الہ آباد میں ادیبوں کی کہکشاں
دوسرا دن اور شہر الہ آباد کی سیر
دوسرے دن کا سورج اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ نکلامیں بھی اس کی ہر گجر اور گونج پر اٹھ بیٹھا۔ ریحان بھائی آچکے تھے۔ میں Bed Tea لی اور کپ خالی کرتے ہی میں اُن کے ساتھ جمنا کا گھاٹ دیکھنے چلا گیا۔ بہت شوق تھا کہ الہ آباد میں ندیوں کے کنارے دیکھوں، گو سنگم پر بھی جانا تھا مگر ان دنوں کمبھ کا میلا اکھڑ رہا تھا۔ جس کے بعد وہاں کا ماحول بہت پلید، آلودہ اور بد نما ہوگیا تھا۔ لہٰذا جانا مناسب نہیں تھا۔ مگر پھربھی یہ شوق کرامت کی چوکی کے قریب واقع جمنا کا کنارہ دیکھنے سے پورا ہوا۔
حسب توقع ایک ہرے بھرے احاطے میں مندر بنا ہوا تھا، جس کے لاؤڈ اسپیکر سے صبح کے بھجن چل رہے تھے۔ احاطے سے باہر کا علاقہ اور زمین ایسی لگ رہی تھی جیسے وہاں روزانہ دس پندرہ بھینسیں آکر آپس میں سینگ پھنساتی ہوں اور ایک دوسری کو رگیدتی ہوئی لے جاتی ہوں۔ ندی کی طغیانی کے دنوں کے نقوش بھی کناروں پر ثبت تھے ہم لوگ وہاں زیادہ نہیں ٹھیرے مشکل سے دس منٹ۔ اس کے بعد چلے آئے۔ ناشتے اور کچھ اسنیکس کے بعد اسرارگاندھی سر نے اسکوٹی نکالی اور ہم لوگ شہر کے چند اہم مقامات دیکھنے کے لیے چل پڑے۔
بالخصوص ’آنند بھون‘ اور آکسفورڈ آف ایسٹ۔ ’یونیورسٹی آف الہ آباد‘ اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں نظر آجائے۔ جیسے موتی لال نہرو میڈیکل کالج، الہ آباد۔ کیا زبردست کالج ہے۔ ایک طویل وعریض کیمپس میں اس کے محکمہ جات اور میڈیکل ایکسپریمنٹ و تعلیمی سلسلے جاری ہیں اور لب سڑک اس کی دیوار پر تھری ڈی 3 Dپینٹنگ کے ذریعے انسانی اعضا و جوارح، اندورنی کارخانۂ قدرت اور رگو ں و پٹھوں کی نقش کاری اسی طرح نسوں میں دوڑتے خون، خون میں شامل ہوجانے والے فاسد مادوں، نیز چوٹ موچ کے وقت گھٹنوں اور جوڑ کے تمام حصو ں کی عکاسی اس طرح کی گئی تھی کہ دیکھنے والا بس دیکھتا ہی رہ جائے۔
کشاں کشاں ہم لوگ الہ آباد کے چوراہوں اور ان پر بنے ہوئے تہذیبی، تاریخی اور علمی مرقعوں کو دیکھتے ہوئے ’آنند بھون‘ پہنچے۔ ’آنند بھون‘ فیض آبادہائی وے پر ایک خوب صورت اور پر فضا مقام پروسیع و عریض رقبے میں واقع ہے۔ اسے پنڈت موتی لال نہرو نے 1930 میں اپنی رہائش کے لیے تعمیر کرایا تھا۔ اس زمانے میں لسان العصر، سید اکبر حسین رضوی اکبرؔ الہ آبادی باحیات تھے۔ پنڈت جی ان کے پاس گئے اور ان کی رہائش گاہ ’عشرت منزل‘ کے طرز پراُس کا نام رکھنے کی درخواست کی۔
لسان العصر نے ’آنند بھون‘ تجویز کیا جو ’عشرت منزل‘ کا ہندی ترجمہ ہے۔ پنڈت جی کو یہ نام بہت پسند آیا۔ انھوں نے رہائش گاہ کے باب الداخلہ پر بائیں جانب اردو اور انگلش میں ’آنند بھون‘ اور دائیں جانب اپنا نام ’پنڈت موتی لال نہرو‘ کندہ کرایا۔ اس کے بعد نہرو خاندان اس میں آباد ہو گیا اور اسے UPCC (اُتر پردیش کانگریس کمیٹی) کا ہیڈکوارٹر بنا کر اس کے ایک حصے کو ’سوراج بھون‘ کا نام دے دیا گیا۔ ملک آزاد ہوا اور نہر وخاندان کے اکثر افراد دہلی آگئے۔ الہ آباد کا ’آنند بھون‘ برسوں تک اپنے مکینوں کی دید کے لیے ترسنے لگا تو 1970 میں اس وقت کی وزیر اعظم اندراگاندھی نے اسے ’نہرو میوزیم‘ بنا کر اُتر پردیش کے ”محکمۂ آثار قدیمہ ’اور‘ حکومت ہند ’کے نام وقف کردیا۔ اس کے بعد سے تو اس کی بہاریں لوٹ آئیں اور آج‘ آنند بھون ’دیکھنے کی چیز ہے۔
’آنند بھون‘ کے ’آنند‘ لُوٹتے ہوئے ہم لوگ اب ایشیا کا آکسفورڈ، الہ آباد یونیورسٹی دیکھنے جارہے تھے۔ بہت پہلے سے ہی یونیورسٹی کے ہاسٹلس اور دیگر جائدادئیں شروع ہوگئیں۔ اونچے اونچے درختوں کے درمیان یونیورسٹی کا باب الدخلہ نظر آیا جو سادگی اور پُرکاری کا عمدہ نمونہ تھا۔ اندر داخل ہوتے ہوئے گاندھی سر نے اسکوٹی پارک کی۔ ہم کچھ ہی دور چلے تھے کہ شعبۂ اردو، الہ آباد یونیورسٹی کا بورڈ نظر آیا۔ جس جلی حروف میں لکھا تھا ”شعبۂ اردو، الہ آباد یونیورسٹی، الہ آباد“۔ قدیم طرز تعمیر کے باب الداخلہ سے جیسے ہی ہم لوگ اندر داخل ہوئے سب سے پہلی نظر ”پروفیسر سید احتشام حسین ہال“ پر پڑی۔ ہال کے اندر چند طلبا موجود تھے۔ شاید کوئی پروگرام ہونے والا تھا یا وہ سیلف اسٹڈی کررہے تھے۔ اللہ بہتر جانے۔
ان دنوں شعبۂ اردو کو پروفیسر شبنم حمید صاحبہ چیئر کررہی ہیں، لہٰذا اب کی باری ان سے ملاقات کی تھی۔ وہ بہت تپاک سے ملیں۔ ان ہی دنوں یونیورسٹی میں ’نیشنل اسسمنٹ اینڈایکوریڈیشن کاؤنسل‘ (NAAC) کی ٹیم وزٹ کر نے آنے والی تھی۔ یہ ادارہ ہندوستان بھر کی جامعات کو ملکی سطح پر رینکنگ دیتا ہے۔ NAACکا تلفظ تو ”نیک“ ہوتا ہے مگر الہ آباد کے طلبا اسے ”ناک“ کہتے ہیں (ناک کی جو اہمیت ہے اس کے متعلق کہنا ہی کیا) ۔
اب ”ناک“ والے آنے والے تھے اس لیے پروفیسر شبنم حمید صاحبہ ان کے شاندار اور پرتپاک استقبال کی تیاریوں اور کچھ ضروری امور میں مصروف تھیں۔ ان کی مصروفیت جائز بھی تھی اس لیے انھیں زیادہ پریشان نہیں کیا گیا اور ہم لوگ وہاں سے چلے آئے۔ پھر وہی راستے تھے اور وہی منزلیں۔ وہی سب کچھ وہی شہر الہ آباد اور اس کی رونقیں۔ پھر گھر۔
اب دوپہر آچکی تھی اور دن کا سورج آب سوختہ بنتا جارہا تھا۔ چنانچہ کہیں آنے جانے سے بہتر سمجھا کہ اب آرام ہی کیا جائے۔ چوں کہ آج نشست بھی تھی لہٰذا اس سے پہلے آرام ضرور ی تھا۔
ادبی نشست !
