انسیسٹ – محرمات سے جنسی فعل


ہم اپنے آپ کو بہت ترقی یافتہ سمجھتے ہیں۔ اردو کو عالمی زبانوں کی صف میں کھڑی زبان سمجھتے ہیں۔ کتابوں، اخباروں، کالجوں، یونیورسٹیوں، پروفیسروں اور قاموسوں کی زبان کہتے ہیں۔ لیکن دو دن کی کوشش کے باوجود مجھے اردو زبان میں محرمات کے ساتھ جنسی زیادتی کے لئے کوئی مناسب، واحد لفظ نہیں ملا۔ جسے میں یقین کے ساتھ لکھوں۔ جس کی تشریح اور وضاحت کی مزید کوئی ضرورت نہ پڑے۔ جو علمی، ادبی اور معاشرتی ماحول میں یکساں قابل قبول ہو۔ لچر لگے نہ ننگا، معاشرتی اور ادبی معیار سے گرا ہوا ہو اور نہ میرے مدیر کے لئے سنسر اور معاشرتی معیارات کا کوئی مسئلہ کھڑا کردے۔ جیسا کہ انگریزی زبان میں لفظ انسیسٹ ہے۔

گمان ہوتا ہے کہ انسیسٹ کے لئے ہمارے ہاں کوئی لفظ شاید اس لیے موجود نہیں کہ یہ جنسی عمل یا زیادتی، ہمارے معاشرتی معمولات اور روایات کے بالکل خلاف ہے۔

 انسیسٹ کا لفظ اور موضوع مغرب کی کتابوں، قاموسوں، اخباروں، فلموں اور ڈراموں میں اکثر وبیشتر زیر بحث رہتا ہے۔ چونکہ ہمارے ہاں، مذہبی تربیت، معاشرتی معمولات، اعلیٰ روایات، اللہ کی خوف، ذاتی تقوی، قومی کردار اور پرہیزگاری کی وجہ سے محرمات کے ساتھ جنسی زیادتی کا عمل ناممکن اور ناپید ہے۔ اس لیے ہماری زبان، کتب، ادب، تعلیمی ادارے، فلمیں، ڈرامے اور قاموس اس گھناونے لفظ کی نحوست سے پاک ہیں۔

لیکن پھر سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہ پ۔ چ۔ ، م۔ چ۔ ، ب۔ چ۔ ، جو ہم ہر گلی، بازار، سکول، کالج، بس، ہوٹل، ریستوران، غمی شادی کی تقریبات، جلسے جلوس، احتجاج، ایکسیڈنٹ، تھانے، ہسپتال میں روزانہ کہتے، سنتے، برداشت کرتے ہیں۔ استاد، تھانیدار، پولیس والا، ڈرائیور، سواری، ڈاکٹر، مولوی، باپ، دادا، نائی، کوچوان، پھیری والا، ہوٹل کا مالک، ٹھیکیدار، لڑنے والے، بچے، کھیلنے والے، تماشبین، دکاندار اور گاہک کے منہ سے سنتے ہیں۔ یہ کیا ہے؟ طعنہ ہے یا گالی، شرمندگی کا اظہار یا شرم کا عمل، تکیہ کلام ہے، معمولی بات ہے اور یا معمول کا عمل جو معاشرے میں جاری و ساری ہے؟

میں نے مری روڈ پر فیض آباد سے مال پلازہ، صدر تک سفر کیا۔ اہم چوراہوں، بڑے سٹاپوں، مارکیٹوں اور بزنس کے مراکز میں تھوڑا تھوڑا رکا۔ ہر قسم کے لوگوں کو آتے جاتے بولتے کھاتے، خریدتے بیچتے، بحث کرتے، سمجھاتے سمجھتے، لڑتے، ٹکراتے ہوئے دیکھا۔ پ۔ چ۔ ، ب۔ چ۔ اور م۔ چ۔ کی گالی اور تکیہ کلام بار بار سنا۔ چند لوگوں کے ساتھ بات چیت اور سوال وجواب بھی کیا۔ ان سے پوچھا۔ کہ آپ غصے میں، جھگڑتے ہوئے، پیار سے، عادتاً، فرسٹریشن میں یا تکیہ کلام کے طور پر ایسی گالی دیتے ہیں؟

