’بائیکاٹ چغتائی لیب‘ اور نواز شریف کی رپورٹس

طاہر عمران - بی بی سی اردو ڈاٹ کام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 63
  •  

پاکستانی سوشل میڈیا پر بائیکاٹ چغتائی لیب کا ہیش ٹیگ چل رہا اور اس میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے بارے میں بھی بات ہورہی ہے تو اس کے پیچھے آخر ہے کیا؟

کیونکہ دیکھتے ہی دیکھتے گذشتہ چند گھنٹوں کے اندر 20 ہزار سے زیادہ ٹویٹس بائیکاٹ چغتائی لیب کے ہیش ٹیگ سے کی جا چکی ہیں۔

اس میں بڑی تعداد میں لوگ بات کر رہے ہیں اور اس کی جانب سے ڈیٹا پروٹیکشن کی خلاف ورزی کے معاملے کو بھی اٹھا رہے ہیں۔ بہت سے لوگ لیب کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عمر چغتائی کو بھی ٹیگ کر رہے ہیں اور ان سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اس معاملے پر سب سے معافی مانگیں۔

منصور نے ٹویٹر پر لکھا ’عمر چغتائی اور چغتائی لیب کو ٹیگ کریں اور ان کو اپنے احساسات کے بارے میں آگاہ کریں کہ کس طرح انہوں نے ایک غیر پیشہ ورانہ اور غلط اقدام کیا ہے۔‘

کہانی کچھ یوں ہے مریم نواز شریف نے سات گھنٹے قبل اپنے والد سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے لیبارٹری ٹیسٹ کا عکس ٹوئٹر پر شیئر کیا جس میں انہوں نے لکھا ’میں ابھی میاں نواز شریف سے مل کر واپس لوٹی ہوں۔ ان کے ڈاکٹروں کے خدشات بے بنیاد نہیں تھے۔ گذشتہ روز کیے گئے بلڈ ٹیسٹ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان کے پیشاب میں کریٹنائین کا لیول پہلے سے بڑھا ہے جس کا مطلب ہے کہ ان کے گردوں کا عمل متاثر ہوا ہے۔ ان کے گردوں کا مرض پہلے ہی تیسری سٹیج پر ہے اور ان کے دونوں کولہوں میں مسلسل درد ہے۔‘

اس کے بعد ایک ٹوئٹر صارف @endlessquest92 نے میاں نواز شریف کی چغتائی لیب پر پروفائل میں جا کر ان کے پتے کے جگہ لکھا ’پلیز پاکستان کا لوٹا ہوا پیسہ واپس کریں اور پھر جہاں چاہے جا کر آزادی سے رہیں۔ @endlessquest92‘

اس کے بعد جو ہوا اس کے بارے میں چغتائی لیب نے اپنے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے خود ہی کچھ ٹویٹس کیں جن میں انہوں نے لکھا ’ہمارے مریضوں کی لیبارٹری رپورٹ کی پرائیوسی ہمارے لیے بہت اہم ہے۔ مریضوں کے لیبارٹری ٹیسٹ کے نتائج تک ہمارے سرورز پر رسائی مریض کے آئی ڈی کی معلومات کی بنیاد پر کی جا سکتی ہے جو ان کی لیبارٹری پورٹس پر پرنٹ ہوتا ہے۔ اسی لیے لیبارٹری رپورٹ کو سوشل میڈیا پر شیئر نہیں کیا جانا چاہیے۔ مریض کے آئی ڈی کی معلومات استعمال کرتے ہوئے آن لائن رپورٹس اور سابقہ رپورٹ تک رسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ اور مریض کے پروفائل پر معلومات کو بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ کسی نے مریض کی پروفائل تک رسائی حاصل کی اور پتے کی جگہ ایڈیٹ کر دی۔‘

چغتائی لیب نے اپنی ٹویٹس میں مزید کہا کہ ’ہمارے تمام مریض ہمارے لیے قابل احترام ہیں اور ہم کسی بھی سیاسی جماعت کے ساتھ وابستہ نہیں ہیں۔ ہم نے مریض کی رپورٹس تک رسائی کو بلاک کر دیا ہے تاکہ ان کی آن لائن پروفائل میں مزید چھیڑ چھاڑ نہ کی جا سکی۔ اور اسے بحال کر کے مریض کے خاندان کے ساتھ نئے آئی ڈی کے ساتھ شیئر کیا جائے گا تاکہ ڈیٹا کی پرائیویسی کو قائم رکھا جا سکے۔‘

