عمران خان کے افغان حکومت کے بارے میں بیان کی مکمل حمایت
سوشل میڈیا کے اسٹیبلشمنٹ مخالف عقاب افغان عبوری حکومت کے متعلق وزیرآعظم کے ایک بیان کو لے کر طوفان مچائے ہوئے ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کی طرف سے تو باقاعدہ ایک بیان جاری کیا گیا ہے اور بیان کو افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔ افغان اور بھارتی میڈیا نے اس بیان پر الگ سے کہرام مچایا ہوا ہے۔
ملکی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کی 70 سالوں سے مسلسل مداخلت یقینی طور پر تمام ملکی مسائل کی اصل وجہ ہے۔ حب الوطنی کا تقاضہ ہے سیاسی امور میں فوجی مداخلت کی مزاحمت کی جائے اور اداروں کو اپنے آئینی دائرہ کار میں رکھنے کے لئے جدوجہد کی جائے۔ ملکی مفاد کا یہ بھی تقاضا ہے افغان عبوری حکومت کے متعلق وزیراعظم کے بیان کی حمایت کی جائے۔ یہ بیان وزیراعظم کا ہر گز نہیں کہ ہمارا وزیراعظم مسلط کردہ ہے، اس کے پاس کوئی ویژن نہیں۔ وزیراعظم کی ذہنی اپروچ مرغیوں اور کٹا دودھ پی جاتا ہے پر مشتمل معیشت ہے۔ وزیراعظم نے اب معاشی ترقی کے ماڈل میں بکریاں اور پھلوں سبزیوں کے بیج بھی شامل کر لئے ہیں۔
افغان عبوری حکومت کے متعلق وزیراعظم سلیکٹ کا بیان یقینی طور پر ملک کی جغرافیائی سرحدوں کے ذمہ داران کی بریفنگ سے نکلا ہے یا پھر لکھا لکھایا دیا گیا بیان پڑھا گیا ہے۔ اس بیان میں کوئی بات غلط نہیں۔
افغان عبوری حکومت کے قیام میں صدر اشرف غنی حکومت کی طرف سے رکاوٹیں ڈالنے کی بات سو فیصد حقیقت ہے۔ 2014 میں افغان صدارتی الیکشن میں عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی کے درمیان جب کشمکش شروع ہوئی امریکی وزیرخارجہ جان کیری بھر پور کوشش کے باوجود تنازعہ حل کرانے سے قاصر تھے۔ آئی ایس آئی نے اس وقت افغانستان میں قیام امن کے لئے اپنا کردار ادا کیا۔ عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی نے بعد ازاں تسلیم کیا کہ افغانستان میں متفقہ حکومت کے لئے پاکستان نے اہم کردار ادا کیا تھا۔
چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ اور صدر اشرف غنی کی آئینی مدت 22 مئی کو ختم ہو جائے گی۔ یہ دونوں صاحبان پاکستانی نکتہ نظر سے احسان فراموش نکلے ہیں۔ گزشتہ پانچ سال کے دوران ان کی زبانیں پاکستان کے خلاف آگ اگلتی رہیں۔ افغان حکومت اصل میں بھارتیوں اور امریکیوں کی پراکسی بن گئی تھی۔ جو داعشی شام اور عراق سے افغانستان جمع کیے گئے تھے ان کا پاکستانی طالبان کے ساتھ اتحاد کرایا گیا تھا۔ مولوی فضل اللہ اور منگل باغ سمیت پاکستان میں دہشت کرنے والے تمام گروپ افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں میں تھے۔ پاکستان کے مطالبات بڑھتے تو خبر آتی خراسانی یا فضل اللہ امریکی حملے میں مارا گیا تین چار مرتبہ مارے جاتے اب بھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا یہ محفوظ پناہ گاہوں میں ہیں یا سچ میں مارے گئے ہیں۔
70 فیصد افغانستان پر افغان طالبان قابض ہیں اور 30 فیصد علاقہ افغان حکومت کے کنٹرول میں ہے۔ پاکستانی طالبان اسی 30 فیصد میں موجود ہیں وہ کسی دوسرے علاقہ میں ہوتے تو افغان طالبان انہیں لنچ اور ڈنر میں پکا کر کھا جاتے۔
امریکی 70 فیصد افغانستان پر قابض افغان طالبان سے بات چیت کر رہے ہیں۔ امن مذاکرات کے حالیہ دور میں افغانستان سے غیر ملکی افواج کی واپسی اور سیز فائر کے حوالہ سے متفقہ ڈرافٹ تیار ہو چکا ہے اور بات چیت کے اس تمام عمل میں 30 فیصد افغانستان پر کنٹرول کرنے والی افغان حکومت کسی مرحلہ میں شامل نہیں تھی۔ مذاکرات کا دوسرا مرحلہ آئندہ ماہ ہونے جا رہا ہے جس میں افغان عبوری حکومت کے متعلق معاملات طے ہوں گے۔ ان مذاکرات میں تمام افغان سیاسی جماعتیں اور سیاسی گروپ بھی شامل ہوں گے لیکن افغان حکومت امن مذاکرات کے آخری مرحلہ میں بھی نہیں ہو گی کیونکہ افغان طالبان کی امن مذاکرات سے قبل بنیادی شرط یہی تھی اور امریکیوں نے یہ شرط قبول کی تھی۔
افغان حکومت بھارتیوں کی پراکسی ہے اور اس کی آئینی مدت پورے 51 دن کے بعد ختم ہو جائے گی۔ صدر اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ۔ رشید دوستم، سابق سیکورٹی ایڈوائزر امر صالح اور بھارتی حکومت سب کی کوشش ہے افغانستان کی قومی عبوری حکومت موجودہ افغان حکومت کے زیرنگرانی قائم ہو اور امریکی افواج کی واپسی کے بعد افغان انتخابات بھی یہی عبوری حکومت کرائے۔
افغان حکومت ضد کر رہی ہے اور بھارتیوں کی ایما پر امن مذاکرات میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے۔ صدر اشرف غنی کے خصوصی ایلچی نے تو امریکی مذاکرات کار زلمے خلیل پر بھی الزام عائد کر دیا تھا کہ وہ خود عبوری حکومت کا سربراہ بننا چاہتے ہیں جس پر امریکیوں نے شدید غصہ کا اظہار کیا اور ڈانت ڈپٹ بھی کی۔
وسیع البنیاد افغان عبوری حکومت میں طالبان کا حصہ 70 فیصد ہونا چاہے اور یہ حکومت افغان طالبان کی نگرانی میں قائم ہونا چاہے۔ افغان طالبان کا مطالبہ فطری اور حق پر ہے اور پاکستان کی طرف سے اس مطالبہ کی حمایت بھی اصولی موقف ہے۔ افغانستان کی عبوری حکومت کے متعلق صدر اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کا شور مچانا ایک فضول مشق ہے۔ ہونا وہی ہے جو افغان طالبان چاہیں گے جو پاکستان چاہے گا۔ امریکیوں کو اب افغانستان میں کوئی دلچسپی نہیں رہی وہ بس یہاں سے کامیابی کے ڈھول بجاتے ہوئے وقار کے ساتھ فرار ہونا چاہتے ہیں۔ امریکی جو عزت اور وقار چاہتے ہیں وہ صرف پاکستان دے سکتا ہے۔ افغان عبوری حکومت کے متعلق بیان بھلے وزیراعظم سلیکٹ کا کاندھا استمال کرتے ہوئے دیا گیا ہو یہ بیان ملکی مفادات کے عین مطابق ہے اور ہم اس کی مکمل حمایت کرتے ہیں


