محرم میں امن اور سفیرانِ امن کا کردار

پاکستان میں محرم الحرام کی آمد سے پہلے ہی ایک خاص ماحول بنا دیا جاتا ہے اور پاکستانی عوام کے ساتھ دنیا بھر کے لوگوں کو باور کرایا جاتا ہے کہ ہمارے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ امن و امان کے نفاذ کے ذمہ دار ادارے اپنی اپنی منصوبہ بندی میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ راستے بند کرنے کے انتظامات ہونے لگتے ہیں۔ نئے ٹریفک پلان جاری کر کے متبادل روٹس اور راستوں کا اعلان کیا جاتا

Read more

اِک ذرا صبر کہ اِس جبر کے دن تھوڑے ہیں

اِس جوان کا والد پاکستان میں ایک علمی اور ادبی تشخص کا حامل انسان تھا جس نے ریڈیو ’ٹیلی ویژن‘ اخبار ’جرائد‘ رسائل ’کتابوں اور زبانی محافل کے ذریعے پاکستان کے مختلف طبقات اور کئی نسلوں کو ادب سکھایا‘ زبان سکھائی ’شاعری سکھائی‘ بولنے کا سلیقہ سکھایا ’محبت کا قرینہ بتایا‘ امن کا سلیقہ سکھایا اور زندگی کے آٹھ عشرے اسی خدمت میں صرف کر دیے۔ اگرچہ اس کے والد کی علمی و ادبی خدمات کے صلے میں حکومت پاکستان

Read more

امن۔ بقائے انسانی کا راز

معلوم انسانی تاریخ اگر حضرت آدم علیہ السلام سے شروع کی جائے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ فرزندان آدم یعنی ہابیل اور قابیل کا تذکرہ کیے بغیر ہم انسانی تاریخ کا آغاز ہی نہیں کر سکتے۔ یہ بد قسمتی کہیے یا انسانی صبر و شعور کا امتحان کہیے کہ دنیا کے پہلے انسان کے دو بیٹے ہی امن اور بد امنی کی علامت ٹھہرے۔ دونوں ہی ظالم اور مظلوم کا استعارہ بنے۔ دونوں قاتل اور مقتول کا نشان قرار

Read more

ہر پل کا شاعر: ساحر لدھیانوی

گزشتہ صدی میں برصغیر کے ترقی پسند ادب میں دو نام معتبر اور غالب رہے ہیں. ان میں ایک مجاز اور دوسرے ساحر ہیں۔ لدھیانہ سے تعلق رکھنے والا عبدالحئ جو بعد میں ساحرلدھیانوی کے نام سے متعارف اور معروف ہوا ، ایک پسماندہ طبقے کا فرد تھا جس نے اپنے اردگرد معاشرے میں پھیلی ناہمواریوں کا احساس کیا اور قلم اٹھایا۔ نہ صرف زبان و بیان سے ان ناہمواریوں کے خلاف بات کی بلکہ عملی جدوجہد سے اپنے سچے اور مخلص ہونے کا ثبوت فراہم کیا۔

اس نے اپنی شاعری کے ذریعے غریب اور پسے ہوئے طبقات میں جتنی مقبولیت حاصل کی ، وہ فیض کے علاوہ اور کسی کو حاصل نہ ہوئی۔ ساحر نے اگر فلمی شاعری کو ذریعۂ اظہار بنایا تو وہاں بھی لب و رخسار اور عشق و محبت کے تذکروں سے زیادہ انہی معاشرتی مظالم اور ناہمواریوں کو موضوع بنایا۔

Read more

انقلاب ایران: جدت اور روایت کا حسین امتزاج

جدید ترقی یافتہ سائنسی دنیا میں مذہب کی بنیاد پر ہونے والی سرگرمیوں ، مذہبی سیاست اور مذہب کی اساس پر لائی جانے والی تبدیلیوں کو جہاں منفی تصور کیا جاتا ہے وہیں ان تبدیلیوں کو عارضی اور ناپائیدار سمجھا جاتا ہے۔ ایک لحاظ سے اس نظریے کے ثبوت کے لیے خود اہل مذہب نے شواہد بھی فراہم کیے ہیں لیکن مجموعی طور پر اس فکر کی کاملاً تائید بھی حقیقت سے راہ فرار کے مترادف ہے۔

