آئینہ
بھائی صاحب اگر یہ فیلڈ تمہیں پسند نہیں ہے تو اسے چھوڑ کیوں نہیں دیتے، جس میدان کے کھلاڑی نہیں ہو اس میدان میں کیوں زبردستی گھسے ہوئے ہو۔ وہ کام جو تمہارا ہے ہی نہیں اسے کیوں کیے جاتے ہو اور اگر کیے جاتے ہو تو شکوہ کناں کیوں رہتے ہو یہ منافقت اور دورنگی نہیں تو اور کیا ہے۔ اس دشت نوردی میں تمہارے بال سفید تو ہو چلے ہیں مگر وہ جنوں جو صحرا پیماؤں کا خاصہ ہوتا ہے تمہیں چھو کر بھی نہیں گزرا۔ اپنے تئیں خود کو بڑا باصلاحیت سمجھتے ہو تو پھر ان صلاحیتوں کو بروئے کار لانے سے کیوں ڈرتے ہو۔
دوسرے کو تو بہت اعتماد، ہمت، عزم اور شجاعت کا درس دیتے ہو مگر جب خود ان سب باتوں پہ عمل کرنے کا وقت آتا ہے تو سانپ سونگھ جاتا ہے۔ جن فرسودہ زنجیروں سے معاشرے کو آزاد دیکھنے کی تمناؤں کے اظہار میں اپنا وقت برباد کر تے رہتے ہو کیا اپنی روح و بدن کو ان سے آزاد کروا چکے ہو۔ فضول میں خود کو ہمت بندھانے والا خطیب کہتے ہو حالانکہ جانتے ہو کہ یہ ایک بحر ذخار ہے جس کی موج اول نے ابھی تمہارے پاؤں تک نہیں بھگوئے۔
کیا تمہاری کوئی کامیابی کی داستان ہے یا چلو ناکامی کی ہی داستان ہو جو کسی کا رخ کامیابی کی طرف موڑ دے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر دوسروں کا چورن بیچ کر اپنا وقت کیوں برباد کررہے ہو۔ اس ساری قیل و قال میں کبھی خود کو ڈھونڈا ہے کہ تم کہاں ہو؟ اپنے دیے ہوئے بھاشن بالفرض تمہیں خود سننے پڑ جائیں تو تمہارے ہوش ٹھکانے لگ جائیں۔ مرے دوست پہاڑوں کو سر کرنے کی ہر وہ خواہش نا معتبر ٹھہرتی ہے جس کو عمل کی بھٹی پر نہیں تپایا جاتا۔
خود تو تم کم ہمتی کی کھائی میں سر تا پا غرق ہو اور اس پر مستزاد یہ کہ دوسروں کو بلند پروازی کی مضحکہ خیز داستانیں سنا کر ہیجان میں مبتلا کرتے ہو۔ تمہاری شخصیت تمہاری باتوں کی طرح اعتماد سے عاری ہے اور چل پڑے دوسروں کی رہنمائی کرنے، یہ فضول روش چھوڑ دو تو بہتر ہے۔ مانگے تانگے کی چند کتابیں پڑھیں ہیں تم نے، اور ان میں سے بھی بہت سی تو اپنی عجلت طبع کے باعث پوری نہیں پڑھیں اور اس پر ستم یہ کہ نیم خواندہ لوگوں میں بیٹھ کر اپنی علمیت کے خوب جھنڈے گاڑتے ہو اور دل ہی دل میں خوش ہوتے رہتے ہو، پر جب کسی علم والے سے سابقہ پڑتا ہے تو بولتی بند ہوجاتی ہے۔
شاعری کی الف ب کا بھی تمھیں علم نہیں ہے اور خود کو شاعر کہتے ہو، شعر گوئی میں کمال حاصل کرنے کے لیے جو وسیع مطالعہ، گہرا مشاہدہ اور عرق ریزی چاہیے تم اس سے کوسوں دور ہو۔ شکر کرو کہ اس معاشرہ کا ایک بہت بڑا طبقہ علم و حکمت سے عاری ہے اور اس لیے تم جیسوں کی بھی دکانداری چل رہی ہے۔ تمہارے بے تکے اشعار پہ تمہارا دل رکھنے کو اگر کوئی واہ واہ کر بھی دے تو کیا اس سے تم شاعر بن جاؤ گے، ہرگز نہیں۔ تم کاہے کے قلم کار ہو جب کچھ لکھ کر دوسروں کی داد حاصل کرنے کا بھوت سر پر سوار ہوکر ناچنے لگ جاتا ہے تو تم کہیں سے نکال کر چار پانچ مضامین پڑھ لیتے ہو اور پھر ان کا ملغوبہ بنا کر دوسروں کے سامنے پیش کر دیتے ہو اور اپنے تئیں قلمکار بن بیٹھتے ہو، یعنی دوسروں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے طرح طرح کے کرتب کرتے ہو برا مت ماننا اس طرح کی حرکتیں تمہیں مداری تو بنا سکتی ہیں قلمکار نہیں بنا سکتی۔
اصل میں تم محنت سے عاری ایک سہل انگار شخص ہو، تم خواب تو ضرور دیکھ لیتے ہو مگر اس کی تعبیر کے حصول میں سرگرمی کی بجائے کسی معجزے کے منتظر رہتے ہو۔ تمہارا شمار اس معاشرے کے ان سر پھرے لوگوں میں ہوتا ہے جن پر یہ خبط طاری ہو جاتا ہے کہ ان میں بہت ٹیلنٹ ہے اور یہ ظالم سماج پتہ نہیں کب ان گونا گوں صلاحیتوں کی قدر دانی کرے گا۔ یہ تمہارے فکری دیوالیہ پن کی انتہا ہے کہ تم نے کبھی اپنی نام نہاد صلاحیتوں کو کسی کسوٹی پر پرکھنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی اگر ایسا کیا ہوتا تو تمہاری یہ غلط فہمی بھی کب کی فرو ہو چکی ہوتی۔
اور ہاں یہ جو تمہاری ڈگریاں ہیں ناں یہ ان فیسوں کی کاغذی رسیدیں ہیں جو تم نے ادا کی ہیں، پتہ نہیں تمہاری ڈگریاں حاصل کرنے کی یہ ہوس کب ختم ہوگی، حالانکہ تم ہر نئی ڈگری کے حصول کے بعد پہلے سے زیادہ نا اہل ہوجاتے ہو۔ تم سے اگر تمہاری اس فیلڈ کے بارے میں پوچھا جائے جس میں تم ماہر ہو تو تم خلاؤں میں گھورنا شروع کر دیتے ہو اور پھر بے تکی تاویلوں سے کام لیتے ہو۔ تمہارے ادھورے منصوبوں اور کاموں کی طویل فہرست اس بات کی غماز ہے کہ تم نان فوکسڈ انسان ہو جس کی منزل متعین ہے نہ راستہ، اور تمہاری انھی کوتاہیوں نے تمہیں کبھی فکری طور پر آسودہ نہیں ہونے دیا۔ تم آج بھی ڈر کر سوچتے تم آج بھی ڈر کر بولتے ہو تم آج بھی ڈر کر لکھتے ہو، اور جب تم ڈر کے خلاف سوچتے، بولتے اور لکھتے ہو تو یقین مانو خود بہت ڈرے ہوئے ہوتے ہو جیسے تم اب ڈرے ہوئے ہو۔