ابتداء میں اکثریت نے انکار کیا لیکن تھوڑی دیر میں مثبت جواب ( مختلف توجیہات کے ساتھ) دیے۔ کچھ لوگوں نے اس گالی کو گالی اور بری بات کہا۔ جبکہ اکثریت نے اسے عادت، عام بات اور کچھ نے اسے غیر ارادی عمل اور تکیہ کلام کہا۔ البتہ بہت سوں نے اقرار کیا کہ تقریباً ہر کوئی اپنی کمفرٹ زون میں یہ ”تکیہ کلام“ استعمال کرتا ہے۔ جس کا لڑائی کے علاوہ کوئی خاص منفی ردعمل نہیں دیا جاتا۔ بقول ان کے انجانے میں کہے گئے ”بے ضرر“ ”معصوم“ الفاظ ہیں۔

مردہ معاشروں اور تہذیبوں کے قدیم سکوں کی طرح، زندہ معاشروں میں رائج گالیاں بھی بہت ساری کہانیاں بیان کرتی ہیں، ذہنی رویوں کی تشریح اور ان کے پس پردہ حقائق کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ لیکن یہ مسئلہ سماجیات اور نفسیات کے ماہرین اچھی طرح سمجھا سکتے ہیں۔ جن کا اس فورم میں کوئی کمی نہیں۔

پشتو زبان کی مشہور گلوکارہ نازیہ اقبال کی دو کمسن بیٹیاں، اپنے عاقل بالغ، نگران، ماموں کے جنسی درندگی کا شکار ہوتی رہیں۔ نازیہ اقبال کو معلوم ہوا تو اپنی ماں کے پاس روتی ہوئی گئی۔ ماں نے اس کو ”اپنے بیٹے“ پر ”الزام“ لگانے کی وجہ سے برا بھلا کہا۔ لیکن اپنی ماں کی طرح وہ بھی اپنی بچیوں کی ماں تھی۔ اس لیے اپنی ماں کی بات ماننے اور اس کے مجرم بیٹے کو بچانے کی بجائے اپنے اندر کی ماں کی آواز پر لبیک کہا۔ رپورٹ، تفتیش اور سزا ہوئی۔ لیکن ابھی بہت سے پل صراط، ایک ماں، نازیہ اقبال کے سامنے پار کرنے باقی ہیں۔ جن کو ایک بیٹی، ایک بہن اور ایک تنہا عورت نے عمر بھر پار کرنے ہیں۔ مجرم کی ماں (قدیم معاشرہ) مظلوم کی ماں (جدید اور بہادر معاشرہ) کو سچ بولنے کی سزا ضرور دے گی۔

گولڑہ تھانے میں ایک بہن نے اپنے تین بڑے بھائیوں پر، اس کے ساتھ، مختلف اوقات میں، کئی بار، تواتر کے ساتھ جنسی درندگی کا الزام لگایا ہے۔ ملزم پکڑے گئے ہیں۔ تفتیش جاری ہے اور سوشل میڈیا پر بحث بھی۔ لیکن میرے اندر غلام علی اونچے سروں میں گا رہا ہے۔ یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے۔

جنسی حملوں کے شکار بچے بچیوں کی تحفظ، اس عمل کے خلاف بیداری پیدا کرنے اور مددگار غیر سرکاری ادارے ساحل کے 2011 کی رپورٹ کے مطابق، پورے پاکستان میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے رپورٹ کردہ 2252 کیسیز میں انسیسٹ کے 138 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں 24 ملوث افراد، قریب ترین رشتہ دار یعنی باپ اور بھائی تھے۔ جبکہ 114 ملوث افراد رشتہ دار یعنی چاچا تایا ماموں اور کزنز تھے۔ عورت فاؤنڈیشن کا دعویٰ ہے کہ پاکستان میں روزانہ 8 عورتیں ریپ ہوتی ہیں۔ جن میں آدھی کمسن بچیاں ہوتی ہیں۔ وار اگینسٹ ریپ (وار) نامی ادارے کا اندازہ ہے کہ عورتوں اور بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے ساٹھ سے ستر فیصد واقعات مختلف وجوہات کی بنا پر رپورٹ ہی نہیں کیے جاتے۔

