دلیپ کمار کی اکڑ، کشور کی تساہلی اور دم توڑتی مدھوبالا

ویلنٹائن ڈے، جسے مذہب عشق کے پرہیزگار مومنوں نے انتہائی خشوع و خضوع سے اپنے اپنے مسلک کے مطابق منایا۔ اپنے چاہنے والوں /والیوں سے جنم جنمانتر تک ساتھ نبھانے اور سکھ دکھ میں ہر دم ساتھ دینے کے نہ جانے کتنے عہد و پیمان باندھے۔ عین اسی دن گوگل نے مدھو بالا کا ڈوڈل بنا کر اُس خوبصورت چہرے کو خراج عقیدت پیش کیا جس کی دل میں اتر جانے والی مسکراہٹ اور چمکتی آنکھوں کا کوئی جواب اس کے بعد نہ مل سکا۔ وہی مدھوبالا جس کے بارے میں شمی کپور نے کہا تھا کہ جب وہ سامنے ہوتیں تو میں ڈائیلاگ بھول جاتا کرتا تھا۔

ہاں وہی مدھوبالا جس کا یوم پیدائش 14 فروری کو پڑتا ہے۔ وہی دن جو عاشقوں کی عید کہلاتا ہے، محبتوں کا بسنت اور چاہتوں کا نوروز مانا جاتا ہے۔ وقت کی ستم ظریفی یہ کہ ویلنٹائن ڈے کی مناسبت سے جس دن دو پیار کرنے والے اپنی محبت کی تکمیل کی قسمیں کھاتے ہیں اور سات جنموں تک ساتھ رہنے کا وعدہ کرتے ہیں اسی دن جنمی اِس ہر دل عزیز اداکارہ کی محبت ہی ادھوری رہ گئی۔

Read more

مرد کیوں بن جاتے ہیں ’جورو کے غلام‘ ؟

جب سے ہوش سنبھالا ہے اکثر عورتوں کی گفتگو میں یہی شکوہ سنتی آئی ہوں کہ فلاں لڑکے کی شادی کیا ہوئی سبھی کو بھول گیا۔ اس گفتگو کے دوران کچھ اس طرح کے جملے سنائی پڑتے ہیں ”نہ جانے اس عورت نے کیا کالا جادو کر دیا ہے کہ بس اسی کا ہو گیا ہے“ ، ”اپنی بیوی کے سوا کسی کی سنتا ہی نہیں“ ، ”وہ تو اپنی بیوی کا غلام بن گیا ہے“ وغیرہ وغیرہ۔ یہ وہ

Read more

سوشانت کی خود کشی نے کھولے فلمی دنیا کے بد نما راز

اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی خود کشی کی اصل وجہ تو ابھی تک ایک معما ہی بنی ہوئی ہے، لیکن کئی ایسے راز ضرور ہیں، جن سے آہستہ آہستہ پردہ اٹھتا جا رہا ہے۔ ان کے دوست اور احباب، ان کی خود کشی کی کوئی ٹھوس وجہ بتانے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ سوشانت نے جو قدم اٹھایا، اس نے نا صرف دنیا کو ششدر کیا، بلکہ اپنے شائقین کے دل میں گھاؤ بھی کر دیا۔ اس سانحے نے پوری بھارتی فلم انڈسٹری کو، جیسے جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ان کی موت کے بعد، جو رد عمل سامنے آئے ہیں۔ ان میں ایک فقرہ بہت تیزی سے ٹرینڈ کر رہا ہے۔ اور وہ ہے (نیپا ٹزم ان بالی ووڈ) یعنی بالی ووڈ میں اقربا نوازی۔

فلمی دنیا میں اقربا پروی کے، رویے کو سوشانت کی خود کشی کی، وجہ مانتے ہوئے قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہے۔ بعض لوگوں نے تو ایک ایف آئی آر تک لکھوا دی ہے۔ جس میں ہدایت کار کرن جوہر، اداکار سلمان خان، ہدایت کار ایکتا کپور، ہدایت کار ساجد ناڈیا والا، ہدایت کار سنجے لیلا بھنسالی، آدتیہ چوپڑا، بھوشن کمار، اور دنیش سمیت آٹھ فلمی ہستیوں کو ملزم بنایا گیا ہے۔ سوشانت کی خود کشی کے بعد ایک ویڈیو جاری کر کے، ان کی موت کا ذمہ دار، فلمی دنیا کی اقربا نوازی کو، قرار دینے والی اداکارہ کنگنا رناوت کا نام اس ’نالش‘ میں بطور گواہ درج کروایا گیا ہے۔

