ذرا سوچیے

اس بار کچھ اتنے تواتر سے جبری مذہب کی تبدیلی کے واقعات ہو رہی ہیں کہ جیسے صوبہ سندھ میں لوگوں کے پاس کچھ اور کام ہی نہیں ہے۔ آٹھ مارچ پر نکلنے والے عورتوں کے جلوسوں پر نتقید کا سلسلہ جاری ہی تھا کہ ہندو لڑکیوں کو جھانسے دے کر یا ڈرا دھمکا کر مذہب تبدیل کرنے اور شادیاں رچانے کا سلسلہ زور و شور سے شروع ہو گیا۔ اس پر کسی مُلاّ۔ سیاسی لیڈروں اور تنقید نگاروں کی توجہ نہیں جاتی کہ آخر نو عمر لڑکیوں کو ہی مسلمان کرنے پر اتنا زور کیوں ہے؟ لڑکے عمر رسیدہ مرد و عورت کیوں اپنا مذہب تبدیل نہیں کررہے۔

اگر اس سوال کا تجزیہ کیا جائے تو یہی بات سامنے آتی ہے کہ عورت کو ذاتی جائیداد سمجھنا اور ان کے جسموں پر سیاست کرنا ہماری پرانی روایت ہے۔ اکیسویں صدی میں بھی ہماری اکثریت اسی انداز سے سوچتی ہے کہ عورت کی ساری زندگی اور پورپور پران کا حق ہے۔ فیصلہ اُن کا ہے کہ عورت کیا پڑھے۔ کہا ں جائے۔ نوکری کرے یا گھر بیٹھے۔ میکے جا سکتی ہے یا نہیں۔ کس سے شادی کرے کتنے بچے پیدا کرے۔ بچوں میں کوئی وقفہ دے سکتی ہے یا نہیں۔ جسمانی تشدد برداشت کرتی رہتی رہے اُف نہ کرے۔

مرد یہی سمجھتے ہیں کہ یہ سارے فیصلے انہیں کرنے چائیں۔ قابیل اور ہابیل کی کہانی بھی یہیں سے شروع ہوتی ہے کہ مرد ہی ایک دوسرے کو قتل کر رہے ہیں مگر عورت سے نہیں پوچھیں گے کہ اُس کی بھی کوئی پسند ہے۔ کیا مرضی ہے۔ کیوں کیا وہ ذہن نہیں رکھتی۔ احساسات نہیں ہوتے۔ عورت کا دل جذبات سے عاری ہوتا۔ عشق و وصل۔ فرقت اور دکھ۔ پیار و نفرت سب کچھ مرد کے لئے جائز ہے؟ عورت کے حصے میں صرف صبر مامتا اور برداشت ہی لکھی گئی ہے۔

اس سوچ سے نکلنا بہت ضروری ہے۔ پاکستان میں عورتیں کُل آبادی کا نصف ہیں اور پچاس فیصد حصے کو غلام بنا کر گھر کی چہار دیواری میں قید کر دینا ممکن ہی نہیں رہا۔ عورت گھر میں بھی اپنی ذمہ داری پوری کر رہی ہے اور باہر بھی۔ متوسط طبقے کے لئے یہ ممکن ہی نہیں رہا کہ ایک کمائی پر دس افراد کا کُنبہ چلے۔ زیادہ سے زیادہ عورتیں گھروں سے نکل کر ہر میدان میں کام کر رہی ہیں۔ کیوں نہ کریں جب وہ صلاحیت بھی رکھتی ہیں اور وہی آمدنی گھر کے حالات بہتر بنانے پر خرچ بھی کرتی ہیں۔

عورت کے اُٹھنے۔ بیٹھنے کام کرنے اپنا حق مانگنے پر پابندی لگانے والے وہی مرد ہوتے ہیں جو خود عدم تحفظ اور احساسِ کمتری کا شکار ہوتے ہیں۔ انہیں موقع ملنا چائیے کہ وہ اپنی زبان کی قنچیاں تیز کر کے پوری شدت سے حملہ آور ہوں اور انہیں فحاشی بے راہروی اور بے شرمی کے الزامات کے پہاڑ کھڑے کر دیں۔ کچھ نا سمجھ خواتین بھی اُن کے ساتھ اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے یا بغیر سوچے سمجھے اُن کے ساتھ شامل ہو جاتی ہیں۔

میں بھی دیکھنا چاہتی ہوں کہ آخر ایسی کتنی ملکائیں چہار دیواری میں گھر کے سنگھاسن پر بیٹھی ہیں جن کی زندگیاں گل و گلزار ہیں کوئی دکھ نہیں ہے۔ کوئی جبر یا زبردستی نہیں ہے۔ سارے فیصلوں میں اُن کی مرضی شامل ہوتی ہو۔ اگر دو چار فیصد بھی ایسی ہوں جنہیں دنیا میں جنت مل گئی ہے تو اکثریت تو اپنے مسئلوں کے الاؤ میں گھری ہوئی ہے۔

جب پاکستانی عورت کی بات ہو رہی ہوتی ہے تو نہ صرف مختلف کلچر بلکہ مختلف کلاس کی عورتوں کے مسائل زیر ِ نظر ہوتے ہیں۔ مذہب تبدیل کرنے والی لڑکیوں کا تعلق اکثر پسماندہ ترین طبقوں سے ہوتا ہے۔ جو نہ صرف اپنے ہم مذہبوں میں تفریق کا شکار ہوتے ہیں بلکہ غربت کی چکی میں بھی پس رہے ہوتے ہیں۔ کم عمر کی لڑکیوں کو جھانسے دینا، بہتر زندگی کا لالچ اور قیمتی تحفے تحائف دے کر ورغلانا آسان ہوتا ہے۔ نو عمری میں جذبات زیادہ حاوی ہوتے ہیں بہ نسبت عقل و فراست کے۔

