اللہ نے اپنے بندے کے لیےمذہب اسلام کا انتخاب کیا


آج یہ کہنا فیشن بن گیا ہے اور شاید ایسا کہہ کر بندہ خود کو فیشن ایبل محسوس کرتا ہے۔ کہ جی میرا کوئی مذہب نہیں ہے۔ میرا مذہب تو انسانیت ہے۔ یا انسانیت سب سے پہلے۔ آج کل ایسا کہنا ماڈرن بھی لگتا ہے۔

لیکن ایسا کہہ کر یہ لوگ شاید بھول جاتے ہیں۔ اللہ جو اِس ساری کائنات کا خالق اور مالک ہے۔ اُس سے زیادہ تو اُس کی کائنات اور خصوصاً اُس کے بندوں کا بھلا سوچنے والا کوئی نہیں ہو سکتا۔ یہ لوگ ایسا کرکے جتانے کی کوشش کرتے ہیں وہ خدا سے زیادہ اُس کی دنیا اور اُس کے بندوں کے خیرخواہ ہیں اور اُن کے لیے بہتر سوچتے ہیں۔ جس پر سوائے ہنسی کے کچھ سمجھ نہیں آتا، کہ بندہ اب انہیں کیا کہے اور کیا سمجھائے۔ یہ لوگ جو اپنے ظاہری فائدے کے لیے کسی حد تک بھی جا سکتے ہیں یہ سمجھتے ہیں یہ اُس کی مخلوق کے اُس سے زیادہ خیر اندیش ہیں۔

وہ اللہ جو چاہتا ہے اُس کا بندہ کامیاب و کامران ہو اِس جہان میں بھی اور آنے والے جہان میں بھی۔ اگر کوئی ایسا کرنے میں ناکام ہوتا ہے اور آخرت کی کامیابی سے محروم رہ جاتا ہے تو اُس سے بڑھ کر رنج کس کو ہو گا۔ کیونکہ وہ تو اپنے بندے سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے۔ جب ایک ماں اپنے بیٹے کو تکلیف میں دیکھ کر بے قرار ہو جاتی ہے تو وہ خدا کیونکر نہ اپنے بندے کے لیے فکرمند ہو گا اور اُس کے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جنم میں جلنے پر افسوس کرے۔ اللہ تعالی قرآن میں فرماتے ہیں۔ جس کا مفہوم یہ ہے ”اے ابن آدم میں تجھ سے محبت د کرتا ہوں تو بھی تو مجھ سے محبت کر“۔ اب اس میں ایک گلہ بھی ہے اور ایک اپنائیت اور چاہت بھی ظاہر ہو رہی ہے۔ اللہ اپنے بندے سے اتنی محبت کرتے ہیں کہ وہ اپنے بندے کو جہنم میں جلتے ہوئے کیسے دیکھ سکتے ہیں۔

وہ تو اُس کے عمر بھر کی خطاہوں کے بدلے بھی ایک ادنی سی توبہ پر اُس کی ساری پچھلی خطائیں مٹا دیتے ہیں۔ اگر اللہ بندے کو جہنم میں جلتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے تو اپنے بندے کو دنیا میں تکلیف میں کیسے دیکھ سکتے ہیں۔

اللہ اپنی مخلوق کو سب سے زیادہ چاہتے ہیں اسی لیے تو اُس نے اپنے بندے کے لیے اسلام مذہب کا انتخاب کیا۔ جو کہ دنیا اور آخرت کی کامیابی کا راز ہے۔ ہمارے لیے انسانیت بہت ضروری ہے اور دوسروں کی خیرخواہی کے لیے ہی ہمیں دینا میں بھیجا گیا ہے لیکن یہ سب ہمارے ذمہ بحثیتِ مسلمان اللہ نے ہماری ڈیوٹی لگائی ہے۔ ہم کسی شخص کے دنیاوی فائدے سے زیادہ اُس کے اخروہی نفع کا زیادہ سوچے۔ اس سب کے لیے ضروری ہے ہمارے اندر ایمان آئے، کیونکہ ایک ایمان والا ڈاکٹر، انجئینر یا سائنسدان جہاں بھی جائے گا وہ انسانیت کے بھلے کا ہی سوچے گا وہ کبھی کسی کو نقصان پہنچانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ وہ سوچے گا یہ شخص کس طرح جہنم سے بچ کر جنت میں جانے والا بن سکتا۔ اصل انسانیت یہ ہے۔ یہ ہی انسانیت کی معراج ہے۔ اُس طرح انسان خدا تک پہنچ سکتا ہے۔

Facebook Comments HS