے تو نیاز صاحب نے کہا تھا کہ تم ایک فون کر دو تو سومرو صاحب دوڑے چلے آئیں گے“ ۔ انھوں نے میرے ایک واقفکار کا حوالہ دیا۔
”خیر بی بی! دوڑنا تو اب اپنے بس کی بات نہیں مگر یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی درمیان کی جگہ رکھ لیں جہاں آپ کو بھی آسانی ہو اور دو دن بعد رکھیں“ ۔

اس طرح کنیز فاطمہ سے نیاز حسین ہی کے ”زیرِ انتظام“ ملاقات ہوئی جو کہ پولیس میں ہوتے ہوئے بھی ابھی تک گداز دل اور نرم مزاج رکھتے ہیں اور آرٹ موویز کے شیدائی ہیں۔ میری طرح وہ بھی ہر شخص کو کہانی سمجھتے ہیں، صرف فرد قرار دے کر نظرانداز نہیں کرتے۔

کنیز فاطمہ کا تعارف کراتے ہوئے نیاز نے بتایا:
”یار! یہ لڑکی کیچڑ میں کنول ہے، اس نے خود اپنے پیروں پر کلہاڑی نہ ماری ہوتی تو آج یہ کسی بڑے گھر کی بہو ہوتی کیونکہ اس کا اپنا تعلق بھی بہت اچھے گھرانے سے رہا ہے، تم اسے شبانہ اعظمی والی فلم ’منڈی‘ کی سمیتا پاٹیل سمجھ سکتے ہو جس نے گندے ماحول میں رہ کر بھی اپنی روح کی معصومیت کو مرنے نہیں دیا۔ یوں سمجھو یہ اپنی غلطی کا کفارہ ادا کر رہی ہے“ ۔

”اگر تمھیں ہی بولنا تھا تو پھر ان کو آنے کی کیا ضرورت تھی؟ پولیس ولے ہی رہو، سوشل ورکر نہ بنو“ ۔
اس جھاڑ سننے کے بعد نیاز کو چائے پانی کا بندوبست کرنے کی بات یاد آنا ہی چاہیے تھی۔
کنیز نے بتایا کہ وہ پنجاب کے شہر کہروڑپکا کی رہائشی تھی اور گذشتہ کچھ عرصہ سے کراچی میں ہے جہاں قابلِ نفرت زندگی اس کا مقدر بن گئی ہے۔

”مگر ابمیں نے کچھ سوچ لیا ہے۔ پہلے عزت گنوانے کے لیے گھر سے بھاگی تھی اور اب رہی سہی عزت بچانے کے لیے بھاگوں گی۔ آپ یہ لکھ لیں کہ“ Kaneez Fatima is no more in Red Light Area of Karachi ”

اس نے شستہ انگریزی میں یہ جملہ ادا کیا تو یقین ہو گیا کہ وہ پڑھی لکھی لڑکی ہے، ہماری فلمی ہیروئنوں کی طرح ”طوطا۔ ٹیوٹر“ کے رٹائے ہوئے انگریزی جملے اپنی مادری زبان میں بول کر رعب جھاڑنے کی مضحکہ خیز کوشش نہیں کر رہی ہے۔
”مگر یہ نوبت آئی کس طرح کہ آپ جیسی نستعلیق لڑکی کا یہ حشر ہو گیا؟“

میں نے عموماً دیکھا ہے اس قسم کے سوال پر سخت سے سخت دل والی لڑکی بھی کچھ لمحوں کے لیے بولنے سے معذور ہو جاتی ہے۔ یہی حال کنیز فاطمہ کا ہوا۔ اس کو چپ لگ گئی، پہلے اس کی خوبصورت آنکھیں نم ہو کر چمکنے لگیں پھر یہ نمی آنسوؤں کی صورت بہہ نکلی۔ چند لمحوں میں اس نے کوشش کر کے خود پر قابو پایا اور اب انہی نرم اور نم آنکھوں میں نفرت کی چنگاریاں بھڑک رہی تھیں :

”ہم ہر سال گاؤں سے داتا کے میلے میں لاہور جاتے تھے۔ دو سال پہلے وہیں پر سفیر سے میری ملاقات ہوئی۔ میرے والد بہشتی دروازے پر قطار میں کھڑے تھے جن کے آگے وہ کھڑا تھا۔ میں اور میری بہن ذرا فاصلے پر بیٹھے ہوئے تھے۔ والد صاحب ایک بار تھک کر قطار سے نکل آئے تو سفیر کو جگہ کا خیال رکھنے کا کہہ آئے تھے۔ اس طرح جب ابو واپس قطار میں گئے تو سفیر نے ان کا دل جیتنے کے لیے انھیں اپنی جگہ پر آگے کھڑا کر دیا اور خود پیچھے کھڑا ہو گیا۔“

