محترمہ کو سمارٹ فون لینے پر مبارکباد
دور حاضر میں کوئی شخص بالغ ہو مگر موبائل فون کا مالک نہ ہو ایسا ممکن نہیں۔ بلکہ جس قدر بلوغت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اس ہی طرح موبائل فون کی تعداد بھی بڑھتی جاتی ہے۔ یوں اکثر افراد کے ہاتھ میں دو فون دیکھنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ آخر ہم قوم ہی عاقل، بالغ اور مصروف ہیں۔ البتہ کراچی والوں کا معاملہ ذرا مختلف ہے کہ یہاں پر دو موبائل فون رکھنا رواج ہے۔ ایک مہنگا والا اپنے لیے تو دوسرا چوروں کے لیے۔
یوں تو یقین کرنا مشکل ہے مگر ہماری ایک ساتھی تاحال موبائل فون کی نعمت سے محروم تھیں۔ مطلب نہ فیس بک کا چسکا، نہ انسٹا کی عادت، نہ ٹوئٹ کی بیماری اور نہ ہی نائٹ پیکجز کا کوئی علم۔ پتہ نہیں ہماری یہ دوست جوانی کیسے گزار رہی تھیں۔ کبھی کبھی تو شک گزرتا تھا کہ شاید محترمہ نے ایک عدد سمارٹ فون خفیہ طور پر رکھا ہوا ہے۔ اور سب کو بے وقوف بنا رہی ہیں۔
ہائے نصیب خراب! ہماری دوست نے اچانک سے ایک عدد نیا فون خرید لیا۔ فون بھی نہیں، سمارٹ فون۔ دل کررہا ہے اخبار میں سرخی چھپوا کر اپنی ساتھی کو مبارکباد دی جائے۔ کچھ احباب کا خیال ہے کہ اخبار کافی نہیں ان کے گھر کے سامنے بینر لگوایا جائے یا پھر کیبل پر ایک عدد اشتہار چلوا کر ان کی خوشی میں شریک ہوا جائے۔
اپنی ساتھی کی خوشی تو اپنی جگہ مگر دل ہی دل میں مجھے ہمدردی بھی ہورہی ہے کہ کہاں سر کے درد سے محفوظ بیچاری اور کہاں موبائل فون!
پہلے پہل اسے فیسبک کی عادت پڑے گی، پھر لائکز کی کم تعداد ستانے لگے گی۔ اس کے بعد فالورز بڑھانے کا خیال اس کے دل میں گھر کرلے گا۔ یہ سب مراحل خوش اصلوبی سے طے کر بھی لیے تو حسین سے ڈی پی تلاش کرنے میں اچھا خاصہ خرچہ اور محنت کرنا ہوگی۔ یہی نہیں اب اسے صرف اس لیے سفر پر اور ہوٹلز وغیرہ پر بھی جانا ہوگا کہ اس کی سہیلوں نے حال ہی میں ایسا کیا تھا جن کی تصاویر اس نے فیسبک پر دیکھی ہیں۔ ظاہر ہے اب جواب دینے کی خاطر اسے بھی کچھ نہ کچھ تو کرنا ہوگا۔ خاموشی اختیار کرلینا تو کسی مسئلے کا حل نہیں۔
فیسبک پر دو دو ہاتھ کرکے میدان مار بھی لیا تو انسٹا کا میدان اس کا منتظر ہوگا۔ جہاں زیادہ تر کھیل محض تصاویر ہی کا ہوا کرتا ہے۔ فیس بک پر تو اس کا کام موبائل فون ہی سے چل جایا کرتا تھا مگر اب انسٹگرام کے لیے ایک عدد ڈی اس ایل آر اور پھر تصویروں کی تراش خراش کے لیے سافٹ ویئر پر بھی عبور درکار ہوگا۔
سیانوں نے ایسے ہی تو نہیں کہا کول لگنا نیں آساں بس اتنا سمجھ لیجیے، یہ شوخی کا زمانہ ہے اور جھوٹ بول کر بتانا ہے۔
خیر ہماری دوست انسٹا کو ابھی سمجھنے ہی لگے گی کہ سنیپ چیٹ، ٹوئٹر، واٹس ایپ نہ جانے کیا کیا بیماریاں اس کو آ لیں گی۔ اور یوں ہنستی کھیلتی مسکراتی کلی مرجھا جائے گی۔ دل کررہا ہے موبائل فون خریدنے کی مبارکباد کے ساتھ ہی اسے بہت سی مفید نصیحتیں بھی دے ڈالوں۔ مگر سوچ کررک جاتا ہوں کہ یہ کام بھی میں نے کیا تو اس کی امی کیا کریں گی؟ آخر رات کو دیر تک فون استعمال کرنے پر طعنے دینا تو اماں کا حق ہے۔


