نظریہ اشد ضرورت برائے درہم و دینار!
یہ ہوتا ہے عدل، یہ ہوتا ہے انصاف، یہ ہوتی ہے دور اندیشی، یہ ہوتی ہے اصول پسندی، یہ ہوتی ہے حب الوطنی، یہ ہوتی ہے معاملہ فہمی اور امانت داری، یہ ہوتی ہے کاروباری فہم و فراست۔ قنوطی طبیعت کے ناقص العقل اور منفی سوچ رکھنے والے ملک دشمن اور غدارانِ وطن اگر اپنا خبث باطن دکھانے کے لیے سپریم کورٹ کے بحریہ ٹاؤن والے فیصلے پر نظریہ اشد ضرورت، بھتہ خوری، مک مکا، رشوت خوری یا دلالی جیسی تہمتیں دھرتے ہیں تو سراسر ظلمِ عظیم ہے۔
ورنہ محب وطن اہلِ نظر جانتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان کی نظر کہاں تک ہے۔ کہتے ہیں کہ جنگ اور محبت میں سب کچھ جائز ہوتا ہے۔ ہم نے محبت و عقیدت سے جن سہانے خوابوں کی تعبیر کے لیے کپتان صاحب کو اقتدار کی کرسی پر بٹھایا ہے، آج انہیں اگر نیا پاکستان بنانے کے لیے پیسوں کی اشد ضرورت ہے تو اس سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان پیسہ اکٹھا کرنے کی دوڑ میں پیچھے کیوں رہیں، جس کا ایک سابق چیف جسٹس ریٹائر منٹ کے فوری بعد ڈیم کی تعمیر کے لیے ملکوں ملکوں چندہ ما نگتے ہوئے یہ آواز لگاتا پھر رہا ہے کہ ”جو دے اس کا بھی بھلا جو نہ دے اس کا بھی بھلا“ یا ”دے جا سخیا بھاگ لگے رہون“
آج پوری دنیا اس مثالی اور منفرد اندازِ عدل و انصاف پر عش عش کر رہی ہے۔ ہر کوئی تعریف و توصیف کے ڈونگرے برسا رہا ہے۔ دوسرے ملک اپنی محرومی اور نارسائی پر کفِ افسوس مل رہے ہیں کہ انہیں ایسے انمول ہیروں کی خدمات کیوں حاصل نہیں ہیں؟ آج وطن عزیز کو پیسوں کی اشد ضرورت ہے اس لیے ہماری عدلیہ نے وقت و حالات کی نزاکت کا درست ادراک کرتے ہوئے پیسوں کے لیے نظریہ اشد ضرورت کا اجرا کیا ہے۔ پیسوں کی کمی کی وجہ سے غریبوں کے ساتھ پہلی مرتبہ آج امیروں کی چیخیں بھی نکل رہی ہیں۔ ہم تو پہلے ہی کہتے تھے کہ نئے پاکستان کے ٹھیکدار، معمار اور مزدور ہمہ وقت یہ نعرہ نما مطالبہ بلند کریں گے کہ مینوں نوٹ وکھا میرا موڈ بنے۔ ایک اور دانش مند شاعر پیسوں کی اہمیت پر یوں روشنی ڈال گئے ہیں کہ
موسٰی پیر نہ عیسٰی پیر
سب سے بڑا ہے پیسا پیر
یاد رہے کہ جن معزز چیف جسٹس نے بحریہ ٹاؤن والا فیصلہ دیا ہے انہوں نے میاں نواز شریف کے پاناما کیس کی سماعت کے دوران مشہور فرانسیسی ناول ”گارڈ فادر“ کے ایک سدا بہار اور لافانی مکالمے کا حوالہ دیا تھا کہ ہر بڑی دولت کے پیچھے جرم کی داستان ہوتی ہے۔ ملک ریاض نے بھی 460 ارب عدالت کو جرمانہ ادا کرنے کی حامی بھر کے اپنے جرم کی داستان کا اعتراف کرتے ہوئے اس کیس سے جان چھوٹنے پر اللہ کا شکر ادا کیا ہے۔ ویسے معزز جج صاحبان اگر ملک ریاض صاحب کے بڑے بڑے ملازمین کی فوج ظفر موج میں جھانک سکیں تو شاید اس سے بھی زیادہ دولت ہاتھ آجائے۔
دنیا کی تاریخ میں پیسوں کے حصول کے دو ہی طریقے رائج ہیں۔ طاقت اور اختیار ہو تو آدمی بزور لیتا ہے جب کہ فقیر منش آدمی کسی چوک چوراہے میں چادر بچھا کر پیسے اکٹھے کرتا ہے۔ ہمارے معزز جج صاحبان نے حصول رزق حلال کا نیا طریقہ ایجاد کرکے دنیا کے لیے قابلِ تقلید مثال قائم کی ہے۔ مالی کرپشن کے مقدمات بہت ٹیڑھے، پیچیدہ، دقیق اور وقت طلب ہوتے ہیں۔ قانونی جھنجھٹوں اور مو شگافیوں میں پڑ نے سے معزز عدالت کا خوامخواہ وقت ضائع ہوتا ہے۔
ہم وزیر اعظم صاحب سے اپیل کریں گے کہ وہ ملک میں ہزاروں کی تعداد میں ایسی خصوصی عدالتیں قائم کریں جو اس طرح کے مالی معاملات کے موقعے پر فیصلے سنا کر نئے پاکستان کی تعمیر کے لیے دھڑا دھڑ پیسے اکٹھے کریں۔ اس موقعے پر ہمیں دشمن ملک کی ایک عدالتی کارروائی کی روداد یاد آ رہی ہے۔ اس کو بھی بطور ماڈل اپنایا جاسکتا ہے۔ کسی مقدمے کی سماعت کے دوران جج صاحب نے وکیل سے بلند آواز میں پوچھا کہ اپنے مؤقف کے حق میں ثبوت پیش کریں۔
اس پر وکیل نے نہایت عاجزی سے کہا کہ می لارڈ! قانون کی کتاب کے صفحہ نمبر فلاں پر دو عدد ناقابل تردید ثبوت پیش کیے گئے ہیں۔ جناب انہیں ملاحظہ فرما لیں۔ اس پر دشمن ملک کے جج نے قانون کی کتاب کھول کر دیکھا تو پچاس پچاس ہزار کے دو چیکز رکھے تھے۔ جج صاحب نے چیکز دیکھ کر آرڈر دیا کہ یہ ثبوت ناکافی ہیں۔ ایسے ہی پانچ ثبوت اور بھی پیش کیے جائیں۔
جناب وزیراعظم صاحب کے تین ہفتوں میں بڑی خوش خبری کے اعلان کو اگر بحریہ ٹاؤن کے کیس کے فیصلے سے ملا کر دیکھا جائے تو وہ نوید مسرت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وزیر اعظم اہنی بہن علیمہ خان کے نام ہر خریدی گئی بیرون ملک اربوں ڈالرز کی جائدادوں کو فروخت کرکے اور شوکت خانم ہسپتال اور پی ٹی آئی کے نام پر اکٹھا کیا گیا پیسہ فوراً پاکستان لانے کا پختہ عزم کر چکے ہیں۔ اللہ انہیں ہمت دے کہ وہ مشرف سمیت ریٹائر جنرلوں، بیوروکریٹس اور ججوں کا باہر پڑا پیسہ بھی واپس لا سکیں۔