”اس طرح اس نے ابو کے ساتھ ساتھ میری توجہ بھی حاصل کر لی اور یہی اس کا مقصد تھا۔ فارغ ہونے کے بعد ابو اسے اپنے ساتھ ہی ہمارے پاس لے آئے۔ اس طرح اس سے واقفیت ہوئی۔ اس نے بتایا کہ اسے فلموں میں کام کرنے کا شوق ہے اور ہر سال یہی منت ماننے آتا ہے۔ فلموں کے حوالے پر میرا دل دھڑک اٹھا کیونکہ اسے صرف شوق تھا، مجھے تو جنون تھا۔ یہ مجھے بہت بعد میں معلوم ہوا کہ اس نے میرے ہاتھ میں فلمی میگزین دیکھ کر یہ بہانہ گھڑ لیا تھا۔ میلے میں ہمیں کئی بار یکجا ہونے کا موقع ملا اور ہر بار جب میں فلم وغیرہ کا تذکرہ نکالتی، وہ میری حوصلہ شکنی کرتا اور کہتا کہ تم جیسی معصوم لڑکی فلم لائن میں تباہ ہو جائے گی، کوئی اور بات کرو۔ اس طرح اس نے میری شوق کو اور بھڑکا دیا اور میرا یہ حال ہو گیا کہ جس دن ہم لوگ لاہور سے واپس آرہے تھے ۔ ۔ ۔“

کنیز کی بات نیاز حسین نے کاٹ دی: ”لاہور والیو! کراچی واپس آجاؤ، تم ذرا یہ سامان پلیٹوں میں نکال کر لے آؤ، اس کے بعدچائے لے آنا۔ ٹھنڈی ہو گئی تو ہمارا یار! پھر اپنے مشہور زمانہ جملے سے حملہ کرے گا کہ چائے اور۔ گرم گرم“ نیاز نے ایک ہی وقت میں ہم دونوں کو لپیٹ لیا۔

کنیز اٹھی اور سعادتمند گھریلو لڑکیوں کی طرح پکوڑے، فروٹ اور دوسری اشیا پلیٹوں میں سجا کے لے آئی۔ اس نے خود بہت کم کھایا اور ہمیں کھلانے میں زیادہ دلچسپی لی جبکہ نیاز اور میرے درمیان مقابلے کی فضا پیدا ہو گئی جو کہ چند منٹوں میں پلیٹیں صاف ہونے پر دم توڑ گئی۔

”آپ نے یہ نہیں پوچھا کہ میں نے آپ کے ہاں آنے سے کیوں انکار کیا تھا؟“ اس نے برتن سمیٹتے ہوئے سوال کیا تو میں نے اسے بتایا کہ اس نے دفتر دور ہونے کا کتنا بھونڈا بہانہ پیش کیا تھا جبکہ اس وقت وہ اس سے بھی دگنے فاصلے پر ”بہ راضی و رضا“ موجود تھی۔

”اصل میں مَیں آپ کا اخبار بہت دیر سے (بہت عرصے سے ) پڑھتی ہوں، آپ مجھے جو بھی سمجھیں مگر یہ حقیقت ہے کہ مجھے اتنے پاکیزہ ماحول میں آنا غلط لگ رہا تھا۔ میں سمجھی وہاں سب بزرگ اور باریش لوگ ہوں گے جو مجھ سے نفرت کریں گے یا بات کرنا بھی پسند نہیں کریں گے“ ۔

”مگر آپ نے ان کو دیکھا تو آپ کو خیال آیا کہ یہ تو اپنا ہی بھائی بند لگ رہا ہے۔ ہے نا؟“ یہ نیاز تھے جو چوٹ لگانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے تھے، اس لیے ان کو خاموش کرنے کے لیے میں بھی اوچھے ہتھکنڈوں پر اُتر آیا:

”اچھا نیاز بھائی! یہ بتاؤ کہ تمہارا بیٹا اب بھی تمھیں ’ماموں‘ بولتا ہے یا اب اسے پتا چل گیا ہے کہ تم مامووں کی قطار سے باہر ہو؟“

اصل میں نیاز کی پھڈے باز فطرت کے باعث آئے دن اس کی پوسٹنگ بدلتی رہتی تھی، اس لیے ان کی بیگم بچوں سمیت میکے میں رہتی ہیں اور ان کے بچے گھر میں با افراط پائے جانے والے مامووں کے باعث باپ کو بھی عرصے تک ”ماموں“ کہہ کر ہی بلاتے رہے تھے۔ یہ چوٹ ذرا گہری تھی اس لیے اسے برداشت کرنے کے لیے اس نے کمال ضبط کا مظاہرہ کیا اور آخرکار مسکراہٹ دباتا ہوا نکل گیا۔

”ہاں تو کنیز بی بی! آپ لاہور سے واپس گاؤں آنے کی بات بتا رہی تھیں“ ۔

”ہاں جی! تو اس دن سفیر نے ہمیں کافی تحفے وغیرہ لے کر دیے اور موقع پا کر مجھے ایک لفافہ بھی پکڑا دیا جس میں اس نے مجھے خط لکھا تھا۔ اس خط میں تین دن بعد اس نے میرے گاؤں آنے کا وعدہ کیا تھا اور وہاں کے کسی دوست کا ایڈریس لکھا تھا جہاں مجھ سے وہ ملنا چاہتا تھا۔ اس ملاقات میں اس کے دوست کی بیوی ناہید بھی موجود تھی جس نے سفیر کی بہت زیادہ تعریفیں کیں۔ اس طرح اس کمینے سے میرا تعلق بنا اور اگلے سال جب ہم لاہور گئے تو آخری دن میں اپنے گھر والوں کے ساتھ واپس جانے کے بجائے اس کے ساتھ کراچی چلی آئی“ ۔

”یہاں اس نے آپ کو کہاں ٹھہرایا؟ کوئی گھر یا کسی اور کے پاس لے آیا؟“

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
شبیر سومرو کی دیگر تحریریں
شبیر سومرو کی دیگر تحریریں