قراردادِ پاکستان۔ مقاصدِ پاکستان۔ ریاستی ذمہ داریاں


جب ہم پاکستان میں بڑھتی ہوئی نا اتفاقی ’ترقی کرتی ہوئی لسانی نفرت‘ آسمان چھوتی ہوئی فرقہ پرستی ’بلندی کی طرف جاتی ہوئی علاقائیت‘ حد سے گرتی ہوئی طرزِ سیاست ’اخلاقیات کا دامن چھوڑتی ہوئی سماجی روایات‘ عقل و منطق سے عاری ہوتی ہوئی مذہبی تاویلات ’خلافِ آئین اقدامات کو عین آئین سمجھ کر ڈٹ جانے کی عادات‘ آئین کو موم کی ناک یا جوتی کی نوک پر رکھنے کے اقدامات اور خارجی دشمنیوں میں مسلسل اضافے کے تناسب کا مشاہدہ کرتے ہیں تو ہمیں قراردادِ پاکستان کی منظوری کے ایام کا ماحول یاد آنے لگتا ہے جب دو قومی نظریے کی بنیاد کے بعد اس کی ترویج و تحفظ اور بقاء کے لیے مسلمانانِ ہند کے اکابرین کاوشیں کررہے تھے۔ سب کی خواہش ایک ایسے پاکستان کی تھی جس میں اسلام کو آزادی ہو۔ اسلام کی آزادی ہو۔ اسلام کے لیے آزادی ہو۔

دو قومی نظریہ کے تحت مسلمانانِ نے یہ سپنے دیکھے تھے کہ جن مذہبی آزادیوں کا حصول انگریز اور ہندو حکومت میں ممکن نظر نہیں آرہا وہ ایک آزاد اور خود مختار ریاست میں ممکن ہوجائیں گی۔ جن اسلامی شعائر پر موجودہ حکومتوں میں عمل ممکن نہیں وہ ہماری اپنی قائم کردہ حکومت میں ممکن ہوگا۔ جن اخلاقی روایات اور سماجی رسومات منانے میں ہندو اور انگریز حکومتی نظام ایک بڑی رکاوٹ ہے انہیں منانے اور انجام دینے کے لیے یہ رکاوٹ فقط علیحدہ ملک سے ہی دور کی جاسکتی ہے۔

ہندوستان میں لاکھوں کروڑوں کی مسلم آبادی کو اپنی ایک جداگانہ شناخت تب مل سکتی ہے جب ہم ایک علیحدہ ریاست کا قیام عمل میں لائیں۔ قراردادِ پاکستان کی منظوری کے زمانے کے قائدین اور عوام ایک ریاست کو اپنی مذہبی و سیاسی پناہ گاہ اور چھتری سمجھ کر صبح شام مصروفِ جہاد تھے۔ وہ ہندووں سے الگ ہوکر مسلمانوں کو داخلی وحدت کا اظہار کررہے تھے اور بلاتفریق مذہب و مسلک پاکستان کو سب کے لیے جائے امن و اماں قرار دے رہے تھے۔ 23 مارچ کو دیکھے گئے خواب کی تعبیر کو سات سال لگے۔ اس دوران سینکڑوں ہزاروں لوگوں نے جانی ’مالی و جسمانی قربانیاں دیں۔ ان کے خلوص اور موجودہ ماحول کا تقابل کیا جائے تو ماتم و گریہ کے علاوہ کوئی ردعمل سامنے نہیں آتا۔

مسلمانوں کے اندر جو طبقہ پاکستان کی موجودہ جغرافیائی ساخت و تقسیم کے خلاف تھا اس کا موقف یہی تھا کہ اس تقسیم کے بعد مسلمانوں کے لیے مسائل درپیش ہوں گے اور انہیں پہلے سے زیادہ نفرت کا سامنا کرنا پڑے گا تمام مسلمانوں کو ایک ہی علاقے میں جمع کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس طرح ہندو تو اپنے اکثریتی علاقوں میں مکمل آزادی اور خوشحالی سے رہیں گے لیکن مسلمان جن علاقوں میں اقلیت میں ہوں گے وہاں ان کے لیے مسائل میں اضافہ ہوگا اور آزاد ریاست کی وجہ سے ہندو علاقوں میں موجود مسلمانوں کو شدید نفرت کا شکار کیا جائے گا اور ان کی مذہبی آزادیاں محدود یا سلب کرکے انہیں اقلیتی تعصب کا شکار کیا جائے گا۔ بعد میں وقت نے دیکھا کہ ان کی یہ پیش گوئی درست ثابت ہوئی آج ہندوستان میں موجود مسلمانوں کے لیے نفرت کا ایک طویل سلسلہ موجود ہے اور کئی ہندو تنظیمیں اسی نفرت کی بنیاد پر تشکیل دی گئیں اور اسی نفرت کو قائم رکھنے میں ان کی سیاست اور روزی روٹی چل رہی ہے۔

