نفرت کے کاروبار کو روکنا ہو گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگرچہ میرا بچپن تقسیم ہند کے موقع پر ہونے والے فسادات اور قتل و غارت کی داستانیں سننے میں بسر ہوا لیکن پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ اپنے جسم و جاں پر اذیتیں جھیلنے والوں کے دل نفرت سے پاک تھے۔ لوگ ان فسادات کو معمول کی زندگی سے ایک انحراف سمجھتے ہوئے آگے بڑھ چکے تھے۔ یہ صرف میرے گاوں کی یا میرے تاثر کی بات نہیں۔ اس کا بڑا ثبوت پچاس کی دہائی میں ہونے والے ہاکی اور کرکٹ کے وہ میچ ہیں جن پر بارڈر کھول دیے گئے تھے۔ بارڈر کے دونوں طرف لوگوں نے والہانہ طور پر ایک دوسرے کو گلے لگایا تھا حالانکہ فسادات میں بہنے والے خون کی بو فضا میں ابھی موجود تھی۔ اغوا ہونے والی عورتوں کی بازیابی کے معاملات بھی چل رہے تھے۔

بھارت کے ساتھ ہمارے تعلقات مسئلہ کشمیر کے باوجود نارمل سطح پر تھے۔ آنے جانے پر کوئی خاص پابندیاں نہیں تھیں۔ انتظار حسین پاکستان بننے کے چند ماہ بعد ہی اپنے ہندو دوست سے ملنے دلی جا پہنچے تھے۔ آغا شورش کاشمیری کئی مرتبہ ہندوستان گئے۔ وہ ریڈیو پر مولانا ابو الکلام آزاد کی وفات کی خبر سن کر جنازے میں شرکت کے لیے لاہور سے دہلی پہنچ جاتے ہیں۔ گاندھی جی کا قتل ہوا تو سوگ میں پاکستانی پرچم سرنگوں کر دیا گیا تھا۔ ساٹھ کی دہائی میں جب ماسٹر تارا سنگھ لاہور آئے تھے تو لاہوریوں نے دل کھول کر ان کا استقبال کیا تھا۔

پاکستان اور بھارت کے مابین سرد گرم بیانات چلتے رہتے تھے، لیکن جب کوئی مسئلہ زیادہ سنگین صورت اختیار کرتا تو لیاقت علی خان سے لے کر فیروز خان نون تک پاکستانی وزرائے اعظم پنڈت نہرو سے ملاقات کرتے اور مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل دریافت کر لیتے تھے۔ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ کام کیا ہوا تھا، شخصی سطح پر تعلقات تھے، اس لیے مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کر لیتے تھے۔ فیروز خان نون نے پنڈت جی سے مذاکرات کرکے مشرقی پاکستان کے دو گاوں بھارت سے لے لیے تھے، جس پر انھیں بھارت میں سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

شاعروں، ادیبوں کی آمد و رفت معمول کی بات تھی۔ لاہور اور کراچی میں ہونے والے مشاعروں میں ہندوستان سے آئے ہوئے شاعر اپنا کلام سناتے اور داد پاتے تھے۔ جگر مراد آبادی اور فراق صاحب بھی تشریف لاتے تھے۔ ایک بار پنڈت نہرو نے پاکستانی ہائی کمشنر راجہ غضنفر علی خان سے گلہ کیا کہ پاکستانی ہائی کمشن میں ہونے والے مشاعرے میں انھیں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی۔ دہلی میں پنڈت جی کی موجودگی میں استاد دامن نے مشاعرے میں اپنا یہ شعر سنایا تھا:

لالی اکھیاں دی پئی دس دی اے

روئے تسیں وی او، روئے اسیں وی آں

اور کہنے والے کہتے ہیں کہ پنڈت جی کی آنکھیں بھی نم ہو گئی تھیں۔

پاکستان بننے کے کیا اسباب تھے اس پر بہت کچھ کہا جا سکتا ہے لیکن اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ اس قسم کی پیچیدہ صورت حال میں مختلف لوگوں کے مختلف تصورات ہوتے ہیں۔ البتہ مسلم لیگ کی صف اول کی قیادت یہاں کسی قسم کی مذہبی ریاست قائم نہیں کرنا چاہتی تھی۔ قیام پاکستان کے وقت کس قسم کا معاشرہ تھا اس کی ایک جھلک اس اعلان میں نظر آتی ہے۔ کراچی کے ایڈمنسٹریٹر نے رمضان المبارک میں یہ اعلان کیا تھا کہ “عوام سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ اپنے ان بھائیوں کے مذہبی جذبات کا احترام کریں جو رمضان المبارک میں روزے رکھتے ہیں تاکہ اہالیان کراچی کے مختلف طبقوں میں رواداری اور یگانگت کے جذبات پیدا ہوں”۔

گیارہ ستمبر 1948 کی رات سندھ کے گورنر ہاوس میں ہونے والی ڈانس پارٹی کا احوال ڈاکٹر جاوید اقبال نے اپنی سوانح اپنا گریباں چاک میں لکھا ہے کہ رقص عروج پر تھا جب 11 بجے یہ اعلان ہوا کہ قائد اعظم کا انتقال ہو گیا ہے اور روشنیاں گل کر دی گئیں۔

