او آئی سی ایک ناکام تنظیم کیوں ہے
ماضی قریب میں او آئی سی کے وزرا خارجہ کا اجلاس ابو ظہبی میں منعقد ہوا۔ یہ معمولی اجلاس اس وقت اچانک غیر معمولی اہمیت اختیار کرگیا جب پاک بھارت جنگی صورتحال کی حدت اجلاس تک جا پہنچی۔ اجلاس دنیا بھر کی توجہ مرکز بن گیا کیونکہ اس میں بھارت کو بطور مہمان مدعو کیا گیا تھا جبکہ پاکستان نے شرکت کو بھارت کی عدم حاضری سے مشروط کردیا۔ اس موقع پر او آئی سی نے سفارتی روایات کی بجائے مقامی روایات کو ملحوظ خاطر رکھا اور اجلاس کو اس معاملے سے لاتعلق رکھنے کی بھرپور کوشش کی۔
اس وقت ڈرامائی موڑ آئے جب بھارت نے اجلاس میں شرکت کرکے سفارتی کامیابی حاصل کرنے کا تاثر دیا جبکہ پاکستان نے جوابی طور پر اپنی رسمی اور لو پروفائل شرکت کے باوجود کشمیر کے حق خودارادیت کے ضمن میں قرار داد پاس کروالی۔ او آئی سی نے اپنے پچاس نکاتی اعلامیہ میں پاک بھارت تنازعہ کا سرے سے کوئی تذکرہ (سوائے پائلٹ کی رہائی پر عمران خان کی ذاتی مدح سرائی کے ) نہ کرکے ہی اپنے آپ کو سرخرو کروا لیا۔ اگر بھارت نے اجلاس میں شرکت کرلی، تو کیا تیر مار لیا اور اگر پاکستان نے قرارداد پاس کروالی تو کون سا سنگ میل عبور کرلیا اور سب سے بڑھ کر او آئی سی نے اعلامیہ میں کون سا نیا کام کیا، ماہرین تاحال اس بحث میں الجھے ہوئے ہیں۔
آخر کیا وجہ ہے کہ اسلامی تعاون کی تنظیم نہ تو اقوام متحدہ کی طرح ایک منظم ادارہ بن سکی اور نہ ہی یورپی یونین کی طرح کوئی بامقصد تنظیم۔ ستاون اسلامی ممالک کی یہ تنظیم اپنے چارٹر کے مطابق دنیا بھر کی اسلامی امہ کے تحفظ کی دعویدار ہے لیکن اس کے تنظیمی امور ہی اس دعوے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
اسلامی تعاون تنظیم اپنے جوہر میں ایک مشہور روایت کے مطابق القدس شریف کی بے حرمتی کے ردعمل میں بنی تھی لیکن کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ عرب اسرائیل جنگوں میں عبرت ناک شکستوں کے بعد ناصرازم کا زوال شروع ہوا تو ایسے میں عرب ممالک کو ایک ”ہولی الائنس“ کی اشد ضرورت تھی تاکہ وہ اپنے آمرانہ اقتدار کا بچاؤ کر سکیں۔
اؤ آئی سی کے ساتھ ایک اور ظلم اس کے مقصد کے تعین کا تھا۔ ابتدا سے ہی تنظیم متعدد مقاصد کے حصول کے بوجھ تلے دب گئی۔ فلسطین کو اس میں اپنی آزادی کا خواب نظر آیا تو ایران کو اپنی شاہانہ برتری کا، خلیجی ممالک کو اپنی سیاسی شناخت کی سیڑھی مل رہی تھی تو مصر اور افریقی اسلامی ممالک کو ڈوبتے سوشلزم کا ایک سہارا۔ جبکہ پاکستان، ترکی اور دیگر ایشیائی اسلامی ممالک ایک روشن خیال اسلامی تنظیم کا مقصد لئے ہوئے تھے۔ چنانچہ یہ کثیرالجہت مقاصد مجموعی طور پر رکن ممالک کو تین واضح بلاکوں میں تقسیم کرگئے۔ جس کے نتیجے میں ایشیائی، جزیرہ نما عرب اور افریقی بلاکوں میں تقسیم ہونے سے تنظیم کے مقصد سے روح ہی ختم ہوگئی اور ایک مشترکہ لائحہ عمل بنانا مشکل تر ہوگیا۔
اسلامی تعاون تنظیم اپنی ساخت کے اعتبار سے بھی ایک انتہائی غیر سنجیدہ ادارہ ثابت ہوا ہے۔ تنظیم کی تمام تر سیاسی، معاشی اور انتظامی امور کی ذمہ داری فردواحد، سیکرٹری جنرل کے ہاتھ میں ہے۔ چنانچہ اس سے تنظیم کی موثر فعالیت کا انحصار سیکرٹری جنرل کی شخصیت پر ہے۔ تنظیم تین اسسٹنٹ سیکرٹری جنرلز کا چناؤ بھی کرتی ہے جو تینوں بلاکوں کے نمائندہ ہوتے ہیں لیکن عملی طور پر یہ تینوں عہدے علامتی ہیں۔ جس کی وجہ سے تنظیم کا سیکرٹریٹ غیرفعال ہوگیا۔