1940 ء اور 1948 ء کے لوگوں کے جذبات و احساسات کا وزن تو ممکن نہیں لیکن اگر ان کو دورِ حاضر میں تقابلی جائزے سے گزارا جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ ہم نے ایک آزاد ریاست تو بنا لی۔ اس کو دو لخت کرنے کے بعد ایک حصے کو اسلامی ریاست یا جمہوریہ کا نام تو دے دیا (حالانکہ یہ جغرافیہ اکہتر سال گزرنے کے باوجود کشمیر ’جموں‘ لداخ وغیرہ کی انتظار میں نامکمل ہے ) لیکن بدقسمتی سے ان لوگوں کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر نہ کر سکے۔

پہلے دس سال تک صدارتی نظام ’گورنری نظام‘ جمہوری نظام اور متناسب نمائندگی کے نظام میں الجھنے کے بعد بالاخر فوجی نظام کے حوالے ہوگئے۔ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ یہ نومولود اسلامی ریاست عملی طور پر آمریت کے تسلط میں رہی۔ آمریت بھی وہ جو اپنے سابقہ انگریز آقاؤں کی ترجمان ’شاگرد اور نمک خوار تھی۔ اس دوران عوامی اور سیاسی نمائندوں کے بنائے ہوئے تمام ضابطوں‘ آئینی دستاویزات اور پارلیمانی تقدس کو پاؤں تلے روندا گیا۔ ہر چیز معطل کرکے آمریت کو بحال رکھا گیا۔

چند سال عوامی اور سیاسی یا جمہوری نظام کو موقع دیا گیا جس نے دیگر بے شمار داخلی و خارجی کامیابیوں کے علاوہ اس ملک کو وہ آئین فراہم کیا جس پر اس ملک کے ہر مذہبی و سیاسی طبقے کا مکمل اتفاق ہے۔ سیاسی اور عوامی قیادت نے پارلیمان کے ذریعے طے کیا کہ اب ملک کا مستقبل اسی آئین سے وابستہ ہے لہذا اب پاکستان کسی آمریت کی بجائے اسی آئین کے تحت چلایا جائے گا۔ لیکن اس جمہوریت پر بھی آمریت کی تلوار لٹکتی رہی اور قیام پاکستان سے پہلے کے ایام میں بالعموم اور گذشتہ دہائی میں بالخصوص تقویت پانے والے آمرانہ عناصر نے اس جمہوری نظام کے گرد شکنجے اور حصار قائم رکھے ان حصاروں کو سال بہ سال تنگ کیا جاتا رہا اور بالآخر ایک بار پھر آمریت نے عوام کو اپنے نرغے میں لے کر دوبارہ اسلامی ریاست پر قبضہ کر لیا۔

اب کے بار آنے والی آمریت نے ملک میں آئین و قانون کا ستیاناس تو کیا ہی کیا لیکن مذہبی فرقہ پرستی اور جنونیت ’لسانی و علاقائی تعصب اور اسلحہ و منشیات کا فروغ کرکے پاکستان کو مستقل بیماریوں میں مبتلا کردیا۔ ستم بالائے ستم جہاد کے نام پر مفاد حاصل کرنے کی کوششیں تو تاحال ثمرآور نہیں ہوسکیں لیکن ملک میں جہادی تنظیموں اور جہادی عناصر کی ایک فراواں کھیپ جمع کردی جو ابھی تک اپنی اولادیں جنم دے رہی ہے‘ اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے لیکن نہ ان کا خاتمہ ممکن نظر آرہا ہے اور نہ ہی ان کی کمر توڑنے کی دعووں کو حقیقت کا روپ مل رہا ہے۔

قدرت اور فطرت اپنے فیصلے کرنے کی مجاز ہے لہذا اس کے فیصلوں نے دوسری آمریت کا خاتمہ کیا جس کے بعد آمریت کو تسلسل دینے والوں نے اس بار آرام فرمانے اور پسِ پردہ رہ کر کردار ادا کرنے میں عافیت سمجھی اور مذکورہ بالا تمام قباحتوں کے باوجود جمہوری و پارلیمانی نظام شروع ہوا جو اپنی خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ دس یا گیارہ سال تک آگے بڑھتا رہا اور ملک کو بھی آگے لے جانے کی کوششوں میں مگن رہا۔

لیکن کسے معلوم تھا کہ آمرانہ طرزِ حکومت والے اب آرام فرما چکے ہیں لہذا انہوں نے ایک بار پھر جمہوری ’سیاسی اور عوامی و پارلیمانی نظام کا بوریا بستر گول کیا اور اگلے دس سے زائد سال تک ملک میں پہلے خالصتاً آمریت اور بعد میں آمریت کی چھتری میں موجود چربہ جمہوریت چلتی رہی۔ اس دوران کئی داخلی اور خارجی محاذ کھولے گئے ان محاذدوں میں سب سے بڑا محاذوں ملکی سرحدی محافظین کے لیے تھا جنہیں باہر کے دشمنوں کے ساتھ نبردآزما ہونے کی بجائے اپنے ہی شہریوں کے ساتھ دست بہ دست کر دیاگ یا۔ جو باڑیں اور حفاظتی دیواریں ملکی سرحدوں پر لگائی جاتی تھیں اب وہ ملک کے اندر لگائی جانے لگیں اور سلسلہ اس قدر آگے بڑھا کہ ملک کے داخلی جغرافیے کا نقشہ ہی بدل گیا۔ یہ سلسلہ لمحہ موجود تک جاری ہے۔

تیسری آمریت کے بظاہر رخصت ہونے کے بعد اگرچہ اگلے دس سال سیاسی اور انتخابی حکومتوں نے پاکستان چلانے کی کوشش کی لیکن انہیں بھی داخلی سطح پر شدید محاذوں کا سامنا رہا اور ہزارہا کوششوں کے باوجود ملک صحیح معنوں میں خود دار و خود مختار نہ بنایا جاسکا۔ یہاں تک کہ موجود حکومتی نظام تک بات پہنچی جس کے بارے میں الیکٹڈ یا سلیکٹڈ یعنی منتخب یا مسلط کی اصلاحات استعمال کی جارہی ہیں۔ ہماری ریاست دو قومی نظریے کے پرچار اور دفاع کے حوالے سے اپنی خدمات کا دعوی کرتی رہتی ہے۔ لیکن یہ دو قومی نظریہ اب صرف مسئلہ کشمیر یا ہندوستان کے ساتھ مقابلے کے لیے مخصوص ہو چکا ہے۔ دوقومی نظریہ جہاں مسلم اور ہندو کو الگ الگ قوم ثابت کرتا ہے وہاں مسلم قوم کو الگ ریاست و جغرافیہ دے کر انہیں ترقی کرنے اور اسلامی و جمہوری نظام کے تحت زندگی گذارنے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔

ہماری ریاست کی بنیادی ذمہ داری یہی ہے کہ عوام کو ان مواقع کی فراہمی میں معاونت کرے۔ انہیں آزادانہ ماحول میں زندگی بسر کرنا میسر ہو۔ انہیں اپنی ذاتی ’مذہبی اور سیاسی تعقیب یا جاسوسی کا خوف لاحق نہ ہو۔ انہیں ہر لمحے دہشت گردی کا شکار ہونے کا خوف نہ ہو۔ انہیں سرِراہ قتل ہونے یا لٹ جانے کا ڈر نہ ہو۔ انہیں طبقاتی اور سیاسی انتقام کا نشانہ نہ بننے کا یقین ہو۔ انہیں ان کی تمام سہولیات ان کے دروازے تک پہنچانے کی یقین دہانی ہو۔ انہیں ان کی مذہبی‘ مسلکی ’شہری آزادیوں کے استعمال میں کوئی رکاوٹ درپیش نہ ہو۔ انہیں ان کے آئینی‘ قانونی اور انسانی حقوق کی فراہمی میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیے جانے کا یقین ہو۔ انہیں آمریت ’آمرانہ سازشوں‘ آمرانہ ذہنیت ’آمرانہ طرزِعمل حتی کہ آمرانہ نظام کی بو تک محسوس نہ ہو۔

اگر ہماری ریاست موجودہ پاکستانی عوام کو مطلوبہ و مذکورہ ماحول میسر کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو سمجھیے کہ اس نے قراردادِ پاکستان کی روح کے مطابق کام کیا اور 1940 ’1948 ء کے عوام کی خواہشات اور قربانیوں کا نہ صرف احترام کیا بلکہ ان کے خوابوں کو تعبیر عطا کی۔ جن مقاصد کے لیے پاکستان کی تشکیل و تاسیس ہوئی اگر ان مقاصد سے ہی آنکھیں پھیر لی جائیں اور داخلی و خارجی پر نفرتوں کا بازار گرم کیا جائے اور پاکستان کے وقار اور سلامتی کی اپنی ذاتی و محکمانہ تعبیر و تشریح کی جائے تو یہ گذشتہ اسی سال میں آنے والے عوام کی توہین ہوگی اور آئین و قانون و بنیادی حقوق کی تذلیل ہوگی۔ حکومتیں اور سیاسی و مذہبی جماعتیں مہمان یا خدمت گذار ہوتی ہیں جبکہ ریاست ماں کی حیثیت رکھتی ہے۔ ماں کو اپنی ممتا ثابت کرنی چاہیے اولاد کا خرچہ کرا کے نہیں بلکہ اپنے وقت‘ جذبات اور مالیات کی قربانی دے کر۔

Facebook Comments HS