کاش ہر دن 23 مارچ ہوتا !


جب بھی پاکستان کا کوئی قومی دن آتا ہے تو اس ملک میں رہنے والے قوموں کے زبان اور کلچر کے ساتھ ریاستی رویہ دیکھ کر مایوسی کا مارا دل یہ ناممکن سی خواہش کر جاتا ہے کہ کاش ہر دن 23 مارچ یا 14 اگست ہوتا۔ کیونکہ یہ وہ دن ہیں جب پاکستان میں ٹی وی، ریڈیو اور سٹیج پروگراموں میں اردو کے ساتھ بقول مطالعہ پاکستان مقامی زبانوں کے نغمے اور مقامی کلچر کے نمونے بھی ناظرین اور سامعین کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔

ایسے موقعوں پر ملک دشمن عناصر کو اتفاق و اتحاد دکھانے کے لیے بڑے فخر سے کہا جاتا ہے کہ مملکت خداد پاکستان خوبصورت پھولوں کا ایک گلدستہ ہے۔ اور جب ایسے دن گزر جاتے ہیں تو باقی قوموں کے بابت کچھ نہیں کہ سکتا لیکن اپنے پشتون تو اس گلدستے میں وہ خوبصورت پھول والا روپ بدل کرکے واپس ٹی وی ڈراموں میں گل خان کے نام سے اپنے چوکیداری پہ لگ جاتے ہیں، یا بیٹری اور انجن آئل کے مشہوری کے لیے ٹرک ڈرائیور بن کر نہ صرف ان کے کاروبار کو فروغ دیتے ہیں بلکہ غلط اردو بولنے سے دیکھنے اور سننے والوں کو ہنساتے بھی ہیں۔

اگر پشتو، بلوچی، سیندھی، سرائیکی، پنجابی اور دیگر زبانوں کو نظرانداز کرنے کے بجائے ان کی ترویج کی جاتی تو آج پاکستان میں رہنے والے اقوام ایک دوسرے کے زبان سمجھ اور بو ل سکتے ہوتے اور ایک دوسرے کے رسم رواج سے باخبر ہوتے۔ اگر قوموں کے ساتھ انصاف پر مبنی سلوک کیا جاتا تو ستر سالہ پاکستان کا نازک دور کب کا گزر چکا ہوتا۔

دنیا والے ڈائیورسٹی (تنوع) کے قائل ہیں اور اسے فروغ دیتے ہیں لیکن ہمارے ہاں حب الوطنی کی پہلا اور ناقابل بحث شرط یہ ہے کہ آپ نے صدق دل سے یہ ماننا ہوگا کہ یہاں رہنے والے تمام لوگ پاکستان بنتے ہی پیدا ہو گئے تھے اس لیے اسے پاکستانی قوم کہتے ہیں اور ان کا رہن سہن، طور طریقے، اوڑھنا بچھونا سب کچھ پاکستانی کہلاتے ہیں حتی کہ نسل در نسل کھائی جانی والی پنجابی نہاری، سیندھی بریانی، بلوچی سجی اور پشتونوں کے ”لاندی کے گوشت“ کو بھی آپ نے پاکستانی ہی کہنا ہے ورنہ اپنی تاریخی شناخت کی بات کرکے غدار ٹھہرے تو شکوہ نہیں کرنا۔

پاکستان میں قومی زبان اردو ہے لیکن فخر انگریزی بول کر محسوس کیا جاتا ہے۔ جو لوگ اردو کو قومی زبان نہ سمجھنا ملک سے غداری سمجھتے ہیں ان میں سے زیادہ تر کے اپنے ہی بچے انگلش میڈیم سکول میں پڑھتے ہیں۔