انسانی تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی مذہب نے دنیاوی ارتقاء اور سائنسی ترقی کی بلاجواز مخالفت کی ہے یا اس ترقی سے روگردانی کی کوشش کی ہے یا جدت کے مقابلے میں قدامت کو ترجیح دی ہے ، تب انسانی معاشروں نے نقصان کے علاوہ کچھ حاصل نہیں کیا۔

Read more

ادارہ امن و تعلیم کن لوگوں کو کھٹکتا ہے؟

علمی حلقوں میں اگرچہ ”جمہوریت“ اور ”جمہوری نظام“ کے حوالے سے مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ دنیا بھر کے اسلامی و غیر اسلامی اور مذہبی و غیر مذہبی ممالک میں جمہوریت کی مختلف اشکال موجود ہیں ، مختلف تجربات کے ذریعے جمہوریت کے نفاذ کی مثالیں موجود ہیں۔ مختلف افکار کے تحت معاشرہ سازی کی کوششیں کی جا رہی ہیں لیکن دنیا کے اکثر معاشروں نے انسانوں کی عافیت اور تحفظ جمہوری نظام میں محسوس کیا ہے۔ اہل مذہب کے

Read more

پاکستان میں یوم القدس۔ مختلف زاویہ نگاہ سے

(جمعتہ الوداع۔ عالمی یوم القدس 52 رمضان المبارک 0441 ہ کی مناسبت سے ) قبلہ اول بیت المقدس کی حرمت ’عزت‘ تقدس اور مسلمہ حیثیت پر ایمان تمام الہی ادیان کے پیروکاروں کے لیے بالعموم اور مذہب اسلام کے پیروکاروں کے لیے بالخصوص لازم اور واجب ہے۔ مسجد اقصی اللہ کے برگذیدہ انبیاء اور مرسلین کا معبد رہا ہے اور خاتم المرسلین ﷺ سے قبل متعدد اور بے شمار انبیاء و رسل بیت المقدس کو اللہ کا گھر اور نشانی

Read more

قراردادِ پاکستان۔ مقاصدِ پاکستان۔ ریاستی ذمہ داریاں

جب ہم پاکستان میں بڑھتی ہوئی نا اتفاقی ’ترقی کرتی ہوئی لسانی نفرت‘ آسمان چھوتی ہوئی فرقہ پرستی ’بلندی کی طرف جاتی ہوئی علاقائیت‘ حد سے گرتی ہوئی طرزِ سیاست ’اخلاقیات کا دامن چھوڑتی ہوئی سماجی روایات‘ عقل و منطق سے عاری ہوتی ہوئی مذہبی تاویلات ’خلافِ آئین اقدامات کو عین آئین سمجھ کر ڈٹ جانے کی عادات‘ آئین کو موم کی ناک یا جوتی کی نوک پر رکھنے کے اقدامات اور خارجی دشمنیوں میں مسلسل اضافے کے تناسب کا

Read more

ترقی پسندی کا سفر اور پی ڈبلیو اے

انسان اپنی تخلیق کے بعد مختلف زاویے سے ’مختلف انداز سے‘ مختلف اشکال سے اور مختلف مراحل سے ترقی کی منازل طے کرتا چلا آرہاہے۔ بعض تھیوریز کے مطابق انسان نے جسمانی ارتقاء کا سفر بھی طے کیا جس میں اس کے ظاہری خدوخال اور بناوٹ و سجاوٹ میں تبدیلی و ترقی آتی رہی لیکن ایک منزل پر پہنچ کر اس کا جسمانی ارتقاء ٹھہراؤ یا جمود کا شکار ہوا جس کے بعد سے لمحہ موجود تک اس کی ساخت میں ظاہری تبدیلیاں وقوع پذیر نہیں ہوئیں لیکن اس کا یقین نہیں کہ کتنی صدیوں کے سفر کے بعد کیا کبھی مزید تبدیلیاں رونما ہوں گی یا انسان اپنے ظاہری خاتمے سے دوچار ہوگا یا پھر ایک نئی تخلیق کے بعد نئی دنیا کا سامنا کرے گا۔ ؟ یہ سوالات صاحبانِ تحقیق اور جستجویانِ حقیقت کو متوجہ کرتے رہیں گے کہ وہ انسان کے ماضی کی جسمانی تبدیلیوں کو مستقبل کے جسمانی ارتقاء سے کیسے مربوط و منسلک کرتے ہیں یا پھر جسمانی جمود پر عقیدہ رکھ کر مزید ارتقاء کو ناممکن و عبث قرار دیتے ہیں۔

Read more