عورت پہ تشدد اور معاشرے کا رویہ
چند دن قبل لاہور میں ایک خاتون پہ وحشیانہ تشدد کا واقعہ منظر عام پہ آیا، جسے اس خاتون نے خود رپورٹ کیا اور ایک ویڈیو میں خود پہ ہوئے ظلم کے بارے بتایا۔ خاتون کے بقول اس کے شوہر نے اسے اپنے دوستوں کے سامنے ڈانس کرنے پہ مجبور کیا۔ انکار پہ اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر پہلے جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں ٹرمرز کے ساتھ اس کے بال مونڈ دیے۔ سوشل میڈیا کے کچھ نقصانات شاید ہوں لیکن ایک بڑا فائدہ یہی ہے کہ یہاں ڈسکس ہونے والا کوئی بھی معاملہ جلد نظروں میں آ جاتا ہے۔
جب خاص کر ایسا کوئی واقعہ ہو تو حکام کو بھی اس کا نوٹس لینا پڑتا اور اسے معمول کی کارروائی کے کھاتے ڈال کر لٹکانا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسا ہی ہوا اور چند گھنٹوں بعد ہی خاتون کا شوہر میاں فیصل اور اس کا دوست گرفتار ہو گئے۔ دوران تفتیش فیصل نے بتایا کہ وہ دونوں میاں بیوی آئس نامی نشہ کے عادی ہیں۔ اس سے پہلے بھی بارہا ایسا ہوا۔ مذکورہ رات بھی دونوں نشہ کی حالت میں تھے جس کے دوران یہ واقعہ ظہور پذیر ہوا۔
بس پھر کیا تھا، سوشل میڈیا پہ ہی ایک گروہ ایکٹو ہوا اور خاتون کے کردار کو بحث کا موضوع بنایا گیا اور اب تک ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس کے حالات زندگی اور ماضی کی مبینہ ویڈیوز کو شئیر کیا جا رہا ہے، جس کے ساتھ ساتھ یہ بات ایک تواتر کے ساتھ کہی جا رہی ہے کہ اس عورت کا تو پہلے سے ہی کردار مشکوک ہے۔ یعنی کہ اگر وہ نشہ کرتی رہی اور کردار بھی مشکوک ہے تو اب اس کے ساتھ جو بھی سلوک کیا جائے وہ اسی قابل ہے۔
ساتھ ساتھ پھر عورت کی آزادی پہ تبرے بھی چل رہے ہیں۔ ایک دلیل یہ بھی سامنے آئی کہ چونکہ دونوں نشہ میں تھے تو اس قسم کی نشہ آور پارٹیز کے عروج پہ کسی کو کچھ ہوش نہیں رہتا جس کے نتیجے میں بعض اوقات ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ یعنی کہ ٹھیک ہے جو ہوا اچھا نہیں ہوا لیکن کوئی ایسی انہونی یا معیوب بات نہیں، کہ آخر یہ تو پھر ہونا ہی تھا۔ اس دوران جو بات قابل فکر ہے کہ اس تمام بحث میں عورت کے کردار کو نشانہ بنانے اور وجہ قرار دینے والے بظاہر معقول تعلیم یافتہ افراد ہیں۔
یہاں ایک سوال اٹھانے پہ مجبور ہوں کہ فرض کریں دونوں میاں بیوی نشے میں اتنے مدہوش تھے کہ کسی کو کچھ پتا نہیں کہ وہ کیا کر رہا ہے، تو ایسی صورت میں اگر یہی سلوک جو عورت کے ساتھ ہوا وہ اس کے شوہر کے ساتھ اپنی بیوی کے ہاتھوں ہوا ہوتا تو کیا مردوں کے لیے بھی قابل قبول ہوتا؟ کیا تب بھی یہی مرد حضرات یہی دلائل بیان کرتے جو اب کر رہے ہیں؟ جواب ہے کہ بالکل بھی نہیں۔ تب تو اس عورت کو دنیا کی وحشی ترین ثابت کیا جا رہا ہونا تھا۔ یہی وہ سوچ ہے جس میں کہ اصل تبدیلی کی ضرورت ہے۔ ایک عورت بھی اسی عزت اور وقار کی حامل ہے اور حق رکھتی ہے جو مرد کو حاصل ہے۔ ظلم بہرحال ظلم ہی ہے، چاہے کسی پہ بھی ہو۔
نہ جانے ہم یہ کب سمجھیں گے کہ چاہے ایک مجرم ہی کیوں نہ ہو لیکن کوئی بھی قانون یا معاشرہ کسی بھی فرد کو اس مجرم کے افعال پہ اسے اپنے طور ایسے تشدد کا نشانہ بنانے کا حق نہیں دیتا۔ کسی فرد کے ذاتی خیالات کیسے ہیں، اس کا زندگی گزارنے کا ڈھنگ چاہے کیسا ہی ہو، کسی کو بھی اس کے بارے کوئی فیصلہ کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ کجا کہ جسمانی تشدد کو مختلف کمزور دلائل کے ذریعے جائز ثابت کیا جائے۔ ملزم قانون کی گرفت میں ہیں، امید کی جانی چاہیے کہ کسی بھی قسم کی کمزوری دکھائے بغیر انصاف فراہم کیا جائے گا۔


