لیکن ہار مقدر تھی۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وقتی اور لمحاتی کیفیتوں کا خمار چند لمحوں کے لئے خود سے پرے کرتا ہے تو محسوس ہوتا ہے اس سے زیادہ سکون اور کہاں ہوگا مگر یہ کیسا سکون ہے جس کا وجود مجھ میں سرایت ہوکے تکمیل ہی نہیں کر پاتا۔ تشنگی کتنی بھیانک ہوتی ہے اس کا ادراک اسی وقت ہوتا ہے جب آشتی کے دریا میں غوطے کھاتے ہوئے وجود اچانک ریت پر پھینک دیا جائے۔ باقی سب جو بھی ہے اس کی واقعتاً کوئی حقیقت نہیں۔ کوئی بھی نہیں ”باہر برفانی طوفان ہے اور تمھاری حالت ایسی نہیں کہ تمھیں اس وقت ڈرائیو کرنا چاہیے۔

مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے پلیز تم باہر نہیں نکلنا مجھے لگ رہا ہے کوئی ساحر سے دشمنی نکال رہا ہے تمھیں بھڑکا کے“ دوسری طرف خاموشی تھی۔ بھیانک خاموشی۔ میرا دل لرز رہا تھا جو اس نے مجھے بتایا تھا تھوڑی دیر تک تو مجھے لگا واقعی میں شل ہوگئی ہوں۔ ”تم نے سننے میں غلطی کی ہوگی کوئی سپام کال ہوگی۔ ہے نا کوئی رانگ نمبر تھا نا“ اس طرف میں چلائے جارہی تھی اور دوسری طرف کوئی تھا ہی نہیں شاید۔ اس نے بمشکل خود کو سنبھالا اور بچوں کو گھر میں لاک کرکے جلدی سے باہر بھاگی جیسے ایک لمحہ بھی ضائع کیا تو ساری زندگی لٹ جائے گی کچھ بھی نہیں بچے گا خون کی اتنی کمی تھی کہ اس سے صبح سے اٹھا بھی نہیں جا رہا تھا بچے بھوکے بیٹھے تھے ہلکے پھلکے بسکٹ ان کے آگے رکھ کر وہ خود کو بستر میں پھینک چکی تھی ”ویسے تین بچوں کے بعد بھی اتنی جلدی کیا تھی تھوڑا بعد میں بھی ہوسکتا تھا“ خون کی شدید کمی کے باوجود چوتھی بار پھر وہ امید سے تھی پہلے ہی کوئی اس کو، گھر یا بچوں کو دیکھنے والا نہیں تھا اور پھراس نے گھر بھی اتنا دور لے لیا تھا کہ کوئی وہاں پہنچ بھی نہیں سکتا تھا ”ساحر کہتا ہے ہماری بڑی ساری فیملی ہونی چاہیے گھر میں خوب رونق ہونی چاہیے“ وہ پھر بھی خوش تھی ”تو یہ رونق انجوائے کرنے کے لئے وہ خود تو کبھی گھر پہ نظر نہیں آتا جب دیکھو غائب۔

ہوتا کدھر ہے“ اس کے گھر کا پروگرام اتنی مشکل سے بنتا تھا پھر اسے شہر سے کچھ نہ کچھ چاہیے ہوتا تھا اداسی اور تنہائی سے بھری بڑی بڑی آنکھیں جانے کیا شکایت کرتی تھیں مگر وہ بات کا رخ بدل کے صابرو شاکر ہونے کی ناکام کوشش کرتی رہی ”یار بزنس سیٹ ہوگا تو میرا اور میرے بچوں کا ہی مستقبل محفوظ ہوگا ویسے بھی شہر سے اتنا دور اسی لئے تو آئے ہیں نا سب چھوڑ چھاڑ کے ساری رونقیں تیاگ کے“ بات کہتے کہتے وہ بری طرح روہانسی ہوجاتی۔