جب فیلڈ مارشل صاحب نے اقتدار سنبھالا تو وہ اپنے فوجی پس منظر کی بنا پر نہ مذکرات کی اہمیت کو سمجھتے تھے اور نہ ان کی صلاحیت رکھتے تھے۔ ان کی بے پناہ حماقت نے مسئلہ کشمیر کا حل آپریشن جبرالٹر میں تلاش کیا جس کا نتیجہ 65 کی جنگ کی صورت میں نمودار ہوا۔ شفیق الرحمان نے حماقتیں کے بعد مزید حماقتیں لکھی تھی۔ ہم نے اس کا عملی مظاہرہ کیا۔ ہماری مزید حماقتوں کے نتیجے میں مشرقی پاکستان کے خوں چکاں المیے نے جنم لیا۔ سنہرے بنگال کی سرزمین لہو رنگ ہو گئی۔

اس کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ جب اسی کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں ڈھاکہ میں بھارت اور پاکستان کی ہاکی ٹیموں کا فائنل میچ ہوا تھا تو پورے کا پورا سٹیڈیم پاکستانی ٹیم کی حمایت کر رہا تھا جو رواں تبصرہ کرنے والے بھارتی مبصروں کے لیے بہت زیادہ صدمے کا باعث تھا۔ وجہ وہی تھی کہ لوگ اس سانحے کو فراموش کر چکے تھے۔

ان حادثات و سانحات سے کوئی سبق سیکھنے کے بجائے ہم نے ذرائع ابلاغ پر اور نصابات میں دشمن سازی کا عمل شروع کیا۔ یہاں مجھے ایک واقعہ یاد آ رہا ہے جو دشمن داری کے نتائج کا عبرت ناک مظہر ہے۔

میرے ایک بہت عزیز دوست کا تعلق ایک بااثر گھرانے سے ہے۔ سیاست میں بھی عمل دخل ہے۔ لگ بھگ پچاس برس پرانی بات ہے کہ اس کے کچھ کزنوں کا ایک مخالف فریق سے جھگڑا ہوا جس کے نتیجے میں ایک شخص قتل ہو گیا۔ اس کے دو کزن گرفتار ہو گئے۔ بعد میں مخالف پارٹی سے صلح کے نتیجے میں وہ رہا ہو گئے۔ لیکن کوئی سات آٹھ برس بعد مخالف پارٹی نے حملہ کرکے میرے دوست کے خاندان کے سب سے زیادہ شریف النفس فرد کو قتل کر دیا۔ وہ اس وقت اپنے ٹیوب ویل پر چارپائی پر بیٹھا ہوا تھا۔ جن لوگوں نے اسے قتل کیا انھوں نے اس وقت للکارا مارتے ہوئے کہا: رکھنیاں دشمنیاں تے بہناں منجیاں تے، اوہ وی بغیر اسلحے دے۔ (دشمنیاں پالتے ہو، اور پھر چارپائی پر بیٹھتے ہو اور وہ بھی بغیر اسلحے کے)

یعنی فرد ہو یا خاندان، یا ملک، اگر آپ دشمن دار ہیں تو پھر آپ نارمل زندگی نہیں گزار سکتے۔ خوف اور نفرت اس زندگی کا لازمہ بن جاتے ہیں۔ اب اس نفرت کا سلسلہ اس حد تک پھیل گیا ہے کہ اپنے پرائے کی تمیز بھی ختم ہو چکی ہے۔ شاگرد استاد پر چھریوں کے وار کر کے اسے قتل کر کے اطمینان کا اظہار کرتا ہے کہ اس نے کسی بڑے فرض کی ادائیگی کر دی ہے۔ کسی ذہین کلاس فیلو کی بات پر بھڑک کر اس کے ہم جماعت ہی اس کو قتل کر دیتے اور اس کی لاش کی بے حرمتی کرتے ہیں۔

سوویت یونین میں جب میخائل گورباچوف سربراہ بنا تھا تو اس نے کہا تھا میں چاہتا ہوں کہ میرے ملک کے لوگ ایک نارمل زندگی بسر کریں۔ کمیونسٹ حکومتوں نے بھی سرمایہ داری کی صورت میں ایک دشمن تخلیق کیا تھا جس کی موت میں ہی کمیونزم کی حیات تھی۔ آج ہمیں بھی یہ سوچنا ہے کہ کیا ہم ایک نارمل زندگی کی طرف واپس آنا چاہتے ہیں۔ حب الوطنی کا حد سے بڑھا ہوا جذبہ مثبت نتائج کا ضامن نہیں ہوتا۔ ہٹلر اور مسولینی کا جذبہ حب الوطنی ہی تھا جو بالآخر جرمنی اور اٹلی کے لیے تباہی کا پیغام بر ثابت ہوا۔ آج انجیلا مرکل ہٹلر سے کہیں زیادہ محب وطن ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو امن و سلامتی اور تعمیر و ترقی کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

سن 65 سے پہلے ہم بڑی حد تک ایک نارمل زندگی بسر کر رہے تھے۔ اگر ہم ایک بار پھر نارمل معاشرے کی طرف پلٹنا چاہتے ہیں تو ہمیں نصاب کے ذریعے اپنی نوجوان نسلوں کے ذہنوں کو نفرت سے مسموم کرنے کے کاروبار کو بند کرنا ہو گا۔ دشمن سازی کے عمل کو روکنا ہو گا۔ زندگی میں مثبت اقدار کو اجاگر کرنا ہو گا ورنہ اس آگ سے کوئی محفوظ نہیں رہے گا۔

حفیظ جالندھری نے کہا تھا:

تیرا پھولوں کا بستر بھی راہ گزار سیل میں ہے

آقا اب یہ بندے ہی کے خار و خس کی بات نہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •