کرکٹ کا ورلڈ کپ، عمران خان اور حکومتی کارکردگی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آخری خبریں آنے تک خان صاحب کی حکومت ملک کو درپیش مسائل حل کرنے میں بری طرح ناکام ثابت ہو رہی ہے لیکن کچھ یار دوستوں کی تنقید دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ جیسے عمران خان قائداعظم کی رحلت کے بعد اس ملک پر مسلط ہوگئے تھے اور تاحال ملک کے تمام مسائل کے ذمہ دار ہیں۔ یہ دلیل کہ خان صاحب کو وقت چاہیے، میرے نزدیک خام ہے کہ تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے کہ حقیقی لیڈرز نے مختصر ترین وقت میں کامیابیاں حاصل کیں۔

تبدیلی کا آغاز مشکل ہوتا ہے اور بسا اوقات دوررس نتائج حاصل کرنے کے لئے کھٹن اور صبر آزما فیصلے کرنے پڑتے ہیں جو عوام کے لئے ابتدائی طور پر تکلیف دہ ہوتے ہیں لیکن بعد میں دیرپا ریلیف کا باعث بنتے ہیں۔ تو کیا عمران خان کی حکومت کے ابتدائی کٹھن مہینوں کی کوکھ سے عوام کے لئے واقعی کوئی حوصلہ افزا تبدیلی جنم لے گی؟ اس بارے وثوق سے کچھ کہا نہیں جا سکتا کہ بسا اوقات انتہائی باریکی سے کیے گئے تجزئے بھی یکسر غلظ ثابت ہوتے ہیں، ہمارے تجزیوں (اگر واقعی انہیں تجزئے کہا جا سکتا ہے ) کا کیا ہے، وقت ملا، موبائل اٹھایا اور لکھنا شروع کردیا۔

میرا اندازہ ہے کہ خان صاحب کی حکومت بھی ناکام حکومتوں کی فہرست میں ایک اضافہ ہی ہے۔ اب تک کی کارکردگی سے نہیں لگتا کہ عمران خان کی حکومت کچھ کر پائے گی کہ کچھ کر گزرنے کے لئے عوام کا اعتماد جیتنا اور اسے قائم رکھنا ضروری ہے۔ اگر چہ تبدیلی کے لئے ترستے عوام اب بھی آس لگائے بیٹھے ہیں لیکن تا بہ کہ؟ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ یہ احساس مضبوط ہوتا جارہا ہے کہ شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں، انہیں آخر ٹوٹنا ہی ہوتا ہے

خان صاحب اب تک ناکام کیوں ہیں؟ اس کے اسباب ہیں اور اس کا اظہار کیا جاتا رہا ہے لیکن اس کا کیا یہ مطلب ہے کہ ہم خان صاحب کی ناکامی کی وجہ سے ان کی کامیابیوں کو بھی ناکامیاں کہنا شروع کر دیں؟ ان کی خوبیوں کو بھی خامیوں قرار دیں۔ مجھے حیرت ہے کہ قلم قبیلے سے وابستہ افراد کس سہولت کے ساتھ تنقید کرتے ہوئے جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ خان صاحب کو اگر خلائی مخلوق کی مدد حوصل ہوئی تو برا ہوا اور اس حوالے سے تنقید برحق ہے۔

لیکن پاکستان کی کون سی حکومت کون سا لیڈر ہے جس کو فرشتوں کی مدد حاصل نہیں ہوئی؟ ذوالفقار علی بھٹو؟ نواز شریف؟ کون کس کو ڈیڈی ڈیڈی کہتا پھرتا تھا؟ کون کس کا مشن پورا کرنے کے اعلانات کرتا رہتا تھا؟ فاطمہ جناح کے خلاف ایوب خان کا کورنگ امیدوار کون تھا؟ پنجاب کابینہ میں وزارت خزانہ کس کو عطا ہوئی تھی جنرل ضیاء کے دور میں؟ کس نے ایوب خان کو تاحیات صدر رہنے کا مشورہ دیا تھا؟ جنرل ضیاء نے کس کو اپنی عمر لگنے کی دعا کی تھی؟