پتہ نہیں مجھے کیوں لگ رہا تھا وہ کچھ کہناچاہتی ہے پرکہہ نہیں پارہی۔ ”تمھارا وہم ہے سب ٹھیک ہے“ ہم جب سے یہاں تھے اکٹھے تھے بلکہ پاکستان سے بھی اک دوسرے کو جانتے تھے۔ اس کی بڑی بڑی آنکھیں کسی ایرانی شہزادی کی کہانی جیسی حسین تھیں اس کی طبیعت بگڑتی جاری تھی اور ساحر کی مصروفیت بڑھتی جارہی تھی۔ مصروفیت تھی کیا یہ سمجھ نہیں آرہی تھی۔ ”اس نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا“ یہ چند الفاظ جو میں سن پائی اس کے بعد جو اس نے بولا مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ سب واقعی حقیقت ہے، کوئی شک، بھیانک مذاق یا ڈراؤنا خواب۔

کان سے فون لگائے میں کس کرب سے گزر رہی تھی اور اس سے بڑھ کر یہ کرب کہ وہ کس کرب سے گزر رہی تھی۔ ”تمھیں کیسے پتہ کہ یہ وہی ہے“ میرے کینیڈا پہنچنے کی دیر تھی کہ اس نے فرمائیشیں کر کر کے شاید دوسرے ہی دن اپنے گھر بلالیا۔ دیار غیر میں یوں بنی بنائی اک دوست مل جانا ویسے ہی غنیمت تھا ایک بیڈروم کا چھوٹا سا اپارٹمنٹ روم سے لے سٹنگ تک اس کی برائیڈل پکچرز سے بھرا پڑا تھا اور وہ اتنی خوش خوش مجھے اپنے تین ہفتوں کی تفصیلات سنا رہی تھی کیونکہ میں اس کی آمد کے عین تین ہفتے بعد پہنچ گئی تھی۔

اور ابھی میرا ہر قسم کا جیٹ لیگ چل رہاتھا کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی۔ پڑھائی، جاب، پڑھائی، شادی کے درمیان کچھ سمجھ ہی نہ آیا کہ تھوڑی بہت گھر داری بھی سیکھ لی جاتی مگر بھلا ہو میری امی کا خود تو خوب صلواتیں سناتی تھیں مگر جب جل بھن کے کوئی کزن بول دیتا پھپھو اس سے بھی گھر کا کوئی کام کروا لیا کریں تو امی ہمیشہ یہی بولتیں ”ساری عمر کام ہی کرنا ہے ماں باپ کے گھر تو عیش کرے“ حالانکہ اس عیش کے بعد مجھے ڈھیر روٹیوں کا بنانا پڑتا تھا کہ ماشاءاللہ ہر وقت کوئی نہ کوئی آیا گیا رہتا تھا اور اب خیال آتا ہے کہ مائیں سب جانتی ہیں نا کہ بیٹیوں کی تقدیر کیسی ہوگی۔

خیر۔ بات پھر وہی کہ وقت کا کام گزرنا ہے سو گزرتا جاتا ہے۔ لیکن اکثر ٹھہر بھی جاتا ہے اندر کی بے کلی ختم ہی نہیں ہوتی نہ بوڑھی ہوتی ہے۔ شاید یہ تشنگی ہی وہ پہلو جس کی عمر نہیں گزرتی۔ یہ ہمارے اندر پڑا کسی ضدی بچے کی طرح مچلتا رہتا ہے اور ہم اسے کھلونوں سے بہلانے کی کوششوں میں عمر گزار دیتے ہیں۔ شاید اسی لئے ایک بزرگ آدمی نے مجھے کہا کہ اسے اک جوان لڑکی بہت اچھی لگتی ہے جتنا غصہ اس وقت مجھے آیا اور جتنی گھن آئی اس شخص سے وہ ناقابل بیان ہے لیکن پھر اک خیال نے سارے غصے کو ٹھنڈا کردیا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •