گڑگاؤں میں ہندو انتہا پسندوں کا مسلمان خاندان کے گھر پر حملہ
گڑگاؤں کے دھمس پور گاؤں میں ایک مسلمان خاندان اور ان کے گھر آنے والے مہمانوں پر بیس سے پچیس ہندو انتہا پسندوں نے حملہ کر دیا جو بھالوں، لاٹھیوں اور تلواروں سے مسلح تھے۔ گھر والوں کس لاٹھیوں اور سلاخوں سے پیٹا گیا۔ یہ واقعہ ہولی کے تہوار کی شام کو پیش آیا۔
مضروب دلشا کی درج کردہ رپورٹ کے مطابق یوپی کے محمد ساجد نے اس علاقے میں تین برس قبل مکان لیا تھا جس میں وہ، ان کی اہلیہ اور چھے بچے رہتے ہیں۔ اس گھر کے لڑکے باہر کرکٹ کھیل رہے تھے کہ ایک موٹر سائیکل پر دو افراد ان کے قریب پہنچے اور کہنے لگے ”تم یہاں کیا کر رہے ہو، پاکستان جاؤ اور وہاں کھیلو“۔ اس کے بعد انہوں نے جھگڑا شروع کر دیا۔
جب دلشاد کے انکل ساجد نے مداخلت کرنے کی کوشش کی تھی موٹر سائیکل پر موجود لڑکے نے اسے تھپڑ مارا اور کہا کہ ”تم یہیں ٹھہرو، ہم تمہیں بتاتے ہیں“۔ اس کے دس منٹ بعد انہوں نے دیکھا کہ موٹر سائیکل پر سوار چھے لڑکے اور ان کے ساتھ پیدل چلنے والوں کا ایک گروہ ان کی طرف بڑھ رہا ہے۔ وہ بھالوں، لاٹھیوں اور تلواروں سے مسلح تھے۔
یہ دیکھ کر دلشاد اور دوسرے لڑکے گھرکی طرف دوڑے اور دروازے بند کر لئے۔ انتہا پسندوں کے گروہ نے مطالبہ کیا کہ گھر کے مرد باہر آ جائیں ورنہ وہ سب کو قتل کر دیں گے۔ اس کے بعد وہ بزور قوت گھر کے اندر داخل ہو گئے اور گھر والوں کو مارنا پیٹنا شروع کر دیا۔ اس کے بعد وہ گھر والوں کے فون اور قیمتی اشیا لے کر فرار ہو گئے۔
ایک فیملی ممبر نے اس سارے واقعے کی ویڈیو بنائی ہے۔ جمعے کی رات کو ان میں سے ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دنگے فساد، غیر قانونی طور پر جمع ہونے، اقدام قتل، جان بوجھ کر چوٹ پہنچانے، نقصان پہنچانے، غیر قانونی طور پر گھر میں داخل ہونے اور غنڈہ گردی کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ چند ملزمان کی نشاندہی ہو گئی ہے اور بقیہ کی تلاش جاری ہے۔
ساجد کی اہلیہ ثمینہ کا کہنا ہے کہ وہ باورچی خانے میں کھانا بنا رہی تھیں کہ انہوں نے شور سنا۔ وہ باہر گئیں تو انہوں نے دیکھا کہ ان کے گھر میں لوگ داخل ہو چکے ہیں اور گھر والوں کو مار رہے ہیں۔ انہوں نے منت سماجت کی کہ انہیں چھوڑ دیا جائے مگر حملہ آوروں نے ایک نہ سنی۔ انہوں نے شیشے توڑے، گاڑیوں کو نقصان پہنچایا اور زیورات اور نقدی سمیت قیمتی چیزیں لوٹ لیں۔
رپورٹ میں دلشاد نے الزام لگایا کہ حملہ آوروں نے انہیں دھمکی دی کہ وہ گھر چھوڑ دیں ورنہ وہ انہیں پکڑ لیں گے۔ ساجد گیس سیلنڈر کی مرمت اور پرانے فرنیچر اور کنسٹرکشن کا کام کرتے ہیں نے کہا کہ انہوں نے تین برس قبل یہ مکان بنایا تھا، وہ کسی کے معاملے میں دخل اندازی نہیں کرتے ہیں اور ایسا پہلے کبھِی نہیں ہوا ہے۔
ماخذ: انڈین ایکسپریس۔

