چترال کی ٹافی
دلشاد کو اپنی ماں اور بھائی بہن بے انتہا یاد آ رہے تھے۔ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ اپنی ماں سے لپٹ کر خوب روئے اور اتنا روئے کہ یہ دنیا اس کے آنسوؤں میں ہمیشہ کے لئے بہ جائے۔ گیٹ بند ہونے کی آواز نے اس کے انگ انگ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ وہ سیدھا گھر جانا چاہتا تھا لیکن وہاں جا کر وہ کیا کرے گا! کہاں سے سب کے اخراجات پورے کرے گا؟ دلشاد کے پاس صرف ایک ہی ہنر تھا جو اس سے چھین لیا گیا تھا۔ اسے یاد آرہا تھا کہ اس ہنر کے سیکھنے سے پہلے کس طرح وہ بھیک مانگ کر دن گزارتا تھا۔
دلشاد کا سارا دن ایسے ہی گزر جاتا تھا۔ کوئی رحمدل انسان اسے کبھی کھانا کھلا دیتا۔ رات کو وہ ایک گودام کے پیچھے چلا جاتا۔ زمین سے دروازے تک پہنچنے کے لئے چار سیڑھیاں تھیں۔ وہ ان ہی کے نیچے چادر کا آدھا حصّہ بچھاتا اور باقی اوپر تان کر سو جاتا اور صبح سات بجے جب گودام کا یہ پچھلا دروازہ لوڈنگ کے لئے کھلتا، وہ اٹھ کر چلا جاتا۔
رات کی خاموشی میں دلشاد اکثر ماضی کی دنیا میں ہی رہتا۔ وہ ایک اچّھے گھرانے کا بچّہ تھا۔ ماں باپ، ایک بھائی، دو بہنیں، اس کے زندگی میں سب کچھ تھا۔ گھر میں بہت سکون تھا وہ صبح اسکول جاتا اور شام کو مسجد میں قرآن پڑھنے جاتا۔ قرآن پڑھانے کے استاد جنہیں سب بچے مولوی صاحب کہتے تھے، بہت سخت تھے لیکن مارتے پیٹتے نہیں تھے۔ ڈانٹ اور ملامت سے ہی بچّوں کو قابو میں کر لیتے تھے۔
اسے وہ دن کبھی نہیں بھول سکتا جس دن وہ مسجد کے بیت الخلاء سے باہر نکلنے سے پہلے ہاتھ دھونا بھول گیا تھا۔ باہر آکر سیدھا لڑکوں کی صف میں بیٹھ گیا اور سپارہ اٹھا کر پڑھنے لگ گیا۔ مولوی صاحب نے دلشاد کو دیکھ لیا تھا کہ اس نے ہاتھ نہیں دھوئے تھے۔
’ اپنے پلید ہاتھوں سے تو نے قرآن پاک کو چھو لیا بلکہ اس کو پڑھ بھی رہا ہے۔ اے ذلیل انسان، تو نے اتنا بڑا گناہ کیا ہے۔ اس مقدّس ترین کتاب کو اپنے غلیظ ہاتھوں سے پکڑ لیا تُو تَو کافروں سے بھی دو قدم آگے بڑھ گیا ہے۔ تیرا جو حشر قیامت کے دن ہو گا مجھے پتہ ہے۔ ‘
دلشاد نے گھبرا کر سپارہ میز پر واپس رکھ دیا۔ اس کا جسم کپکپا رہا تھا۔ ادھر مولوی صاحب کی لعنت پورے زور و خروش کے ساتھ جاری تھی۔ دلشاد کو ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ دنیا کا سب سے بڑا گناہ گار انسان تھا اور جیسے اس نے سنگین ترین جرم کا ارتکاب کیا تھا جس کی کوئی تلافی اس زندگی میں ممکن نہیں۔ کتنی ہی دیر یہ لعن طعن کا سلسلہ جاری رہا۔ اس کو یہ بھی احساس نہ تھا کہ وہ ہوش میں تھا کہ نہیں۔ دلشاد کو لگا کہ دنیا کا ہر انسان اسے گھور گھور کر دیکھ رہا تھا جیسے لاکھوں انسان یکجا ہو کر اکٹّھے بول رہے ہوں۔
اسے یاد نہیں کہ وہ کب وہاں سے اٹھا یا اسے اٹھایا گیا۔ لیکن دلشاد مسجد سے گھر نہیں گیا۔ اب وہ کس منہ سے گھر جاتا! باپ کی نظر تو اسے چیر کر رکھ دیتی اور وہ اسی قابل تھا۔ وہ شہر میں ایک گودام کے پیچھے لوڈنگ والی سیڑھیوں کے نیچے جا کر چھپ گیا۔ تھوڑی دیر بعد جب اس کا سر ہلکا ہو ا تو اس نے تجزیہ کرنا شروع کیا۔ اولاً اس سے دنیا کا سب سے زیادہ بھیانک جرم سرزد ہوا ہے، ثانیاً اس کی کوئی تلافی ممکن نہیں ہے۔
پھر وہ اپنے بائیں ہاتھ کو مسلسل ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے لگ گیا۔ سارا قصور اسی کا ہے۔ اس غلیظ ہاتھ کی وجہ سے اس کی کبھی معافی نہیں ہو گی، نہ اس دنیا میں، نہ آخرت میں۔ سورج غروب ہونے کا وقت آچلا تھا۔ دلشاد نے کچھ سوچا اور اسے امید کی کرن دکھائی دی۔ وہ وہاں سے تیزی سے بھاگا تاکہ وہ منظور کی دکان پر بند ہونے سے پہلے وہاں پہنچ جائے۔
