ریسکیو سروس سے مذاق: ذرا نہیں! پورا سوچیے
فون کی گھنٹی بجتی ہے۔ فوراً ایک نوجوان ٹیلی فون کی طرف بڑھتا ہے۔ رسیور اٹھا کر نرم اور دھیمے لہجے میں چند مخصوص الفاظ بولتا ہے۔
”السلام علیکم! ریسکیو 1122 ہم آپ کی کیا مدد کر سکتے ہیں“
کالر ہنستے ہوئے جواب دیتا ہے کہ سر ہم روٹیاں پکا رہے ہیں اور ہمارے چولہے میں آگ لگی ہوئی ہے براہِ مہر بانی ہماری مدد کو آئیں اور چولہے میں لگی آگ کو بجھائیں۔
کچھ دیر میں فون پھر بجتا ہے۔ نوجوان رسیور اٹھا کر وہی مخصوص الفاظ دہراتا ہے۔
”السلام علیکم! ریسکیو 1122 ہم آپ کی کیا مدد کر سکتے ہیں“ تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد کالر بولتا ہے سر میں نے کھانا زیادہ کھا لیا ہے اور اب مجھ سے اٹھا نہیں جا رہا مہر بانی فرما مجھے آکر اٹھا دیں۔ ریسکیو 1122 کو روزانہ کی بنیاد پر ایسی غیر ضروری کالز کا وصول ہونا ایک معمولی بات ہے۔ علاوہ ازیں اور بھی درجنوں غیر ضروری کالز وصول ہوتی ہیں۔ جیسے کہ میرے نمبر پر ایزی لوڈ کروا دیں، مجھے مس کال کریں، 1122 کانمبر دیں، میری آواز کیسی ہے وغیرہ وغیرہ۔
ایسی کالز کی وجہ سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے۔ کہ موصول ہونے والی غیر ضروری کالز ٹیلیفون لائنوں کو مسلسل مصروف رکھتی ہیں۔ جس کے نتیجے میں ان لوگوں کو سروس کی بر وقت فراہمی میں رکاوٹ پیش آتی ہے۔ جو لوگ حقیقی ہنگامی صورت حال سے دو چار ہوتے ہیں۔ اور صحیح معانوں میں مدد کے حقدار ہوتے ہیں مزید یہ کے بعض اوقات کال کر کے گاڑی کو بلا لیا جاتا ہے اور جب گاڑی متعلقہ جگہ پر پہنچتی ہے تو وہاں گاڑی کو رسیو کرنے والا کوئی بھی موجود نہیں ہوتا۔ سروس کے اس طرح غلط استعمال سے گاڑی کو متاثرہ شخص تو نہیں ملتا البتہ غیر ضرور ی طور پر ٹیلیفون لائنیں مصروف ہونے کی وجہ سے کسی کی جان جانے کا خدشہ ضرور ہوتا ہے۔
چونکہ پنجاب حکومت کی جانب سے یہ سروس بالکل مفت فراہم کی گئی ہے اس لیے بعض لوگ صرف پیسے بچانے کی غرض سے مریضوں کے روٹین چیک اپ کروانے کے لئے بھی گاڑیوں کا ا ستعمال کرتے ہیں۔ جو کہ غیر مناسب بات ہے اور وقت اور پیٹرول کے ضیاع کا باعث بھی۔ یہ پیٹرول ہمارے ہی پیسوں سے خریدا جاتا ہے جو ہم ٹیکس کی مد میں ادا کرتے ہیں اور پھر خود ہی ہم اس کو ضائع کرتے ہیں جو کہ انتہائی افسوس ناک ہے۔
پنجاب میں ق لیگ کے دورِ حکومت میں متعارف ہونے والی پنجاب ایمرجینسی سروس ریسکیو 1122 کا افتتاح 12 اکتوبر 2004 کو لاہور میں اُس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب جناب پرویز الٰہی نے کیا۔ آندھی ہو یا طوفان زلزلہ ہو یا آگ ہر قسم کی ایمر جینسی میں ریسکیو 1122 ہمہ وقت انتہائی تربیت یافتہ سٹاف کے ساتھ ہمارا مددگار ادارہ ہے۔ ادارے نے اپنی خدمات کا آغاز پنجاب کے بڑے شہروں سے کیا۔ اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنی بہترین خدمات کی بدولت پنجاب کے دوسرے چھوٹے شہروں میں بھی اجراء کیاگیا۔ اور اس وقت یہ سروس پنجا ب کے 37 اضلاع اور چند تحصیلوں میں لوگوں کی خدمات میں مصروف عمل ہے اور اس کے علاوہ مزیدشہروں میں بھی سروس کا آغاز کیا جا رہا ہے۔
غیر ضروری کالز کی وجہ سے لائنیں مصروف رہتی ہیں۔ جس کے نتیجے میں کسی کی جان بھی جا سکتی ہے۔ وہ شخص جسے فوری مدد کی ضرورت ہو اور فون کرنے پر اسے سب لائنیں مصروف ملیں تو اس قیمتی جان کے ضائع ہونے کے ذمہ دار ہم ہوں گے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ قیمتی جان ہمارے اپنے گھر کا کوئی فرد یا کوئی عزیز بھی ہو سکتا ہے۔ آئیے آج ہم عہد کریں کہ آئندہ ریسکیو 1122 کے درست اور جائز استعمال کو یقینی بنائیں گے۔ اور غیر ضروری کالز کبھی نہیں کریں گے۔ تا کہ ہر شخص کو بروقت اور فوری طبی امداد مل سکے۔
اس لیے ذرا نہیں! پورا سوچئے۔


