وزیراعلیٰ بلوچستان کو تعلیم میں دلچسپی نہیں


یقینا آپ کی کھیل دوستی قابل تعریف ہے، پورا صوبہ گواہ ہے کہ آپ کھیلوں پر خصوصی توجہ دیتے ہیں

اور اس کے لئے اپنے مصروف ترین شیڈول سے وقت نکا لتے ہیں چاہے آپ کو جھل مگسی جانا ہو، گوادر جانا پڑا ہو یا پھر کراچی اپنی مکمل ایمانداری سے ٹائم نکال کر صحت مندانہ تفریحات میں یا شرکت کی یا پھر ان کھیلوں کے دیکھنے کے عمل کو یقینی بنایا۔ چاہے وہ گاڑیوں کی ریس ہو یا پھر پی ایس ایل کے میچز ہوں آپ نے اپنی مصروفیات سے ہمیشہ وقت نکال کر اس جانب توجہ دی۔ لیکن گزشتہ سات ماہ سے زیادہ کا عرصہ ہوچکا ہے آپ کی حکومت کو۔

لیکن ہم محسوس کر رہے ہیں کہ جب سے آپ اقتدار میں آئے ہیں آپ نے تعلیم کو ایسا بھلا دیا ہے جیسے صوبے میں لٹریسی ریٹ سو فیصد ہو۔ تعلیم کو وہ توجہ نہیں دی جس کا تقاضہ آپ سے صوبے کی تعلیمی پسماندگی اور محکمہ تعلیم کررہا ہے اگرچہ تعلیم کا ثمر ہے کہ آج آپ ٹوئٹر استعمال کر رہے ہیں اور ماضی کے اکثر کم پڑھے لکھے وزراءاعلیٰ کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اگر آپ کو شعور دیا ہے تو تعلیم نے دیا ہے لیکن آپ نے تعلیم کو سائیڈ پر رکھ دیا ہے۔

حضور والا بوچستان میں ہر شخص آپ کی طرح منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا نہیں ہوا کہ پیدا ہوتے ہی ملک کا معروف تعلیمی ادارہ ایچی سن بانہیں کھولے اس کو خوش آمدید کہہ رہا ہو۔ اس وقت صوبائی دارالحکومت کوئٹہ جس کی آبادی 2017 کئی مردم شماری کے مطابق 22 لاکھ 75 ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ میں کل 645 سرکاری سکولز ہیں جس میں ایک لاکھ 25 ہزار کے قریب طلباوطالبات زیر تعلیم ہیں۔ جبکہ اس کے ساتھ واقعہ ضلع پشین جس کی 2017 کے مردم شماری کے مطابق آبادی 7 لاکھ 36 ہزار نفوس پر مشتمل ہے میں 1030 سرکاری اسکولز ہے جن میں 44 ہزار طلباء و طالبات زیر تعلیم ہیں کو ریو یو کرنے اور اس میں کمی بیشی کرنے کے لے کیا اقدامات اٹھائے ہیں اور کیا یہ بات آپ کے علم میں ہے کہ صوبائی دارا الحکومت سے زیادہ سکول کم آبادی والے ضلع میں ہیں۔

اگرچہ آپ نے حکومت کے شروع کے دنوں میں تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے محکمہ تعلیم میں اصلاحات کا بل کابینہ سے منظور کرایا جس کو عوامی سطح پر پذیرائی ملی لیکن وہ آدھے راستے میں گم ہو گیا۔ معلوم نہیں وہ بل آپ کو یاد بھی ہے یا نہیں۔ محکمہ تعلیم جیسا اہم شعبہ آپ نے مشیر کے حوالے کر رکھا ہے جبکہ سی اینڈ ڈبلیو جیسا مالدار محکمہ اپنے پاس رکھا ہوا ہے۔ سوچنے والے یہ بھی سوچتے ہیں کہ جس شعبے نے قوم کو بنانا ہے صوبے کو بنانا ہے وہ آپ نے اناڑیوں کے حوالے کردیا اور جس محکمے نے صوبے کے سکولز کی بلڈنگز بنانی ہیں وہ محکمہ آپ نے اپنے پاس رکھا ہوا ہے۔ اگر کسی سکول کی بلڈنگ خدانخواستہ گر جاتی ہے تو سینکڑوں بچوں کی زندگی متاثر ہو سکتی ہے جب کہ محکمہ تعلیم اناڑیوں کے حوالے کر کے آپ پورے صوبے کے بچوں کو زندہ درگور کرنے پر تلے ہوے ہیں۔ صوبے میں محکمہ سی اینڈ ڈبلیو ایک بلڈنگ ٹیڑھی بناتی ہے تو اس کو گرایا جا سکتا ہے لیکن محکمہ تعلیم اگر کسی بچے کو تعلیمی نشوونما کرنے میں ناکام رہتا ہے تو یہ فیصلہ ایک نسل کو بھگتنا پڑے گا۔