اسے دور سے بازار کی چوتھی دکان پر ایک ٹمٹماتا ہوا بلب نظر آیا تو اس کو اطمنان ہوا کہ دکان کھلی ہوئی تھی۔ دلشاد کو لگا کہ منظور اور دوسرے دکاندار اسے کچھ نفرت کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے۔ لازماً ان کو بھی اس واقعہ کا پتہ چل گیا ہو گا لیکن دلشاد نے خود کو تسلی دی کہ اس کے پاس اس کا علاج موجود ہے اور یقیناً اس علاج سے اس کی تلافی ہو جائے گی۔ منظور نے اس سے حیرانگی سے پوچھا کہ کیا تمہیں اس وقت مرغی چاہیے لیکن دلشاد کی آنکھیں کچھ اور ڈھونڈ رہی تھیں۔
اسے مرغی کا گوشت کاٹنے والا بڑا چاقو نظر آیا۔ وہ دکان کے اندر گھس گیا اور فوراً اپنا بایاں ہاتھ کاٹنے والے تختے پر رکھا او ر کلائی پر زور سے چاقو سے وار کیا۔ ایک خون کا فوارہ چھوٹا اور وہ ’غلیظ‘ ہاتھ الگ ہو کر گر گیا۔ منظور نے شور مچا دیا۔ کچھ لوگ جمع ہو گئے۔ سب لوگوں نے مل کر دلشاد کو ایک ٹرک کے پیچھے بیٹھایا اور کٹا ہوا ہاتھ ایک میلے کپڑے میں لپیٹ کر ساتھ رکھ لیا۔ ٹرک ایک خستہ حال کلینک کے باہر رکا اور دلشاد کو اندر لے جایا گیا۔
ڈاکٹر نے مرہم پٹی کر کے مزید خون کو بہنے سے روک دیا۔ فوراً ایک آدمی گرم دودھ دلشاد کے لئے لے کر آیا۔ کٹا ہوا ہاتھ ڈاکٹر نے سردخانہ میں رکھ دیا تھا۔ منظور زور زور سے کہہ رہا تھا کہ اس نے خود ہی اپنا ہاتھ کاٹ لیا ہے۔ وہ ڈر رہا تھا کہ کہیں اس پر کوئی الزام نہ لگ جائے۔ ڈاکٹر نے اسے خاموش ہونے کے لئے کہا اور بتایا کہ ہم اس ہاتھ کو یہاں نہیں جوڑ سکتے۔ اس کو مظّفّر نگر کے اسپتال لے جانا ہوگا جہاں ایک سرجن کام کرتا ہے۔ اس پر دلشاد کمزوری کے باوجود چلّا اٹھا۔
’نہیں نہیں، یہ بہت غلیظ اور گناہ گار ہاتھ ہے، میں اسے واپس نہیں لینا چاہتا‘ ۔
منظور نے دلشاد سے ہاتھہ کاٹنے کی وجہ پوچھی تو اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس میں اتنا حوصلہ کہاں تھا کہ وہ دنیا کے سب سے بڑے جرم کے بارے میں کچھ بتاے ٔ۔
تھوڑی ہی دیر میں دلشاد کے باپ اخلاق کو پتہ چلا کہ اس کا بیٹا کلینک میں ہے۔ جب اس نے آکر دلشاد کے بغیر ہاتھ والے بازو کو دیکھا تو اس کا کلیجہ باہر آ گیا۔ فوراً دلشاد کو گلے لگا کر رویا اور ماجرا پوچھا۔ دلشاد نے ندامت کے ساتھ پوری بات بتا دی۔ دلشاد کی کہانی ختم ہوتے ہی کچھ لوگ اس کی تلافی کی حرکت کو سراہنے لگ گئے۔ دلشاد کا باپ اسے گھر لے آیا۔ تھوڑی ہی دیر بعد لوگوں کا تانتا بندھ گیا۔ دلشاد کو ایسا لگا جیسے کوئی جشن کا سماں ہے۔
ہر کوئی آکر اخلاق کو اس کے بیٹے کی اس حرکت پر مبارکباد دے رہا تھا۔ کچھ نے یہ بھی دعا دی کہ ایسا بیٹا ہر ایک کو عطا ہو جس نے قرآن کی تقدیس کی خاطر اپنا ایک ہاتھ قربان کر دیا۔ دو تین دن یہ سلسلہ جاری رہا۔ آس پاس کے دیہاتوں سے بھی لوگ مبارکباد دینے آتے رہے۔ دلشاد کو خود پر بہت فخر تھا کہ اب لوگ اسے ایک مجرم کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک ہیرو کی حیثیت سے دیکھ رہے تھے۔
آہستہ آہستہ دلشاد کو اپنی جسمانی مجبوریوں کا احساس شروع ہوا۔ اس کے لئے ہاتھ منہ دھونا، نہانا، کپڑے پہننا، سائکل چلانا، بس اس کو ہر کام کے لئے مدد کی ضرورت تھی۔ اب وہ لکھ بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ اس کو بائیں ہاتھ سے لکھنے کی عادت تھی۔ شام کو جب اس کے دوست کرکٹ کھیلتے تو دلشاد اپنے آنسوؤں کو نہیں روک سکتا تھا۔ وہ مایوسی کے عالم میں چلا گیا تھا۔ خود کو گھر والوں پر بوجھ محسوس کرنے لگا تھا۔ کچھ عرصہ بعد اسکول جانا بھی بند کردیا کیونکہ وہ لکھنے سے عاری تھا۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