چغتائی لیب کے بیان میں کسی سیاسی جماعت سے وابستگی والی بات بہت سوں کو بہت متنازع لگ رہی ہے کیونکہ ٹوئٹر پر چغتائی لیب کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عامر چغتائی کی کچھ ٹویٹس شیئر کی جا رہی ہیں جن میں انہوں نے نواز شریف کے بارے میں مختلف نامناسب الفاظ استعمال کیے ہیں۔

ان ٹویٹس کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹر عامر چغتائی نے اب سے کچھ دیر قبل ایک ٹویٹ میں لکھا ’لوگوں نے میری پرانی ٹوئٹس کی جانب اشارہ کیا ہے جن میں میں نے میاں نواز شریف کے بارے میں منفی اور نامناسب بات لکھیں۔ سیاسی بحث مباحثہ جمہوریت کی طاقت ہوتا ہے مگر ذات پر باتوں کی کوئی ضرورت نہیں۔ میں اس کے بارے میں معذرت خواہ ہوں۔‘

سابق وزیراعظم کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان خان نے ٹویٹ کی ’اس سے بدتر کیا ہو سکتا ہے۔ یہ اعلیٰ ترین درجے پر توہین آمیز، غیر پیشہ ورانہ، غیراخلاقی اور شرمناک ہے۔ چغتائی لیب اور ڈاکٹر عامر چغتائی کو غیر مشروط طور پر سابق وزیراعظم نوازشریف، ان کے خاندان اور ان کے لاکھوں حامیوں سے معافی مانگنی چاہیے۔‘

عاقب حسن نے ٹویٹ کی ’یہ ناقابل قبول ہے کہ ایک تین مرتبہ منتخب شدہ وزیراعظم کے خون کے نمونوں کی ایک پرائیویٹ لیب کی رپورٹ پر سیاسی نعرے بازی لکھی جائے۔‘

دوسری جانب اس سارے معاملے کے بعد ڈیٹا پروٹیکشن کے بارے میں قوانین اور مسائل پر بھی بحث شروع ہو گئی ہے۔

ڈیجیٹل رائٹس پر کام کرنے والی تنظیم بولو بھی کے ڈائریکٹر اسامہ خلجی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا ’عام شہریوں کے ذاتی ڈیٹا میں چھیڑچھاڑ خاص طور پر بہت زیادہ خفیہ ذاتی معلومات جو کہ ان کی صحت کے بارے میں ہوں ایک بہت سنجیدہ معاملہ ہے اور اس کے بارے میں بالکل دو رائے نہیں۔ یہ بہت متنازع فعل ہے کہ مریضوں کے ایک میڈیکل لیب میں ڈیٹا کسی کی بھی رسائی میں ہو۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پاکستان کو فوری طور پر ایک ڈیٹا پروٹیکشن کے قانون کی ضرورت ہے تاکہ ایسی کمپنیاں جو ڈیٹا پرائیویسی کے بارے میں غیرذمہ داری کا مظاہرہ کریں ان کے خلاف شہری قانونی چارہ جوئی کر سکیں اور جن کے ڈیٹا میں خلل یا چھیڑ چھاڑ ہوئی ہے وہ انصاف حاصل کر سکیں۔‘

چغتائی لیب نے اب سے کچھ دیر قبل ایف آئی اے کے سائبر کرائم کو ٹیگ کر کے ایک ٹوئٹر صارف کے اکاؤنٹ کے بارے میں توجہ دلائی ہے کہ اس نے میاں نواز شریف کے اکاؤنٹ میں ردوبدل کا اعتراف کیا ہے۔ اس کے ساتھ ایک ٹوئٹر ہینڈل لگا ہوا ہے جس میں صارف نے لکھا ہے کہ ’یہ میں نے کیا ہے۔‘

یہی ٹوئٹر ہینڈل میاں نواز شریف کی پروفائل پر تبدیل شدہ پتے کے ساتھ بھی دیا گیا ہے۔

چغتائی لیب نے جس صارف کے بارے میں ایف آئی اے کو نشاندہی کی ہے وہ اکاؤنٹ سید احمد افتخار نامی ایک شخص کا ہے۔ جنھوں نے اب اس ٹوئٹر اکاؤنٹ کو پرائیویٹ کر دیا ہے جس کی وجہ سے اس کی ٹویٹس کو پبلک نہیں دیکھ سکتی سوائے ان لوگوں کے جو اس کو فالو کرتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 63
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 8025 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp