پی ٹی ایم کا مستقبل
پاکستان میں سیاسی جماعت کی تعمیر اور کارکنوں کی تربیت سمیت نئی قیادت تراشنے کی بجائے عمومی طور کسی نہ کسی ابھار کے گھوڑے پر سوار ہوکر فتح و کامرانی کے خواب دیکھے جاتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں عام عوام کے جذبات، دکھ درد اور مشکلات پر سیاست چمکائی جاتی ہے۔ سیاست چمکانے والے پارلیمان میں چلے جاتے ہیں۔ لیڈر بن جاتے ہیں جبکہ عام عوام کے دکھ درد اور مشکلات میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے اور پھر وہ مشکلات سہنے کے عادی ہوجاتے ہیں۔
پیپلزپارٹی، ایم کیو ایم کی مثالیں موجود ہیں۔ شاید پشتون تحفظ موومنٹ بھی اسی گھوڑے کی سوار ہے۔ دو بندے پارلیمنٹرین بن گئے ہیں۔ منظور پشتین کی لیڈری بھی چمک رہی ہے۔ مطلوبہ مقام حاصل ہوچکا ہے۔ دوسری جانب ان زندگیوں میں تبدیلی کے ابھی تک کوئی آثار نظر نہیں آتے ہیں جن کے کندھوں پر سوار ہوکر محسن داوڑ، علی وزیر اور منظور پشتین سیاست کے شاہسوار بنے ہیں۔ راقم نے منظور پشتین پر غداری کے لگنے والے الزامات کا بھرپوردفاع کیا ہے۔مضامین لکھے ہیں۔ جس پر راقم کو بھی الزامات، لعن طعن اور گالی گلوچ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
یہ سلسلہ ابھی رکا نہیں ہے۔ پی ٹی ایم والے پاکستان کے خلاف نہیں، ظلم کے خلاف ہیں، فوج سے نفرت نہیں، شکایت ہے۔ احسن اقدام ہے۔ سیاسی اپروچ کا مظہر ہے۔ سیاسی جدوجہد ہی بہتر نتائج دے سکتی ہے۔ دنیا بھر کی تاریخ ایسے شواہد سے بھری پڑی ہے کہ سیاسی جدوجہد نے زمانے بدل دیے ہیں۔ پی ٹی ایم کے مستقبل کے حوالے سے کچھ ابہام اور شوشل میڈیا پر چہ مگوئیاں ہیں کہ پشتون تحفظ موومٹ کا اونٹ کس کروٹ بیٹھنے جارہا ہے۔
تحریک کو قبائلی علاقے تک محدود رکھا جائے۔ نام تبدیل کرکے پیپلزتحفظ موومنٹ کے نام سے پورے پاکستان میں تنظیم سازی کی جائے۔ علاوہ اس کے اندرونی خلفشار بہت ہے۔ مختلف امور کو لے کر کارکن پی ٹی ایم سے الگ ہورہے ہیں۔ ابھار کے نتیجے میں ابھرنے والی تحریکوں میں یہ صورتحال پیدا ہونا کوئی غیرمعمولی امر نہیں ہے۔ آج نہیں تو کل یہ ہونا ہی تھا۔ اب یہ قیادت پر منحصر ہے کہ وہ پی ٹی ایم کو کیا سمت دیتی ہے۔ بنیادی ذمہ داری منظور پشتین کی ہے کہ ابھار کی کیفیت سے نکل کر سیاسی اور تنظیمی حکمت عملی اپنائے اور پی ٹی ایم کے مستقبل کو واضح کرے تاکہ کارکن بکھرنے کی بجائے نظم میں رہیں۔
اب منظور پشتین کی قائدانہ صلاحیتوں کا امتحان بھی ہے۔ اصل کام تو اب شروع ہوا ہے۔ ابھار کا گھوڑا تو نیچے سے نکل چکا ہے۔ اب سنبھل کے چلنا ہوگا۔ پہلی بات اپنے اصل مقاصد سے ایک انچ پچھے نہ ہٹا جائے۔ پی ٹی ایم کے نام کی تبدیلی سیاسی موت مرنے کے مترادف ہوگی۔ مفاہمت، مصالحت مزاحمتی سیاست میں زہر قاتل ثابت ہوتی ہے۔ حقیقی سیاست کا نام ہی مزاحمت ہے۔ منظورپشتین، علی وزیر، محسن داوڑ سمیت پی ٹی ایم کی جملہ قیادت اس امر کو بخوبی سمجھ لیں کہ ان کی تمام تر جدوجہد اور ابھار فقط مزاحمتی سیاست پر استوار ہے۔
جس دن مزاحمت کا عنصر کمزور پڑگیا یا تحریک سے نکل گیا۔ اس دن پشتون سیاست میں تمہاری منفرد حیثیت ختم ہوکر رہ جائے گی اور آپ بھی دوسرے سیاسی ٹولے کے ساتھ شمار ہوں گے۔ پیپلزپارٹی اور پی ٹی ایم کا مستقبل مزاحمتی سیاست میں ہے۔ ہم نے دیکھا کہ پیپلزپارٹی جب بھی اپنے اصل سے روگردانی کرتی ہے دھڑام سے نیچے گر جاتی ہے اور جب اصل پر آتی ہے سوئے ہوئے کارکن جاگ اٹھتے ہیں۔
جس طرح پیپلزپارٹی کا ظہور مزاحمتی سیاست میں ہوا تھا۔ اسی طرح پی ٹی ایم کا خمیر بھی مزاحمت سے اٹھاہے۔ مزاحمت سے روگردانی خود کو سیاسی موت مارنا ہے۔ قبائلی اور پشتون روایت پسندی کی جکڑبندیوں سے ہٹ کرپشتون تحفظ موومنٹ کی سیاسی، نظریاتی اور تنظیمی تعمیر وقت و حالات کا تقاضا ہے۔ تعمیر خالص مزاحمتی سیاست کے نظریات کے مطابق کی جائے۔ یہی پی ٹی ایم کا اصل ہے۔ یہی پی ٹی ایم کا مستقبل ہے۔


