ڈاکٹر کوئٹہ والا اور مسجد کا جن
جہاں اب بھٹائی میڈیکل سینٹر ہے وہاں ہی ڈاکٹر کوئٹہ والا کا صاف ستھرا خوبصورت کلینک تھا۔ تقریباً یہی شہر کا آخری حصہ بھی تھا کہ آگے پھر کاٹن فیکٹری وغیرہ جیسی جگہیں آجاتی تھیں۔ میرپور خاص میں یہاں سے آنے جانے میں ڈاکٹر کوئٹہ والا کو ضرور یاد کرتی ہوں۔ وہ ہمارے فیملی ڈاکٹر تھے۔
ڈاکٹر کوئٹہ والا کی کرسی ہمیشہ خالی ہی رہتی وہ بھی عورتوں کے کمرے میں کبھی مردوں کے کمرے میں خود مریض کو دیکھتے چکر لگاتے رہتے یا اپنے کمرے میں بھی کھڑے کھڑے ہی ہارڈ بورڈ پہ پرچی لکھتے ڈاکٹر کوئٹہ والا کا اصل نام احمد تھا پر جیسا کہ وہ مشہور اس نام سے ہوئے تو پرچی پر بھی ڈاکٹر کوئٹہ والا ہی چھپا ہوتا تھا۔ یقینا وہ کوئٹہ سے ہی آئے ہوں گے۔
ڈاکٹر صاحب کی شخصیت پرکشش تھی۔ وہ لمبے تڑنگے عموماً سفید پینٹ شرٹ میں ہیرو معلوم دیتے۔ ہاف سلیز شرٹ گرمیوں میں لان کی ہی ہوتی۔ ان کی رعب دار آواز میں اک میٹھا پن سا تھا۔ وہ بہترین ڈاکٹر تھے یہی وجہ ہے کہ ان کی بہت پذیرائی ہوئی تھی۔
نیچے کلینک تھا دیواروں کھڑکیوں کو چمکدار آئل پینٹ کیا ہوتا تھا۔ کلینک کے اوپر ہی ان کا گھر تھا۔ وہیں میں نے ان کی دوسری بیوی کو دیکھا تھا جو اس زمانے کے حساب سے بہت ہی ماڈرن تھیں۔ ان کی شخصیت جو میرے ذہن میں اب بھی تازہ ہے خوبصورت کٹے ہوئے بالوں والی لڑکی انہوں نے سلیو لیس یعنی آستین کے بغیر شرٹ اور پاجامہ پہن رکھا ہے۔ وہ ہماری بولی نہیں سمجھتی تھیں اس لئے ہماری عورتوں کو دیکھ کے مسکراتی ہی رہتیں۔
وہیں اوپر ان کے گھر میں، میں نے پہلی دفعہ اکویریم دیکھا اس میں چھوٹی سی رنگین مچھلیاں تیر رہی تھیں۔ میں نے ایسی کوئی چیز پہلی دفعہ ہی دیکھی تھی۔ مبہوت رہ گئی دیر تلک دیکھتی رہی جب تک کوئی ہاتھ سے پکڑ نیچے نہیں لے کے گیا۔ اصل میں یہ کوئی جادوئی دنیا معلوم دیتی تھی۔
ڈاکٹر کوئٹہ والا گاؤں بھر میں بہت مقبول تھے۔ سب ہی لوگوں کو ان کے گھریلو حالات سے بہت دلچسپی تھی گاؤں میں سب کو پتہ تھا کہ ڈاکٹر کا بیٹا پائلٹ ہے اور اس کی تنخواہ بارہ ہزار ہے جو اس وقت بہت زیادہ سمجھی جاتی تھی۔ ڈاکٹر کا یہ بیٹا بھی کبھی کراچی سے آیا کرتا۔ ان کے بال ہپی ٹائپ کے بڑھی ہوئی قلمیں ہوتیں۔ وہ بڑے پائینچوں والے فلیپر ٹائپ کپڑے پہنتا تھا۔ ڈاکٹر کے گھر میں اکویریم کے ساتھ پرندوں کا ایک بڑا سا پنجرہ بھی ہوتا جس میں بھی رنگین چھوٹے طوطے چہکتے رہتے۔ پہلے پھل تو میں کمپاؤنڈر کو ہی ڈاکٹر سمجھتی تھی کہ اسی کو ہی سوئی لگاتے دیکھا تھا اس کا سر بیچ سے گنجا تھا۔