Read more

مرد کو بھی درد ہوتا ہے

بھارتی فلم انڈسٹری کے کم عمر اور خوبرو نوجوان اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کی خبر نے سبھی کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ ایک چمکتا ہوا ستارہ اچانک ٹوٹ گیا۔ اپنی فلموں کے ذریعہ زندگی کی مشکلوں کے آگے کبھی ہار نہ ماننے کی سیکھ دینے والا یہ اداکار اپنی زندگی سے اتنا مایوس ہو گیا کہ یکایک جان کی بازی ہی ہار بیٹھا۔ ایک چھوٹے سے شہر سے آئے سوشانت نے اتنے مختصر عرصے اور کم عمر

Read more

رشی کپور سے بے رخی: امیتابھ کا عدم تحفظ یا کم ظرفی؟

30 اپریل کی صبح اچانک ایک خبر کی آہٹ ہوئی کہ بالی ووڈ کے مشہور کپور خاندان کے سب سے چھوٹے فرزند جنھیں پیار سے گھر والے چنٹو کہہ کر پکارتے اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ اس خبر کی تصدیق کرنے کی ضرورت یوں بھی محسوس نہیں ہوئی کہ اس خبر کو سب سے پہلے بتانے والے بالی ووڈ کے ہی ایک ایسے مشہور اداکار تھے جنھیں بالی ووڈ ہی نہیں پوری دنیا عزت کی نظر سے دیکھتی ہے۔

Read more

کرائے کی کوکھ کا چلن اور بالی ووڈ کے کنوارے ماں باپ

برصغیر کا معاشرہ بھلے ہی بڑی تیزی سے ترقی کر رہا ہو لیکن نظریاتی اعتبار سے ہم میں سے زیادہ تر محتاط ہی واقع ہوئے ہیں۔ ہمارے یہاں جو چیزیں ابھی بھی معیوب تصور کی جاتی ہیں ان میں سے ایک سیروگیسی یا کرائے کی کوکھ بھی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گذشتہ کچھ عرصہ میں اس موضوع پر گفتگو بڑھی ہے۔ اس کی وجہہ شاید یہ ہے کہ فلمی دنیا کے کچھ مشہور افراد نے سیروگیسی کو اپنایا ہے۔

بات سرحد کے اس طرف کی ہو یا پھر اس پار کی، بڑے پردے پر نظر آنے والے سیلیبریٹیز کا غلبہ عموما ہم میں سے بہت سوں کے دل و دماغ پر رہتا ہے۔ حالت یہ ہے کہ یہ فلمی ستارے ہماری زندگی میں کچھ اس طرح سے شامل ہیں کہ اپنے محبوب اداکاروں کی نقل کرنے میں بعض اوقات ہم ساری حدیں تک پار کر جاتے ہیں۔ ان کے فیشن کا اسٹائل ہو یا پھر بالوں کا، کھانے پینے سے لے کر رہن سہن تک سب کچھ ہماری دلچسپی کا مرکز بنے رہتے ہیں۔ گلیمر سے بھری اس انڈسٹری میں اب کرائے کی کوکھ ایک ٹرینڈ سا بن گئی ہے۔

Read more

حیض پر بنی فلم کو آسکر ایوارڈ اور عورتوں کو درپیش رویے

برصغیر کے معاشرے کے ایک بڑے حصے میں جن موضوعات پر گفتگو کسی کے لئے بھی معبوب خیال کی جاتی ہے ان میں سے ایک حیض یا ماہواری بھی ہے۔ ایک خاتون قلم کار ہوتے ہوئے بھی اس موضوع پر لکھنے کے خطرے سے میں بخوبی واقف ہوں اور معاملہ کی سنگینی کے پیش نظر یہ خطرہ اٹھانے کا ارادہ رکھتی ہوں۔ موضوع پر بحث میں جانے سے پہلے ایک خبر پر توجہ فرمائیے۔ سنیما کی دنیا کا سب سے

