شہید کا بیٹا اور عید ملن پارٹی
پولیس کے آڈیٹوریم میں ملازمان و افسران کی عیدملن پارٹی چل رہی تھی۔ بھانڈ گویے اور سازندے اپنے اپنے فن سے ماحول کو گرما رہے تھے تالیوں قہقہوں کی گونچ نے آڈیٹوریم کے ماحول کو پہاڑوں سے گرتے جھرنوں کی کھن کھن کی آواز کی طرح پر ترنم کر رکھا تھا۔ عید کی خوشی اور پھر اس خوشی کے موقع پر ڈی آئی جی صاحب کی طرف سے دیے گئے اعشایے سے تمام پولیس افسران بہت خوش تھے کہ اچانک ایک بیس بائیس سال کا لڑکا شلوار قمیض پہ پولیس کی جرسی پہنے اور ہاتھ میں پولیس کیپ پکڑے جناح آڈیٹوریم میں داخل ہوا۔
سٹیج پہ کھڑے میزبان نے بڑے غصے سے کہا اوہ لڑکے تم کدھر آگئے ہو تمھیں نہیں پتہ یہاں پولیس والوں کی عید ملن پاڑٹی چل رہی ہے۔ سیکیورٹی والے جوان نکالو اسے باہر۔ سیکیورٹی ڈیوٹی پہ مامور دو جوانوں نے آگے بڑھ کر اس نیم پاگل لڑکے کو بازؤں سے پکڑ کر خارجی دروازے کی طرف کھینچنا شروع کردیا لیکن وہ لڑکا بار بار ایک ہی بات کہہ رہا تھا یہ سب لوگ میرے چاچو ہیں مجھے چاچوؤ ں سے بات کرنی ہے۔ یہ سب لوگ میرے چاچو ہیں مجھے چاچوؤ ں سے بات کرنی ہے۔ جب ڈی آئی جی صاحب نے دیکھا کہ وہ لڑکا بضد ہے کوئی بات کرنا چاہ رہا ہے تو ڈی آئی جی صاحب نے اپنے پی ایس او سے کہا لڑکے کو بات کرنے دی جائے۔
لڑکا بولا آپ سب لوگ میرے چاچو ہیں میرے ابو پولیس میں حوالدار تھے۔ میرے ابو بڑے پیارے تھے۔ سب محلے والے ابو سے بہت پیار کرتے تھے۔ میرے ابو بھی محلے والوں کے ساتھ بھائیوں کی طرح رہتے تھے۔ ہمارے سارے رشتے دار بھی ہمارے ساتھ بڑا پیار کرتے تھے۔ ابو سب کے کام جو آتے تھے۔ جب ہم ابو کے ساتھ رشتے داروں کے گھر جایا کرتے تھے نہ تو ہمیں مزے مزے کے کھانے ملا کرتے تھے۔
میری امی نویں نویں (نئے نئے ) سوٹ پہنا کرتی تھی۔ میری امی ابو کے لیے آلو والی سویاں بنایا کرتی تھی ابو کو آلو والی سویاں پسند جو تھیں۔ میں کہتا امی گڑھ والے چاول بناؤ ناں تو امی کہتی اچھا بنا دوں گی کبھی کبھی بنا بھی دیا کرتی تھی۔ وہ میر ا چھوٹا بھائی نہیں ہے؟ انیس اسے ناں گیئروں والی سائیکل بڑی پسند ہے ابو نے کہا تھا جب تم پانچویں جماعت میں پاس ہو جاؤ گے تو میں تمھیں گیئروں والی سائیکل لے کے دوں گا۔
وہ میری چھوٹی پری بہن نئیں ہے مانو اسے ناں سڑابری (سٹرابری) والی آئس کریم بڑی پسند ہے ابو جب بھی ڈیوٹی سے واپس آتے تو مانوں کے لیے سٹرابری والی آئس کریم لے کر ہی آتے۔ مانو وی پاگل ای ہے ابو کی گود میں ہی بیٹھ کر آئس کریم کھانے لگ پڑتی ہوتی تھی۔ امی کہتی مانوں اپنے ابو کو وردی تو اتار لینے دیا کر۔ ابو کہتے ناں وئی ناں اسے کچھ نہیں کہنا یہ تو میری پری بیٹی ہے یہ میری شہزادی ہے اور پھر مانوں کو بوسہ دیا کرتے۔ میں تو ابو کو تنگ نہیں کیا کرتا تھا میں تو وہ ابو کے وڈے وڈے شوز نہیں ہوتے خود اتارا کرتا تھا ( اپنے ہاتھ میں پکڑی پولیس کیپ دکھاتے ہوئے کہتا ہے ) ابو کی کیپ تو میں نے آج تک سنبھالی ہوئی ہے۔