جیسے ہی شام کے چھے بجے، کل شام کو متعینہ کردہ پروگرام کے تحت مندوبین تشریف لانے لگے۔ ان کی آمد کے کچھ عرصے بعد ہی ادبی نشست کا آغاز ہوا جس میں معززین شہر، علم و ادب کے شیدائی و اہلیان ذوق اور الہ آباد یونیورسٹی کے طلبا موجود تھے۔ دوگھنٹے تک چلنے والی یہ محفل بہت ہی خوب تھی۔ دو گھنٹے تک اسی طرح علم، ادب، ناول، افسانہ، مقبول عام ادب پر باتیں ہوتی رہیں۔
عباس حسینی، ابن صفی، ماضی کے ادبا و شعرا اور الہ آباد
الہ آباد کا ذکر ہو، الہ آباد ہو پھر عباس حسینی (بھیا) اورابن صفی و دیگر ماضی کے ادبا و شعرا کا ذکر نہ ہو، ایسا تو ممکن ہی نہیں ہے۔ کتنی ہی نئی باتیں مجھے بالخصوص عباس حسینی اور ابن صفی کے متعلق معلوم ہوئیں۔ وہ سب باتیں میرے دل کسی ادبی امانت کی مانند محفوظ ہیں۔ رات بہتی جارہی تھی، نشست اپنے اختتام کی جانب بڑھتے ہوئے آخر ختم ہوگئی اور پھر نشست کے شرکا ایک ایک کر کے اپنے گھروں کو چلے گئے۔
الہ آباد سے روانگی:
29 مارچ۔ آج روانگی کا دن تھا۔ جس کی تیاری صبح سے ہی ہونے لگی۔ حسنیٰ انٹی نے سرپر ہاتھ پھیر کر دعاؤں کے سائے میں رخصت کیا اور گاندھی سر نے مجھے اسٹیشن ڈراپ کیا۔ انھوں نے بھی زاد سفر میں دعاؤں کے تحائف بخشے۔ الہ آباد ریلوے اسٹیشن سے مہانندا ایکسپریس کی ٹرین نمبر۔ 15483 میں 10 : 15 بجے روانہ ہوئی۔ قطع سفر کی غرض سے میں نے احمد حسنین صاحب کا ناول۔ ’اندھیروں کے مسافر۔ ‘ ۔ بیگ سے نکالا جومجھے میرے ناول۔
’جے این یو کمرہ نمبر 259۔ ‘ ۔ کے تبادلے میں ملا تھا۔ 168 صفحات کا ناول میں نے پورا پڑھ لیا۔ چمبل کی گھاٹی کی کہانیاں، چمبل کے بیہڑ اور بند یل کھنڈ کے تصوراتی نظارے، وہاں کی زبان، تہذیب، معاشرت، روایات، ان علاقوں میں پولیس اور انتظامیہ کی بے بسی، چمبل کے ڈاکوؤں کی ڈاکہ زنی کی واردات کی کہانیاں وغیرہ، اس ناول میں بہت کچھ ہے۔ اس طرح اسے jungle book بھی کہا جاسکتاہے۔
مہانندا ایکسپریس اس کا وقت تو پرا نی دہلی تک پہنچنے کا رات 10 : 22 کا تھا مگر اس قدر لیٹ ہوئی کہ دو بجے کے قریب پہنچی۔ کیا سفر تھاوہ تھکا دینے والا، اللہ اللہ! وہ سفر کا مرحلہ ختم ہوا۔ الہ آباد کی کچھ خاص یادیں، نظارے اب میں نے سنبھال کر رکھ لیے ہیں۔


