گھریلو صارفین سے کمرشل سے دگنا تگنا گیس بل کیسے ٹھگا جا رہا ہے؟


اس مضمون کو میں نے مختلف اخبارات کو بھیجا اور چار فروری کو روزنامہ جناح اسلام آباد نے شائع کیا۔ واٹس ایپ پر بھی اس مضمون کو وائرل کرنے کی کوششیں کی۔ کچھ خطوط اسی موضوع پر میں نے اوگرا، پرائم منسٹر پورٹل اور وزارت توانائی میں سوئی گیس کی تحقیقات کرنے والے افسر مجاز ایڈیشنل سیکرٹری پٹرولیم جناب ڈاکٹر شیر افگن خان کو بھیجے اور ان کے دفتر کے نمبر پر فیکس کیے جس میں میں نے ان کی توجہ پریشر فیکٹر کے مسائل کی طرف دلائی کیونکہ اخبارات کے مطابق گیس کمپنیاں اور اوگرا معاملے کو ٹیرف کی طرف موڑ رہی تھیں۔

6 ایڈیشنل سیکرٹری پڑولیم کو تیس جنوری کو لکھا گیا خط
7 ایڈیشنل سیکرٹری پڑولیم کو سات مارچ کو لکھا گیا دوسرا خط

اب اس کا خاطرخواہ فائدہ ہوا ہے اور گورنمنٹ کی توجہ پریشر فیکٹر کی طرف مبذول ہو گئی ہے (یہ معلوم نہیں کہ اس میں میرے خط اور مضمون کا کوئی ہاتھ تھا کہ نہیں ) اور اوگرا نے نہ صرف گھریلو بلوں میں آٹھ انچ پانی کے کالم سے زائد پریشر لگانے پر پابندی لگا دی (اخبارات کے مطابق سوئی نادرن دو ہزار آٹھ سے اور سوئی سادرن دو ہزار سولہ سے گھروں کے بلوں میں غلط پریشر دکھا کر زائد بل وصول کر رہی ہے، اب صرف اس مالی سال میں اس غلط پریشر کے اطلاق سے ڈھائی ارب روپے زائد وصول کیے گئے جس کی واپسی کی منظوری وزیراعظم نے دے دی ہے اور انکوائری کا حکم بھی دے دیا ہے کہ کس افسر کے فیصلے پر اس پریکٹس کا آغاز کیا گیا) بلکہ پریشر فیکٹر کے گھریلو بلوں کے اطلاق پر بھی پابندی لگا دی جو کہ سطح سمندر سے ہزار سے زائد فٹ بلندی پر رہنے والوں کے لئے نقصان ہے، اگر صحیح فارمولا استعمال کیا جائے۔

اس پر میں نے شیر افگن صاحب کو دوسرا خط فیکس اور ارسال کیا ہے اور اوگرا میں بھی بارہ فروری کو شکایت نمبر 4451 درج کروائی لیکن اوگرا جو کہ پانچ دنوں میں شکایت کو accept یا reject کرنے کا ذمہ دار ہے، تا حال خاموش ہے۔ پرائم منسٹر شکایات پورٹل پر بھی شکایت کی لیکن جی ایم SNGPL نے صرف اتنا جواب دیا کہ ہمارا فارمولا پاکستان سٹینڈرڈ کے مطابق ہے لیکن مزید کوئی تفصیل نہیں دی بلکہ کہ دیا کہ ان کے گھر میں گیس لیک تھی جو ہم نے ٹھیک کر دی ہے۔ (یہ بات بالکل غلط تھی اور نہ ہی سوئی گیس کا کوئی نمائندہ میرے گھر آیا تھا) ۔

8 پرائم منسٹر پورٹل پر شکایت کا جواب

خط کے علاوہ وزیراعظم کے آفس میں بھی کچھ سلام دعا تھی جدھر بھی میں نے یہ شکایت پہنچا دی ہے اور مری کے ایم این اے صداقت عباسی صاحب سے رابطے کی کوشش کی ہے کہ وہ مری والوں کے لئے اس معاملے کو اسمبلی میں اُٹھائیں۔ مری، ایبٹ آباد اور کوئٹہ والے تو بہت زیادہ بل اس فارمولے کی وجہ سے دیتے ہیں۔ کچھ ترامیم کے بعد یہ باقی مضمون میں ’ہم سب‘ میں پیش کر رہا ہوں تاکہ اس بات کو پھیلایا جا سکے اور اوگرا کو مجبور کیا جا سکے کہ وہ گھریلو اور کمرشل میٹروں پر اس فیکٹر کا صحیح اطلاق کرے اور صارفین سے اصل خرچ شدہ گیس کی قیمت وصول کی جائے۔ اب دیکھتے ہیں کہ کب اس چالیس سالہ غلط فارمولے میں تصحیح ہوتی ہے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4