حکومت ِ پاکستان نے اقوام متحدہ کا بچوں کے حقوق کے کنونشن UNCRC پر دستخط کیا ہے۔ اس کنونشن کے تحت مُلک میں بچوں کی بلوغت کی عمر کو 18 سال تسلیم کیا گیا ہے۔ جس کے لئے مختلف قوانین میں تبدیلی ضروری ہے۔ چنانچہ ووٹ دینے کا حق، شناختی کارڑ اور ڈرائیونگ لائسنس کے اجرا کے لئے 18 سال کا ہونا شرط ہے ہونا تو تو یہ چائیے تھا کہ شادی کی عمر میں بھی یکسانیت ہوتی مگر ایسا نہیں ہو۔ صرف سندھ میں شادی کے لئے لڑکا لڑکی دونوں کی عمر 18 سال مقرر کی گئی اور دوسرے صوبوں میں ایسا نہیں ہوا۔ پنجاب، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں 16 سال ہے۔ اکثر جج صاحبان بلوغت کو معیا قرار دے کر کم عمری کی شادی بھی جائز قرار دیتے ہیں۔

اس قانون کی بنیادی خرابی یہ ہے کہ کم عمر کی شادی غیر قانونی تو قرار پاتی ہے مگر نکاح کی تسنیخ نہیں ہوتی۔ اور یہ عرصہ لڑکی کو شیلٹر ہوم میں گذارنا پڑتا ہے۔ جب کہ مُلک میں ایک ہی قانون نافذ ہونا چائیے۔ ہم کب تک دو کِشتیوں کے سوار رہیں گے؟

ہندو میرج ایکٹ 2016 میں سندھ اسمبلی نے پاس کیا ہے اپس کے تحت شادی کی عمر 18 سال ہی ہے۔ تو پھر کم عمر لڑکیوں کی شادی کیسے جائز ہوئی۔ ریاست کو سختی سے اس کا نفاذ کرنے پڑے گا۔ کم عمر شادی خواہ وہ مسلم ہو غیر مسلم۔ ان کو روکنے کی شدید ضرورت ہے۔ میڈیکل سائنس بتاتی ہے کہ اس سے پہلے لڑکا اور لڑکی ذہنی اور جسمانی طور پر ازدواجی ذمہ داریاں اُٹھانے کے قابل نہیں ہوتے نہ صرف ان کی صحت اور کام متاثر ہوتا ہے بلکہ اولاد میں اضافے کا بھی سببب ہے۔ پاکستان میں بڑھتی ہوئی آباتی معشیت کے لئے بوجھ ہے جسے کم کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ بڑھانے کی۔

ایک اور تبدیلی مذہب کا قانون جس میں 18 سال کی عمر کی شرط رکھی گئی تھی سندھ اسمبلی سے متفقہ طور پر پاس ہو چکا تھا۔ مگر صرف اس لئے بالائے طاق رکھ دیا گیا کہ کچھ دین کے نام نہاد محافظوں کو اعتراض ہوتا۔ کمال ہے کہ جب بچوں کی ظفر موج تعلیم و صحت سے ماورا سڑکوں پر آوارہ گھومتی ہے اور ذہنی و جسمانی تشدد کا نشانہ بنتی ہے تو ان خود ساختہ محافظوں کو کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔ مجھے تو یاد نہیں ہے کہ کبھی کسی مذہب کے ان پاسداروں نے غربت اور جہالت کے خلاف کوئی آواز اٹھائی ہوئی ہے۔ مدرسوں اور سڑکوں پر بچوں کے جنسی تشدد پر کوئی ملین مارچ کیا ہو یا کبھی ان برائیوں کے خلاف کوئی جہاد کیا ہو۔

ریاست کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے شہریوں خصوصاً اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کریں اور ایسے تمام لوگوں کو جو صرف مذہب کو استعمال کر کے اپنے مفادات کا پرچار کرتے ہیں یہ پیغام دیں کہ قانون کا نفاذ اور اپنے شہریوں کو تحفظ دینا حکومت کا کام ہے۔ کارِ سرکار میں غیر ضروری مداخلت سے ان کے خلاف بھی قانون حرکت میں آسکتا ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس جناب تصدق حسین جیلانی نے 2014 میں اقلیتوں کے تحفظ کے لئے اقلیتی کمیشن بنانے کی تجویز دی تھی جس کا ذکر تحریکِ انصاف کے منشور میں بھی آیا ہے مگر ابھی تک یہ کمیشن ضلعی یا صوبائی سطح پر خود خیبر پختونخواہ میں بنا ہے اور نہ ہی اس کے آثار کہیں نظر آتے ہیں۔ ہمیں بار بار یاد لایا جاتا ہے کہ قائد اعظم نے اپنی 11 اگست 1947 کی تقریر میں غیر مسلم پاکستانیوں کے بارے میں کیا فرمایا تھا یا ہمارے جھنڈوں میں سفید رنگ اقلیتوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ مگر صرف ہمدردانہ بیانات داغ دینے سے کچھ نہیں ہوگا عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words
انیس ہارون کی دیگر تحریریں