اس بار کچھ اتنے تواتر سے جبری مذہب کی تبدیلی کے واقعات ہو رہی ہیں کہ جیسے صوبہ سندھ میں لوگوں کے پاس کچھ اور کام ہی نہیں ہے۔ آٹھ مارچ پر نکلنے والے عورتوں کے جلوسوں پر نتقید کا سلسلہ جاری ہی تھا کہ ہندو لڑکیوں کو جھانسے دے کر یا ڈرا دھمکا کر مذہب تبدیل کرنے اور شادیاں رچانے کا سلسلہ زور و شور سے شروع ہو گیا۔ اس پر کسی مُلاّ۔ سیاسی لیڈروں اور تنقید نگاروں کی توجہ نہیں جاتی کہ آخر نو عمر لڑکیوں کو ہی مسلمان کرنے پر اتنا زور کیوں ہے؟ لڑکے عمر رسیدہ مرد و عورت کیوں اپنا مذہب تبدیل نہیں کررہے۔
اگر اس سوال کا تجزیہ کیا جائے تو یہی بات سامنے آتی ہے کہ عورت کو ذاتی جائیداد سمجھنا اور ان کے جسموں پر سیاست کرنا ہماری پرانی روایت ہے۔ اکیسویں صدی میں بھی ہماری اکثریت اسی انداز سے سوچتی ہے کہ عورت کی ساری زندگی اور پورپور پران کا حق ہے۔ فیصلہ اُن کا ہے کہ عورت کیا پڑھے۔ کہا ں جائے۔ نوکری کرے یا گھر بیٹھے۔ میکے جا سکتی ہے یا نہیں۔ کس سے شادی کرے کتنے بچے پیدا کرے۔ بچوں میں کوئی وقفہ دے سکتی ہے یا نہیں۔
Read more