چیک رپبلک کے دارالحکومت پراگ کے ایک یونیورسٹی میں پڑھتے ہوئے ایک دن جب مادری زبانوں کے بارے میں بحث چل پڑی تو میں نے کلاس میں بیٹھے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے کلاس فیلوز سے کہا کہ مجھے اپنے ہی اباواجداد کے علاقے کے سکول میں جس زبان میں پڑھایا جاتا تھا، میری ماں وہ زبان نہ بول سکتی تھی اور نہ ہی سمجھ سکتی تھی۔ یہ کہنے کے بعد میں صاف طور پر دیکھ سکتا تھا کہ وہ سارے میرے اس بات کو جھوٹ سمجھنے لگے، لیکن جب میں نے پاکستان میں ”قابلِ مہر غداری“ والا قصہ یعنی ”پاکستان میں ایک نہیں بلکہ کئی اقوام آباد ہیں“ سنایا تب وہ شاید مان گئے۔

پاکستان میں نہ صرف مادری زبانوں کو بے سود ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے بلکہ ہنوز جاری ہے۔ مادری زبانوں کے بارے میں ایسا تاثر دیا جاتا ہے کہ دنیا نے اردو کے سہارے ترقی کی منازل طے کی ہیں اور ایک ہم ہیں کہ ماں باپ کی بولی میں اٹکے ہوئے ہیں۔ فرض کریں کوئی کسی جاپانی سے پوچھتا ہے کہ کیا آپ جاپانی لکھ سکتے ہیں یا کسی جرمن سے دریافت کرکے کہے کہ کیا آپ ڈوچے زبان میں لکھی ہوئی عبارت پڑھ سکتے ہو؟ تو غالب گمان یہ ہے کہ وہ پوچھنے والے کو پاگل ہی سمجھیں گے۔ مگر یہی بندہ اگر یہی سوالات کروڑوں آبادی اور ہزاروں سال پر محیط تاریخ رکھنے والے اقوام پشتون، بلوچ اور دیگر سے کریں گے تو پاگل نہیں ہوگا کیونکہ ان میں ایسے افراد نہ ہونے کے برابر ہیں جو اپنی مادری زبان ٹھیک سے لکھ پڑھ سکتے ہوں۔

پاکستان کے مشہور صحافی سہیل وڑائچ نے اپنے ایک پروگرام میں سپین کے بارسلونا میں رہنے والے پاکستانی پنجاب کے ایک مشہور بزنس مین چوہدری امانت مہر سے پوچھا تھا کہ آپ سپین میں رہتے ہوئے اپنے بچوں کو پنجابی کیوں سکھا رہے ہیں تو اس نے جواب میں کہا کہ پنجابی اس لیے سکھا رہے ہیں تاکہ ان کو اپنی اباواجداد اور اپنے وراثت کا پتہ ہو۔ چوہدری امانت مہر کا خدا بھلا کرے وہ تو سپین میں اپنی زبان زندہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ادھر پنجاب میں تعلیم زدہ لوگ پنجابی بولنے اور پنجابی سمجھنے میں عار محسوس کرتے ہیں۔ تقریباً یہی حالت پاکستان میں رہنے والے باقی قوموں کی بھی ہے۔

کسی گل فروش کے پاس جا کے دیکھو۔ یک رنگی گلدستے سے رنگ برنگی والے گلدستے اور بھی خوبصورت لگتے ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں رہنے والے قوموں کی زبانوں اور کلچر کو صرف قومی ایام منانے تک محدود نہ رکھیے بلکہ ہر دن 23 مارچ، 14 اگست اور 6 ستمبر سمجھ کر ٹی وی، ریڈیو، سٹیج اور دوسرے پلیٹ فارمز پر پنجابی، پشتون، بلوچ، سیندھی اور سرائیکی کے ساتھ تمام زبانوں اور کلچرز کو نہ صرف آگے آنے دو بلکہ ان کو ریاستی سرپرستی میں فروغ دو۔ پاکستان کو خطرہ ان زبانوں اور کلچرز کے ہونے سے نہیں بلکہ نہ ہونے سے ہے۔

Facebook Comments HS