گھریلو صارفین سے کمرشل سے دگنا تگنا گیس بل کیسے ٹھگا جا رہا ہے؟


ستم دو ستم اس پر بھی ان کمپنیوں کا اس سے بھی دل نہیں بھرتا اور (چونکہ ہمارے میٹر گیس کو مکعب میٹر میں ناپتے ہیں اور جی سی وی ایک مکعب فٹ گیس میں حرارت کی مقدار ہوتی ہے لہذا مکعب میٹر کو مکعب فٹ میں تبدیل کرنا پڑتا ہے ) یہ کمپنیاں جاتے جاتے اس رقم میں بھی گڑبڑ کرتی ہیں ( ایک مکعب فٹ میں 0.02817325 مکعب میٹر لگاتے ہیں جبکہ یہ درحقیقت 0.02831685 مکعب میٹر مکعب میٹر ہوتی ہے۔ بے شک آپ گوگل سے چیک کر لیں ) تاکہ تھوڑا بہت اور بھی صارفین سے نکال لیں۔ پتہ نہیں کہاں سے انجینئرنگ کی ہے ان لوگوں نے۔ (آپ خود بھی بل پر جی سی وی فارمولے میں بٹے کے نیچے والی رقم ملاحظہ کر لیں جو کہ 283.7325 درج ہے ) یہ ناپ تول میں کمی کرنے کی ماڈرن دور کی مثالیں ہیں۔

آپ ملاحظہ کر سکتے ہیں کہ انڈسٹریل صارفین تو اچھے میٹر لگاتے ہیں اور گیس کمپنیاں ان کے ساتھ چکر نہیں چلا سکتیں (گو ان کو اپنی شکایات ہیں، سُپر کمپریشن فیکٹر کی) لیکن غریب گھریلو اور چھوٹے کمرشل صارفین صارفین ان کی چیرہ دستیوں کا شکار بن جاتے ہیں۔ ایک طرف اوگرا گھریلو صارفین کو چودہ سو اسی روپے میں گیس فروخت کر رہی ہے دوسری طرف انڈسٹری کے بڑے کھاد بنانے والے مافیا کسانوں کے نام پر ایک سو نوے روپے یعنی گھریلو صارفین سے آٹھ گنا سستی گیس خرید رہے ہیں اور پھر بھی مہنگی کھاد تیار کر رہے ہیں کہ کسانوں کے منہ پر صرف کھاد کی قیمت کی شکایت ہوتی ہے۔

بجلی کے بعد سب سے زیادہ بڑا گیس کسٹمر تو یہ کھاد مافیا ہے ورنہ ان کو اتنی سستی گیس بیچ کر بیرون ملک سے مہنگی LNG خریدنے کی کیا ضرورت ہے؟ اس سے بہتر ہے کہ یہ فیکٹریاں بند کر دی جائیں اور LNG کی بجائے ڈائریکٹ کھاد درآمد کر لیں، سوائے لمبی تنخواہیں وصول کرنے والے کھاد مافیا اور LNG ٹرمینل کے افسران اور کھاد مافیا کے سرمایہ داروں کے شاید سب فائدہ ہی میں رہیں گے ۔

درحقیقت یہ سب آپس میں غریبوں کے خلاف ملے ہوئے ہیں۔ اوگرا کی مدد سے سوئی گیس کمپنیاں اپنی چوری اور ناقص تنصیبات کی وجہ سے لیک شدہ گیس کے پیسے، گھریلو صارفین سے وصول کر رہی ہیں۔ گمشدہ گیس کا اوگرا کے کہنے پر ایک آڈٹ 2017 میں کیا گیا جس میں یہ انکشاف ہوا کہ ایک سوئی نادرن گیس کے پائپوں میں ہر کلومیٹر میں اوسطا تین جگہ لیکج ہے۔ اب یہ ساری گیس لیک ہو کر گلوبل وارمنگ میں بھی اضافہ کر رہی ہے اور سوئی گیس کمپنیاں بجائے اپنا نیٹ ورک ٹھیک کرنے کے، دو نمبر ٹیرف اور پریشر فیکٹر کے غلط استعمال سے اس کی قیمت صارفین سے وصول کر رہے ہیں۔

سردیوں میں پریشر 0.25 پونڈ سے بھی گر جاتا ہے اور چولہے بھی مشکل سے جلتے ہیں لیکن بل پہلے سے زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔ پریشر گرنے کی صورت میں صارفین کو دوگنا تکلیف ہوتی ہے۔ ایک تو میٹر تیز ہو جاتا ہے (کیونکہ فیکٹر تبدیل نہیں کیا جاتا اور گیس پھیل کر حجم میں بڑھ جاتی ہے ) اور گیس بھی نہیں آتی۔ لہٰذا یا تو کمپنی کو پورا پریشر دینا چاہیے یا پھر گیس بند کر دینی چاہیے لیکن اس پریشر کو کم کرنے سے وہ درحقیقت بلوں میں اضافہ کر رہے ہوتے ہیں۔

دسمبر میں سوئی گیس کے ہوشربا بل پر کافی احتجاج ہوا اور راقم کو بھی جب باوجود احتیاط کے ساڑھے دس ہزار کا بل بھرنا پڑا تو پہلی مرتبہ بل کا بغور جائزہ لیا۔ آج سے پہلے تو صرف واجب الادا رقم دیکھ کر پیسے ٹرانسفر کر دیتے تھے لیکن اس بار جب غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ میٹر پر دو سو بانوے یونٹ گرے تھے لیکن نیچے ایک لائن pres / Factor کی تھی جس پر ایک پرسرار سی رقم 1.2 / 1.0819 درج تھی اور اس سے نچلی لائن پر کل صرف شرہ گیس 3.11 Hm 3 درج تھی۔

اس کو سمجھنے پر (گو تھوڑا وقت لگا کیونکہ یہ کیمیکل انجینئرنگ کے معاملات ہیں اور میں بنیادی ٹریننگ کے اعتبار سے الیکٹریکل انجینئر ہوں ) یہ انکشافات ہوئے۔ سوئی نادرن گیس کمپنی کے دفتر جا کر میں نے ان کے پریشر فیکٹر کے فارمولے پر سوالات کیے تو معلوم ہوا کہ میرا اندازہ درست ہے اور انہوں نے سارے پاکستان کا ہوا کا دباؤ 14.65 پاؤنڈ فی مربع انچ فرض کیا ہوا ہے۔ مجھے انہوں نے کہا کہ ہم چالیس سال سے یہ فارمولا استعمال کر رہے ہیں جس پر میں صرف یہی کہ سکا کہ آپ چالیس سال سے غلط فارمولا لگا رہے ہیں، کیا آپ لوگوں نے انجینئرنگ خط و کتابت کے ذریعے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے کی ہے؟

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4