افتخار محمد چوہدری کی بحالی کی تحریک میں کمزور پڑتے جنرل مشرف کے ساتھ بدنام زمانہ این آر او کس نے کیا تھا؟ چوہدری نثار اور شہباز شریف رات کے اندھیرے میں کس کے ساتھ اور کس کے لئے ملتے تھے؟ فہرست لمبی ہے اور عمران خان پر اس حوالے سے تنقید بجا ہے لیکن کوئی کس طرح عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے اسی سانس میں مسلم لیگ نواز اور پیلپز پارٹی کے گھن گا سکتا ہے؟

تنقید کے نشتر برستے ہیں تو 92 کا کرکٹ ورلڈ کپ اور شوکت خانم کو بھی بخشا نہیں جاتا۔ فرماتے ہیں کہ کئی دیگر ممالک بھی ورلڈ کپ جیت چکے ہیں اور کچھ تو بار بار، لیکن کوئی بھی کپتان، وزیراعظم نہیں بنا۔ لیں اب کر لیں بات! بندگان خدا اگر کپیل دیو، دھونی، پونٹنگ، رانا ٹنگا اور دیگر کھلاڑیوں کو سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں تو اس میں ہم کیا کر سکتے ہیں؟ شاید ان میں بھی کسی کے دل میں یہ خواہش موجود رہی ہو لیکن اس واسطے درکار ریاضت اور محنت کی تاب خود میں نہ پاتے ہوں۔

ایک دوسرا نہایت ہی احمقانہ اعتراض عمران خان پر یہ کیا جاتا ہے کہ انہوں نے ورلڈ کپ جیت کر شوکت خانم میموریل ہسپتال بنایا اور پھر اسے سیڑھی بنا کر سیاست کی بلندیاں سر کیں۔ اس میں آخر برا کیا ہے؟ کیا ہی اچھا ہو کہ ہمارے سیاستدان، کوئی سوشل ورک کرکے سیاست میں آئیں، ان کی سیاست سے کچھ بدلے نہ بدلے، سوشل ورک سے کچھ تو بھلا ہوگا۔ نواز شریف اور زرداری صاحبان کو رہنے دیں، اگر مریم نواز اور بلاول بھٹو اپنی پیدائش کے بجائے کوئی ہسپتال، یونیورسٹی یا کوئی اور کام کرکے اپنی اپنی پارٹیوں کو لیڈ کرنے آتے تو کیسے خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ملکی سیاست پر؟ ایک اتفاقی امر جس میں ان کا کوئی کمال نہیں، انہیں لیڈر بنا چلی۔

بات لمبی ہوگئی، کہنا یہ تھا کہ تنقید ضرور ہونی چاہیے لیکن حق و انصاف کے تقاضوں کا بھی خیال رکھا کریں۔ میری یہ تحریر شاید ہی لوگوں کو پسند آئے کہ اس میں دونوں طرف کے پروانوں کو ناراض کرنے کا مواد وافر مقدار میں موجود ہے۔ خان صاحب کی ناکامی کا پتہ اس دن لگ چکا تھا جس دن انہوں نے کے پی کے حکومت پرویز خٹک کے حوالے کی تھی۔ پرویز خٹک اور شیخ رشید جیسے درجنوں لوگ خان صاحب کے ارد گرد قبضہ جمائے ہوئے ہیں، ان جیسے نمونے تبدیلی لا سکتے تو ملک اس نہج پر پہنچتا؟ خان صاحب کے پاس اب بھی وقت ہے، آخری بازی لگانے کا۔ سارا سلیٹ صاف کردیں اور نئے گھوڑوں کے ساتھ میدان میں اترے، پر عزم، جوان خون اپنے بوڑھے سردار کی لاج رکھنے کے لئے دن رات ایک کردے گا۔ خان صاحب یہ بازی وہ ہے جس میں ہارنے کا ڈر نہیں ہوتا، لگا دیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •