اردو کی نئی کتاب اور انشا جی کے حسابی قاعدے


اردو کی پہلی کتاب کس نے لکھی معلوم نہیں لیکن آخری کتاب ابن انشاء نے لکھی تھی جو اپنے تئیں یہ یقین کر بیٹھے تھے کہ آنے والی نسل انتہائی نا اہل اور اردو سے نابلد ہوگی، ورنہ وہ اپنی کتاب کو آخری کتاب کہنے کے بجائے دوسری، تیسری یا پچاسویں کتاب کہہ سکتے تھے۔ مجھے تو وہ کچھ زیادہ دور اندیش انسان نہیں لگتے کیونکہ ان کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ آنے والی نسلوں میں اگر کسی نا معقول شخص کی کتاب لکھنے والی رگ پھڑ پھڑائی تو اس کتاب کا نام رکھنے میں دشواری پیش آسکتی ہے۔ وہ تو یہ اندازہ لگانے میں بھی ناکام رہے کہ ایک دن پاکستان کے ہوتے ہوئے ایک نیا پاکستان وجود میں آئے گا اور نئے پاکستان میں اردو کی نئی کتاب کی بھی ضرورت پڑے گی۔ انشاء جی نے اپنی جوانی ابن بطوطہ کے تعاقب میں صرف کر دی اس لیے شاید ان کو مستقبل کے حوالے سے پیش بینی کرنے کی فرصت نہیں ملی۔

نیا پاکستان بن گیا ہے لیکن سیاستدان، سیاسی نظام، اور سیاستدانوں کا نظام انہضام وہی پرانا ہے۔ جہاں ضرورت پڑتی ہے، رنگ و روغن کے بعد پرانی چیزوں سے ہی کام چلایا جارہا ہے۔ نئے پاکستان کی اس روش کو مد نظر رکھتے ہوئے اردو کی آخری کتاب کو ہی تھوڑی سی رد و بدل کے بعد اردو کی نئی کتاب کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے تاکہ نئی نسل کو اردو کے قواعد و ضوابط سمجھنے میں آسانی رہے اور بوقت بحث و مباحثہ اور جنگ و جدل کام آئے۔

نئے پاکستان میں اور کچھ نیا ہو نہ ہو وزیر خزانہ بالکل نیا ہے جن کی کوششوں سے معیشت نئی بلندیوں کو چھونے لگی ہے، اس لیے اردو کی نئی کتاب میں سب سے پہلے حسابی قاعدے میں ترمیم کی اشد ضرورت ہے۔

انشائی ترتیب کے لحاظ سے حساب کا پہلا قاعدہ جمع ہے۔

ابن انشاء نے عام لوگوں کے لیے جامع کا قاعدہ یہ بتایا تھا کہ ”ایک جمع ایک ڈیڑھ بنتا ہے کیونکہ ایک بٹہ دو انکم ٹیکس والے لے جاتے ہیں“

نئے پاکستان میں انکم ٹیکس والے سرمائی نیند سو رہے ہیں اور یہ ذمہ داری نیب والے بخوبی نبھا رہے ہیں۔ اب ایک جمع ایک کا حاصل جمع بھی ایک ہی آتا ہے کیونکہ نیب کے قانونِ پلی بارگین کے تحت آدھی آمدنی پر نیب کا حق ہے۔

زر مبادلہ کے کم ہوتے ذخائر کو مد نظر رکھتے ہوئے ملک کے مسائل حل کرنے کے لیے زبانی جمع خرچ کے اصول میں کوئی ردوبدل نہیں کیا گیا۔

ابن انشاء نے تفریق کا قاعدہ سمجھاتے ہوئے لکھا تھا کہ تفریق کا مطلب منہا کرنا یا نکالنا ہے، ان کے مطابق

بعض کو زبردستی نکالنا پڑتا ہے

ڈنڈے مار کر نکالنا پڑتا ہے

فتوے دے کر نکالنا پڑتا ہے

اردو کی نئی کتاب میں ایک شق کا اضافہ کیا گیا ہے وہ یہ کہ فتوے کے بعد گولی مار کر بھی نکالا جاتا ہے لیکن اس طریقہ وردات میں آدمی کہیں نہیں جاتا، بس جان نکل جاتی ہے۔ بعض کو غدار قرار دے کر ملک سے نکالنے کی باتیں بھی ہوتی ہیں لیکن ابھی تک اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

ضرب کے قاعدے میں ابن انشاء نے کئی مثالیں گنوائی تھی۔ مثلاضرب خفیف، ضرب شدید، ضرب کاری، انہوں نے علامہ اقبال کی ضرب کلیم کو بھی اسی زمرے میں شامل کیا تھا۔

ابن انشاء جلدی کوچ کر گئے ورنہ وہ ضرب مومن کا ذکر ضرور کرتے کیونکہ انہوں نے جو اصول پیش کیا تھا کہ ”آدمی کو آدمی سے ضرب دیں تو حاصل ضرب بھی آدمی ہی ہوتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ وہ زندہ ہو“۔ ضرب مومن نے اس اصول کومد نظر رکھتے ہوئے افغانستان اور پاکستان کے اندر لاکھوں آدمیوں کو آدمیوں سے ضرب دلوانے میں اہم کردار ادا کیا جس کا حاصل ضرب بھی ہزاروں ”شہداء“ کی صورت میں سامنے آیا۔ اس طرح ضرب مومن نے اپنے تجربات کی مدد سے ابن انشاء کے پیش کردہ اصول کا صحیح ثابت کیا۔ بعد میں ضرب مومن کے تجربہ گاہ کی صفائی کے لیے ضرب عضب شروع کرنا پڑا جس میں مزید ہزاروں آدمیوں نے ایک دوسرے سے ضرب کھائی لیکن اس دفعہ حاصل ضرب میں ”شہدا“ کے ساتھ ساتھ کچھ زندہ آدمی اور کئی لاپتہ بھی شامل ہیں۔

انشاء جی نے تقسیم کے قاعدے کو انتہائی ضروری قاعدہ قرار دیا تھا اس لیے اردو کی نئی کتاب لکھتے ہوئے تقسیم کے قاعدے میں کچھ زیادہ رد وبدل نہیں کیا گیا۔

آج بھی سب سے زیادہ جھگڑے تقسیم پر ہی ہوتے ہیں۔

اندھے آج بھی ریوڑیاں اپنوں میں ہی بانتے ہیں

چوروں کے مال بانٹنے اور اہلکاروں کا رشوت بانٹنے کا سلسلہ بھی جوں کا توں جاری ہے۔

حکمران آج بھی حقوق اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں، فرائض دوسروں میں بانٹتے ہیں، پیسہ اپنے کیسے میں ڈالتے ہیں اورقناعت کی تلقین صرف عوام کے لیے ہے۔

صرف اتنا ہوا ہے کہ اچھے اور برے کی تمیز روا رکھی گئی ہے جیسا کہ اچھے کرپٹ اور برے کرپٹ، اچھے چور اور برے چور، اچھی عدالت اور بری عدالت، اچھا میڈیا اور برا میڈیا۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ فوج اس بار سر سے پاؤں تک اچھی ہے۔

فی الحال اتنا ہی،

اگلے مضمون میں الجبرا اور جیومیٹری کے نئے اصولوں پر بحث کی جائے گی۔

Facebook Comments HS