گھریلو صارفین سے کمرشل سے دگنا تگنا گیس بل کیسے ٹھگا جا رہا ہے؟

اس پریشر (ریگولیٹر + ہوا کا دباؤ) کا جو تناسب Base پریشر سے بنتا ہے، پریشر فیکٹر کہتے ہیں اور میٹر کے ناپے ہوئے یونٹس کو پریشر فیکٹر سے ضرب دینے پر وہ حجم مل جاتا ہے جس کو جی سی وی اسے ضرب دے کر گیس کی استعمال شدہ حرارت مل جاتی ہے جس پر ٹیرف ریٹ لگایا جاتا ہے۔ آسان زبان میں حجم سے رقم اس ترتیب سے بنتی ہے۔ پہلے میٹر سے حجم ناپنا، بعد میں اس کو پریشر فیکٹر سے ضرب دے کر بیس پریشر کے حجم میں تبدیل کرنا، پھر اس کو جی سی وی سے ضرب دے کر گیس کی حرارت ناپنا اور پھر حجم کی مناسبت سے ٹیرف سے ضرب دے کر صرف شدہ گیس کی قیمت نکالنا۔
یہاں سوئی گیس والوں نے یہ گڑبڑ شروع کر رکھی تھی کہ گھر کہ ریگولیٹر پر وہ پریشر زیادہ لکھ دیتے تھے۔ میں نے مختلف جگہوں سے بل اکٹھے کیے تو معلوم ہوا کہ وہ ریگولیٹر پریشر کی ویلیو 1.6 پونڈ تک دکھاتے ہیں۔ (اپنا بل اٹھائیں، سوئی نادرن کے بل میں میٹر ریڈنگ کے نیچے pres/factor لکھا ہوتا ہے جبکہ سوئی سدرن کے بل میں pcf جس سے پریشر کوریکشن فیکٹر بنتا ہے، لکھا ہوتا ہے۔ سوئی سدرن بل میں پریشر علیحدہ درج کرتی ہے اور فیکٹر کو pcf لکھتی ہے ) گھر کے چھوٹے ریگولیٹر میں 0.4 پاؤنڈ سے زیادہ پریشر لگ ہی نہیں سکتا۔ آپ نے اکثر تنوروں پر بڑے ریگولیٹر اور میٹر دیکھے ہوں گے، یہ پریشر ان پر ہی لگ سکتا ہے۔


بات یہاں پر ہی ختم نہیں ہو جاتی۔ ہوا کا اوسط دباؤ کراچی میں 14.73 پاؤنڈ اور لاہور میں تقریباً 14.3 بنتا ہے۔ اسلام آباد میں 13.8 اور مری میں تو 11.9 پاؤنڈ ہو جاتا ہے۔ لیکن سوئی گیس والوں نے پورے پاکستان کے لئے ایک ہی رقم 14.65 مقرر کر رکھی ہے جو کہ انجینئرنگ کے حساب سے بالکل غلط ہے۔ اس سے کم از کم راولپنڈی میں ہر سو یونٹ پر چار کم کرنے سے سٹینڈرڈ حجم نکلے گا لیکن گیس والے اس کی بجائے غلط پریشر اور غلط ہوا کا دباؤ فارمولے میں ڈال کر سات آٹھ یونٹ کا اضافہ کر دیتے ہیں۔
یوں آپ تو مستعدی کے ساتھ میٹر تین سو سے شاید نیچے رکھ کر چار ہزار بل کی امید کر رہے ہوں لیکن سوئی گیس والے اسے تین سو پندرہ بنا کر گیارہ ہزار کا بل بھیج دیں گے۔ یہی مسئلہ اگر چار سو کے نزدیک پیش آئے تو بل پندرہ سے بڑھ کر چھبیس ہزار ہو جائے گا۔ مری میں تو یہ فیکٹر 0.78 تک گر جاتا ہے (یعنی کہ مری میں میٹر کے ناپے ہوئے ہر سو یونٹ میں سے بائیس کم کر کے بل بنانا چاہیے ) ، وہاں پر سوئی گیس والے گھریلو صارفین کو فیکٹر شاید نہیں لگا رہے (کم از کم جو بل میں نے دیکھے ہیں ) اور شاید احسان کر رہے ہیں لیکن درحقیقت وہ تقریباً بیس فیصد یونٹ ہوا کا غلط دباؤ دکھا کر پہلے ہی زیادہ لگا رہے ہیں اور وہ چونکہ صارفین کو بیس فیصد سے زیادہ لُوٹنا نہیں چاہتے اس لیے یہ شاید یہ مہربانی کر رہے ہیں۔ مری کے ایک ریسٹورنٹ کے بل کا میں نے جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ چون ہزار کے بل میں ساڑھے سات ہزار زیادہ ہیں اگر درج شدہ تین پاؤنڈ کا ریگولیٹر پریشر تسلیم کر لیا جائے جو بل پر کئی سال پہلے کے سروے کا درج ہے۔
راولپنڈی میں ہوا کا دباؤ 13.8 ہے اور 0.25 ریگولیٹر پریشر۔ ٹوٹل 14.05۔ اسے بیس پریشر 14.65 پر تقسیم کریں تو جواب 0.96 آتا ہے۔ اب اوپر سوئی نادرن والے بل کی تصویر پر ایک رقم پریشر / فیکٹر یوں تحریر ہے۔ 1.2 / 1.0819۔ یہ رقم سوئی گیس والوں نے 1.2 کو 14.65 میں جمع کر کے 14.65 سے ہی تقسیم کر کے نکالی ہے۔ لہٰذا سوئی گیس والے دو طرف سے چکر دے رہے ہیں، پنڈی میں کراچی کا ہوا کا دباؤ (جو تقریباً 0.85 پونڈ زیادہ ہے ) اور گھر کے ریگولیٹر پر 0.25 کی جگہ 1.2 (تقریباً ایک پونڈ زیادہ) ۔ تو میرے 292 یونٹ 1.0819 سے ضرب کھا کر 312 بن کر چار سے گیارہ ہزار کا بل بنا دیتے ہیں۔ (آپ اپنا بل دیکھیں اور اپنا پریشر اور فیکٹر چیک کر کے اندازہ لگائیں کہ آپ کتنا زیادہ بل بھر رہے ہیں ) ۔
5 سوئی نادرن کی طرف سے شائع شدہ وضاحت میں پریشر فیکٹر کا فارمولا
اب سوئی گیس والے میٹر کی تو بڑے شوق سے تصویر لگا کر دکھاتے ہیں کہ وہ بڑی دیانتداری سے بل بناتے ہیں لیکن جی سی ویلیو کہاں، کب اور کیسے چیک کی جاتی ہے، کوئی نہیں بتاتا۔ اوگرا کے حکم کے مطابق یہ ویلیو اور وبے انڈیکس (Wobbe Index) بل پر درج ہونا چاہیے لیکن یہ کہاں سے آئے، بل اس پر خاموش ہے۔ یہ ویلیو ویسے تو سیلز میڑ سٹیشن sales meter station پر نصب آلات سے نوٹ کی جاتی ہے لیکن اس کو نوٹ کمپنی کی بجائے اوگرا یا علاقہ صارفین کی کمیٹی کو کرنا چاہیے۔ یہ تو ایسا ہی ہوا کہ صارف اپنا میٹر خود چیک کر کے سوئی گیس کو بتا دے اور میٹر زیرو کر دے۔ بین الاقوامی مروج طریقہ میں پورے چوبیس گھنٹے کی اوسط جی سی وی روزانہ کمپنی کی ویب سائٹ پر درج کی جاتی ہے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