یقینا آپ اچھا سوچتے ہوں گے لیکن بظاہر یہ لگ رہا ہے کہ آپ نے محکمہ تعلیم سے خود کو مکمل طور پر بے خبر رکھا ہے اور آپ کی حکومت میں جس قدر محکمہ تعلیم زبوں حالی کا شکار ہے تاریخ کا ایک طالب علم ہونے کے ناطے میں یہ لکھنے میں حق بجانب ہونگا کہ شاید صوبے کی تاریخ میں اس طرح کبھی نہ ہوا ہو تمام اضلاع کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر گریڈ 17 کے جونیئر ترین ماسٹروں کو تعینات کیا گیا ہے یہی نہیں تمام تر سکولوں میں پرنسپل بھی گریڈ 17 کے لگائے کا سہرا بھی آپ کے سر ہے۔

امتحانات کے ذمہ دار بلوچستان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ آپ کی ٹوئٹر والی سرکار میں اس نہج پر پہنچ چکا ہے کہ تعلیم کے ساتھ کھلواڑ میں آپ کی حکومت نے سابق وزیر تعلیم عبدالرحیم زیارتوال کو بھی پیھچے چھوڑ دیا ہے۔ چیئرمین بلوچستان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ کی اہم پوسٹ پر گریڈ 18 کے جونیئر استاد کو لگایا گیا ہے کنٹرولر بلوچستان بورڈ گریڈ 17 کا جونیئر ترین ماسٹر لگایا گیا ہے جس کے ماتحت بورڈ آفس کے گریڈ اٹھارہ کے 12 ڈپٹی ڈائریکٹر کام کرتے ہیں سوال یہ نہیں ہے آپ کس قدر پڑھے لکھے ہیں سوال یہ ہے کہ آپ نے صوبے میں ایسا کیا کارنامے سرانجام دیا ہے جس کے ذریعے آپ نے اپنی سوچ متعارف کروائی ہو ہو یا ایسی کیا پالیسیاں متعارف کرائی ہیں کہ جو آپ کو سابق وزراء اعلی سے مختلف ٹھہرانے میں مددگار ثابت ہو ں کیونکہ بظاہر تو ایسا کچھ بھی نظر نہیں آ رہا آپ کی صرف ایک بات کہ ہم نے کرپشن روک دی ہے لیکن محکمہ تعلیم میں پوسٹوں کی خرید وفروخت اور تبادلوں پر موٹی رقم کی باتیں ہو رہی ہیں اور اس طرح کی باتیں ہر زبان پر ہیں۔ شاید آپ اس طرح کی باتیں سننے کو تیار نہیں؟

ہمیں ترقیاتی سکیمات میں کرپشن سے زیادہ دیمک کی طرح صوبے کو کھانے والے محکمہ تعلیم کی زیادہ فکر لگی ہوئی ہے اگر آپ واقعی میں چاہتے ہیں کہ صوبے سے غربت افلاس اور پسماندگی کا خاتمہ ہو تو سی انیڈ ڈبلیو کے بجائے آپ کو ایک نسل کو بچانے کے لئے محکمہ تعلیم کی باگ ڈور اپنے پاس رکھنی ہوگی نہیں تو سی این ڈبلیو سے محکمہ تعلیم میں کرپشن صوبے کے لیے خطرناک ثابت ہوگی اور تاریخ آپ کو ناکام وزرائے اعلیٰ میں شمار کرنے میں حق بجانب ہوگی

Facebook Comments HS