اس کے علاوہ چارٹر کے مطابق تنظیم کا حقیقی صدر مقام بیت المقدس ہے لیکن اس کی آزادی تک جدہ عارضی طور پر صدر مقام رہے گا۔ اس فیصلے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ او آئی سی کا سیکرٹریٹ سفارتی طور پر یتیم ہوگیا۔ سعودی عرب نے عارضی دفتر ہونے کے ناتے سیکرٹریٹ کو نہ تو کوئی خصوصی سفارتی اہمیت دی اور نہ ہی کوئی غیر معمولی تحفظ۔ بلکہ اپنے مقامی قوانین کا مکمل اطلاق کرتے ہوئے تنظیم میں خواتین کی ملازمتی شمولیت کو بھی محدود کیا ہوا ہے۔
ایک اور بڑا ساختی نقص یہ بھی ہے کہ اجلاس میں منظور شدہ قراردادوں کے اطلاق کا کوئی لائحہ عمل چارٹر میں نہیں دیا گیا۔ جس کے نتیجے میں او آئی سی کی قراردادوں کی اہمیت اخبار کے صفحات کے علاوہ اور کہیں جگہ بنا ہی نہیں پاتیں۔ جیسا کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی قرارداد متعدد بار منظور ہوئیں لیکن اقوام متحدہ تک اس آواز کو پہچانے کے لئے کوئی لائحہ عمل یا حوالہ تک دیے جانے سے قاصر ہیں۔ ان نقائص کی وجہ سے تنظیم کو باہمی معاملات میں بھی سخت مشکلات پیش آتی ہیں چہ جائیکہ وہ بیرونی معاملات کو سدھارنے کا بیڑہ اٹھائے۔
حال ہی میں ایک اور معاملہ بھی زیربحث آکر تنازعہ کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔ چارٹر کے مطابق تنظیم کا مقصد دنیابھر میں موجود مسلمانوں کا تحفظ کرنا اور تعاون بڑھانا ہے۔ اس کے لئے تنظیم کی رکنیت کے حصول کے لئے اسلامی مملکت کا ہونا یا نہ ہونا لازمی نہیں لیکن عملی طور پر اس کی رکنیت اسلامی اکثریتی ممالک کو ہی دی گئی ہے (کئی مسلم اقلیتی ممالک او آئی سی کے ممبر ہیں: مدیر)۔ روس، تھائی لینڈ اور بوسنیا بطور مبصر شامل ہیں۔ سعودی عرب، مراکش، الجزائر سمیت کچھ ممبر ممالک بھارت کو دنیا میں سب سے زیادہ مسلم اقلیتی آبادی رکھنے کے اعتبار سے رکن ملک دیکھنے کے خواہاں ہیں لیکن پاکستان ان کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ 1969 کے تنظیم کے پہلے اجلاس میں بھی پاکستان نے بھارت کو نکالے جانے کے بعد ہی شرکت یقینی بنائی تھی۔ شاید انہی حالات کو دیکھتے ہوئے بھارت نے ابھی تک او آئی سی کی رکنیت کی باضابطہ درخواست نہیں دی۔ کیونکہ او آئی سی تاحال اس معاملے پر کوئی تشریح نہیں کرسکی۔
ممکن ہے کہ اپنی پیدائش کے وقت سرد جنگ کی وجہ سے کمزور ممالک کو صرف اس حد تک ہی تنظیم سازی کی آزادی میسر ہو کہ ان کو انقلابی تقاریر کا پلیٹ فارم مہیا کیا جائے۔ لیکن سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے او آئی سی نے افغان جنگ، عراق جنگ، مسئلہ کشمیر و فلسطین اور دہشتگردی کے مسلے پر مسلم امہ کو سخت مایوس کیا ہے۔ ان رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے کن اصلاحات کی ضرورت ہے اس کے متعلق ممبر ممالک سے بہتر کون جانتا ہے لیکن شاید خود ہی مصلحتوں کا شکار ہیں۔
مہاتیر محمد ہو یا طیب ارودگان، شاہ عبداللہ ہو یا جنرل مشرف سب نے مسلم امہ کے اتحاد پر لفظی زور تو دیا لیکن عملی اقدام کی طرف نہیں گئے۔ بلکہ تنظیم کو اپنی شخصی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے استعمال کیا۔ بدقسمتی یہ بھی ہے کہ آمرانہ اقتدار رکھنے والے اکثریتی ممبران او آئی سی کو ایک طاقتور تنظیم بنانے کی بجائے ایک کیریکٹر سرٹیفیکیٹ جاری کرنے والی تنظیم بنائے رکھنا چاہتے ہیں۔