پھر رونے لگتا ہے اور کہتا ہے اب میری امی نویں نویں کپڑے تو نہیں پہنتی اب میرا چھوٹا بھائی انیس سکول تو نہیں جاتا۔ اب مانوں کبھی آئیس کریم نہیں مانگتی۔ اب میری امی ناں لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہے۔ جب میں اپنی امی کو لوگوں کے گھروں میں کام کرتے دیکھتا ہوں ناں تو مجھے بڑا رونا آتا ہے پھر مجھے ابو بڑے یاد آتے ہیں۔
میزبان نے پوچھا اب آپ کے ابو کدھر ہوتے ہیں۔ تو روتے ہوئے وہ لڑکا کہنے لگا چاچو جی وہ ہمارے محلے والی وڈی ´ ´ ´ ´ (بڑی ) مسجد نئیں ہے۔ پچھلی عید پہ ناں میرے ابو کی مسجد کے گیٹ پہ ڈیوٹی تھی۔ ابو نے کہا تھا جب میں ڈیوٹی ختم کرکے واپس آؤں گا تم ہم سب لوگ چڑیا گھر جائیں گے۔ اس دن میں نے وی نویں کپڑے پہنے تھے امی نے سویاں گڑھ والے چاول گوشت حلوہ سب پکایا تھا ابو کے لیے آلو والی سویاں پکا کے فریج میں ہی رکھ لی تھیں۔
بس ڈیوٹی پہ ابو سب کو چیک کرکے کرکے مسجد کے اند ر جانے دے رہے تھے۔ جب ابو نے ایک چاچو کو چیک کرنے کے لیے روکا تو اس نے کوئی بٹن دبا دیا ٹھاہ سے دھماکہ ہو ا (روتے روتے لڑکا سٹیج پہ بیٹھ جاتا ہے ) چاچو جی مسجد کے اندر جتنے بھی لوگ تھے سب بچ گئے بس میرے ابو (زور زور سے رونے لگتا ہے ) شہید ہوگئے۔
چند لمحے پہلے قہقوں سے گونجنے والا آڈیٹوریم ہال اب اشکوں سے بھیگ چکا تھا۔ چاچو جی وہ ہمارے محلے میں چاچے حنیف کی آئس کریم والی دکان نہیں ہے کل میں اس دکان پہ گیا میں نے چاچو حنیف سے کہا چاچو جی میری پیاری پری بہن نئیں ہے مانو اسے سٹرابری والی آئس کریم بڑی پسند ہے تو چاچو حنیف نے کہا چل اؤے بھاگ یہاں سے پُتر جی آئس کریم چاہیے تو پیسے لاؤ۔ چاچو جی کبھی کبھی میرا دل کرتا ہے کسی دکان سے ٹافیوں والا ڈبہ اٹھا کے بھاگ ہی جاؤں پھر میں سوچتا ہوں میں بھلا چوری کیسے کر سکتا ہوں میں تو شہید کا بیٹا ہوں۔
یہ ایک خاکہ تھا شہید کا بیٹا جو عید ملن پارٹی کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ ڈی آئی جی صاحب اس خاکے کے بارے لاعلم تھے۔ اسے پرفارم کرنے والا بھی ایک کانسٹیبل تھا۔ آڈیٹوریم میں موجود ہر پولیس افسر افسردہ اور ہر آنکھ اشکبار تھی۔ جب میں نے دیکھا تو ڈی آئی جی صاحب کے سامنے میز پہ کوئی لگ بھگ دس کے قریب ٹشو پیپر پڑے تھے جن سے ڈی آئی جی صاحب نے اپنی آنکھوں میں امنڈ آنے والا سیلاب روکنے کی کوشش کی تھی۔