Read more

ملائیکہ اروڑا نے ارباز خان سے طلاق کی وجوہات بتا دیں

برصغیر کے معاشرے کو عام طور پر جن چیزوں میں سب سے زیادہ دلچسپی رہتی ہے ان میں سے ایک طلاق شدہ خواتین اور ان کی طلاق کے بعد زندگی بھی ہے۔ جہاں کہیں کسی عورت کو طلاق ہوئی سماج اس کے دروازے پر جاکھڑا ہوتا ہے اور بغل میں دبی اخلاقیات کی کتاب نکال کر زور زور سے سبق پڑھنا شروع کر دیتا ہے۔ یہ منظر دیکھ کر ٹھالی برادری کے لوگ بھی وہیں مجمع لگا لیتے ہیں اور یوں میلہ سا سج جاتا ہے۔ اس تماشے میں کسی کو یاد نہیں رہتا کہ عورت بھی انسان ہے اور اس کی بھی کوئی عزت ہے۔ خیر، اس پر آگے بات کرنے سے پہلے ذرا ایک انٹرویو کا ذکر کر لیتے ہیں۔

ارباز خان سے طلاق لینے کے دو سال بعد آخر کار ملائیکا اروڑا نے اپنی خموشی توڑ ہی دی۔ اپنی دوست کرینہ کپور خان کے ریڈیوں شو واٹس وومن وانٹ میں انہوں نے اپنی طلاق پر کھل کر بات کی، ان کے مطابق وہ اس موضوع پر ایک دوست کے ناطے کرینہ سے تسلی بخش بات کر سکتی ہیں۔

Read more

ویلینٹائن ہفتہ: سات دنوں کا ٹائم ٹیبل

7 فروری سے شروع ہونے والے ویلنٹائن ہفتے کا پہلا دن روز ڈے ہوتا ہے۔ اس دن جوڑے ایک دوسرے کو گلاب کے پھول دیتے ہیں۔ اب یہاں پھولوں کو لے کر بھی اپنا اپنا انتخاب ہے۔ لال گلاب محبت کی علامت ہے، وہیں پیلا گلاب دوستی کے لئے دیا جاتا ہے، پنک گلاب خوشی کے لئے جبکہ سفید گلاب کسی نئی شروعات کے لئے ہوتا ہے۔ یہ اور بات ہیں کہ ان دنوں کے دوران گلاب کی قیمت تین گنی تک وصولی جاتی ہے۔

8 فروری کو پرپوز ڈے منایا جاتا ہے۔ جو کہ پیار کے اظہار کا دن ہوتا ہے۔

9 فروری کو چوکلیٹ ڈے آتا ہے۔ اس حوالے سے مانا جاتا ہے کہ چوکلیٹ آپ کے رشتے میں میٹھاس پیدا کرتی ہے۔ اس لئے پیار کرنے والے جوڑے ایک دوسرے کو چوکلیٹس گفٹ کرتے ہیں جس کے لئے بازار میں الگ الگ قسم اور شکل کی چوکلیٹس دستیاب رہتی ہیں۔ اس میں دل کے ڈیزائن والی چوکلیٹ یا دل کی شکل والے پیکٹ میں چوکلیٹس کی فروخت کچھ زیادہ ہی ہوتی ہے۔

10 فروری کو ٹیڈی ڈے منایا جاتا ہے۔ اس دن اپنے ساتھی کو ٹیڈی دے کر خوش کیا جاتا ہے۔

11 فروری کو پرومِس ڈے یعنی وعدوں کا دن کہا جاتا ہے۔ اس دن آپ اپنے رشتے کو گہرائی سے سوچتے ہیں اور اپنے ساتھی سے وعدہ کرتے ہیں کہ اس رشتے کو ہمیشہ نبھائیں گے۔

Read more

بپاشا، پرینکا، ملائیکا، سشمیتا اور ان کے نوعمر ساتھی

بپاشا بسو، پرینکا چوپڑا، اور سشمیتا سین ان اداکاراؤں کے نام پڑھ کر ان سبھوں کے حسین چہرے یقینا آپ کی آنکھوں میں پھر گئے ہوں گے۔ ان کے ذریعہ مختلف فلموں میں ادا کیے گئے کردار بھی آپ کے ذہن میں دوڑ گئے ہوں گے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ یہ اداکارائیں بھارتی سنیما پر راج کرتی ہے۔ بھارتی سنیما کی یہ ممتاز اداکارئیں جن کی خوبصورتی سے لے کر اداکاری تک کا ڈنکا بجتا ہے۔ اِن تمام میں ایک اور چیز یکساں ہے اور وہ ہے کہ ان سب نے اپنی ازدواجی زندگی کے لئے ایسے لڑکوں کا انتخاب کیا ہے جو عمر میں ان سے کافی کم ہیں۔

Read more

بھارتی طلبہ کو امتحان میں فیل کرنے کی اجازت دے دی گئی

اگر آپ بھارت سے باہر رہتے ہیں تو یہ بات آپ کے لئے دلچسپ ہو سکتی ہے کہ اب بھارت میں آٹھویں کلاس تک کے طلبہ فیل بھی ہو سکتے ہیں۔ اب تک انہیں اس کا ڈر نہیں ہوا کرتا تھا کیونکہ وہ فیل ہو ہی نہیں سکتے تھے۔ پوری بات سمجھنے کے لئے آپ کو اس کا مختصر پس منظر بتا دیتے ہیں۔ یہ 2009 کی بات ہے جب ہندوستان کی پارلیمنٹ میں حق تعلیم قانون منظور ہوا۔ جس کے تحت 6 سال سے 14 سال تک کے بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم مہیا کرایا جانا ان کا بنیادی حق قرار پایا۔

یہ قانون 2010 میں ملک بھر میں نافذ کر دیا گیا۔ ملک میں تعلیم کو فروغ دینے کے حوالے سے اس قانون کو ایک تاریخی قدم مانا گیا۔ اس طرح بھارت دنیا کے اُن 135 ممالک میں شامل ہو گیا جہاں بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم کی قانونی ضمانت موجود ہے۔ جہاں ایک طرف وسیع پیمانے پر اِس قانون کے نفاذ کا خیرمقدم کیا گیا وہی اس قانون کی ایک شق ایسی بھی تھی جس نے تعلیم کے میدان میں ایک نیا محاذ کھول دیا۔

Read more

امیتابھ کا گھمنڈ، بے مروت فلمی دنیا اور قادر خان

ایک قدآور اداکار جو پیدا افغانستان میں ہوا، زندگی ہندوستان کے نام کی اور کسمپرسی کی حالت میں سپردخاک کناڈا میں ہوا۔ جی ہاں، ہم بات کر رہے ہیں 81 سال کی عمر میں ایک طویل علالت کے بعد اس دارفانی کو الوداع کہہ گئے قادر خان کی۔ تین جملوں میں بکھری ان کی زندگی اپنے آپ میں ایک مکمل داستان ہے۔ وہ اپنے کئی انٹرویوز میں اپنے بچپن کی کہانی بتایا کرتے تھے کہ کس طرح اُن کا بچپن غریبی اور مفلسی میں گزرا، اُن کی والدہ نے کتنی پریشانوں سے اُن کی پرورش کی اور اُنہیں تعلیم کا دامن تھامے رکھنے کی تلقین کرتی رہیں۔

قادر خان نے زندگی کا بھرا پورا عروج دیکھا لیکن ان کا آخری وقت مکمل طور پر قابل اطمینان نہیں کہا جاسکتا۔ قادر خان نے 47 سال بھارتی فلم انڈسٹری کو دیے۔ اس میں اُنہوں نے 300 سے زیادہ فلموں میں کام کیا اور 250 سے زائد فلموں کے مکالمے لکھے۔ ان کے مکالمے نہ صرف بے حد مقبول ہوئے بلکہ اس قدر زبان زد خلائق ہوئے کہ فلمی تاریخ میں درج ہو گئے۔ ایک زمانہ تھا جب فلم انڈسٹری میں ان کا سکہ چلتا تھا۔ ہر دوسری فلم میں اُن کا نام یا تو بطور اداکار یا پھر مکالمہ نگار موجود ہوتا۔ ہندی فلم انڈسٹری میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب فلم کے پوسٹر پر ہیرو یا ہیروئین کی تصویر کے بجائے قادرخان اور شکتی کپور کے چہرے ہوتے۔ قادر خان نے اپنے فن کی بدولت ثابت کردیا کہ فلموں کی کامیابی کے لئے محض ہیرو ہیروئن کا ہونا ضروری نہیں بلکہ ایک اچھا فنکار ہونا پہلی شرط ہے۔

Read more