اس نے بڑے پائینچوں والا پاجامہ پہنا ہوتا میں اس سے خوفزدہ رہتی وہ سوئی کو بالکل سیدھا پکڑے ہوتا جیسے کوئی بھالا ہو پھر جلادی انداز میں گوشت میں گھسا دیتا۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ جب آموں کا موسم عروج پر تھا۔ ہم لوگ روزانہ ہی قرآن شریف پڑھنے مسجد کی طرف جاتے وہیں کچھ کھجوروں اور آموں کے درخت تھے جن کو مولوی صاحب کی ملکیت تصور کیا جاتا تھا۔ قرآن شریف پڑھنے کے بعد میں اور میری سہیلی آموں کے درختوں کی طرف چلے گئے۔ میں بہت ہی چھوٹی تھی پر آم تو شاخ پر اتنا نیچے لٹکے ہوئے تھے کہ میں نے خوش ہوکے ہاتھ بڑھایا۔ پیچھے مولوی کا بھتیجا بھاگتا ہوا آیا۔ وہ ہمیں آم توڑنے سے منع کررہا تھا۔ میری سہیلی تو رک گئی پر میں یہ غنیمت موقع گنوانا نہیں چاہتی تھی۔ اس لئے پرواہ کیے بغیر ایک آم توڑ ڈالا دوسرا توڑنے ہی والی تھی کہ اس نے مجھے آکے پکڑا۔ میرے ہاتھ سے آم چھین لیا ہاتھ سے پکڑ کے باہر لاکے چھوڑا۔
ہم لوگ گھر پہنچے تو اماں دوپہر کی نیند میں تھیں اور پنکھا یعنی جھولا جو سوتے میں وہ باری باری ایک پیر سے چلاتی رہتی وہ ساکت تھا یعنی اماں گھری نیند میں تھیں میری سہیلی اپنے گھر چلی گئی میں اماں کے پہلو میں سوگئی۔
شام کو جب اٹھی تو میری گردن اکڑ گئی تھی اور شدید درد ہورہا تھا۔ اٹھنے کے ساتھ ہی پتا چلا کہ مولوی صاحب نے شکایت بھیج رکھی ہے۔ کسی نے کچھ بھی نہیں کہا پر جب میں نے اٹھتے ہی شدید درد کے ساتھ رونا شروع کیا تو گھر میں کام والیوں نے اماں کو بتایا کہ اس نے مسجد کا آم توڑا ہے اس لئے اس کو مسجد کے جن نے آ لیا ہے۔ پھر ایسا ہوا جیسے چھوٹے سے گاؤں کوئی بھی بات ایک دم پھیل جاتی ہے۔ پڑوسی عورتیں بار بار یہ بات دہرا رہی تھیں کہ اس کو جن ہوا ہے۔ میرے ساتھی بچے بھی جمع ہوگئے تھے حیرت اور دلچسپی سے دیکھ رہے تھے۔ وہ ساری رات میری تکلیف میں ہی گزری۔
دوسرے دن صبح میں جیپ کے فرش پر میری چھوٹی بہن کا بستر یعنی گدیلا ڈال کے مجھے سلاکر میرپور خاص لایا گیا۔ ڈاکٹر کوئٹہ والا کے پاس حسب معمول بہت رش تھا۔ بہت ہی دیر میں میری باری آئی۔ درد سے میری حالت بہت ہی بری ہوچلی تھی۔ جب وہ عورتوں کے کمرے میں مجھے دیکھنے آئے تو اماں نے ان کو بتایا کہ مسجد سے آم توڑا ہے اس نے اس کو جن ہوا ہے۔
یہ سن کر تو ڈاکٹر کوئٹہ والا زور سے ہنسا پھر اس نے دونوں ہاتھوں سے میرے چہرے کو پکڑ کر زور سے چھٹکا دیا ساتھ ہی میری زور سے چیخ نکلی پر میں نے محسوس کیا کہ درد کی شدت میں کمی ہو چلی ہے۔ ڈاکٹر کہہ رہا تھا یہ خود جنڑی ہے اسے جن کیا ہوگا۔ آپ بیتی۔