عقیدت مندوں کی سرزمین، ملتان کے مضافات میں، ایک گاؤں گجر قلعہ (فرضی نام) ہے۔ ٹھگنے قد، بڑے سر، گھنی داڑھی والا ادھیڑ عمر کا شخص، ایک مشہور ولی کے مزار کا متولی، رات کے آخری پہر اپنی جوان بیٹی کے ہاتھوں، کدال کی وار سے، قتل ہوا۔ معلوم ہوجانے پر ہر کسی کا اپنے علاوہ ہر رشتے پر اعتماد متزلزل ہوا۔ قتل ہوا تھا لیکن قاتل مجرم نہیں ہیرو تھی۔ متولی کی کھوپڑی پھٹی لاش، ضروری قانونی مراحل سے گزارنے کے بعد گھر لائی گئی لیکن اس کی بیوہ نے اسے گھر میں داخل نہ ہونے دی۔

بغیر غسل، کفن اور جنازے کے، قبرستان میں موجود ایک کھڈے میں اس لاش کو پھینک کر مٹی ڈالی گئی۔ جو شخص ساری عمر ایک قبر کا مجاور تھا اسے کوئی حقیقی قبر بھی نصیب نہیں ہوئی۔ معمول کی کارروائی کے بعد اس کی بیٹی ضمانت پر رہا ہوکر گھر آئی۔ لاوارث کیس تھا۔ سال ڈیڑھ سال میں ختم ہوگیا۔ لڑکی کی ماں نے مرے ہوئے شوہر کے دوست کے ساتھ دوسری شادی کرلی۔ اور اپنی بیٹی سمیت نئے گھر میں سب خوش خوش رہنے لگے۔

گرمیوں کی ایک دوپہر ان کے گھر سے شور اٹھا۔ ہمسائے پتہ کرنے گئے۔ لڑکی نے اپنی پھٹی ہوئی قمیص اور جسمانی خراشیں دکھاتے ہوئے اپنے سوتیلے باپ پر اپنی ریپ کرنے کی کوشش کا الزام لگایا۔ لیکن اپنی ماں سمیت کسی نے اس کی بات کا یقین نہیں کیا۔ ہر کسی نے لڑکی کے دماغ اور دعویٰ پر شک و شبہے کا اظہار کیا۔ اور سوال اٹھائے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ پہلے حقیقی باپ نے اور اب سوتیلے نے اسے ریپ کرنے کوشش کی؟ بلکہ بعض لوگوں نے تو اس کے مرے ہوئے باپ پر بیٹی کے لگائے ہوئے الزام پر بھی شک و شبہ ظاہر کیا۔

کہتے ہیں وہ لڑکی اکثر قبرستان میں موجود اس پرانے گھڑے کے پاس جاکر روتی تھی جو اب بھر گیا تھا اور جس میں اس کا ساڑھے چار فٹا، جنسی درندہ باپ کہیں دفن تھا۔ کہتے ہیں اس لڑکی نے اردگرد کی قبروں کے کتبوں کو یہاں تک بتایا ہے کہ اس کا حقیقی باپ، اس کی ماں کی مرضی سے، اس کے سوتیلے باپ نے قتل کیا تھا۔ اس لیے کہ زندہ لوگ اس کی کسی بات کا یقین نہیں کرتے۔
کوئی اجنبی کسی بچے کو ریپ کرتا ہے۔ تو بچہ تحفظ اور تسلی کے لئے گھر کی طرف بھاگ سکتا ہے۔ لیکن انسیسٹ کا شکار کہاں بھاگے، کون تسلی دے؟

Facebook Comments HS

شازار جیلانی

مصنف کا تعارف وجاہت مسعود کچھ یوں کرواتے ہیں: "الحمدللہ، خاکسار کو شازار جیلانی نام کے شخص سے تعارف نہیں۔ یہ کوئی درجہ اول کا فتنہ پرور انسان ہے جو پاکستان کے بچوں کو علم، سیاسی شعور اور سماجی آگہی جیسی برائیوں میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔ یہ شخص چاہتا ہے کہ ہمارے ہونہار بچے عبدالغفار خان، حسین شہید سہروردی، غوث بخش بزنجو اور فیض احمد فیض جیسے افراد کو اچھا سمجھنے لگیں نیز ایوب خان، یحییٰ، ضیاالحق اور مشرف جیسے محسنین قوم کی عظمت سے انکار کریں۔ پڑھنے والے گواہ رہیں، میں نے سرعام شازار جیلانی نامی شخص کے گمراہ خیالات سے لاتعلقی کا اعلان کیا"۔

syed-shazar-jilani has 140 posts and counting.See all posts by syed-shazar-jilani