دنیا کی رفتار سست، عورتوں کے قدم تیز

یہ حقیقت ہے کہ جب سے کورونا آیا ہے دنیا بھر میں ترقی کا پہیہ منجمد نہیں تو سست رفتار ضرور ہو گیا ہے. کبھی کبھی یہ خیال بھی ہوتا ہے کہ شاید اب کائنات کو حضرت انسان کی حاجت نہیں رہی یا بحیثیت اشرف المخلوقات ہمارا سفر بس اتنا ہی تھا۔ آگے کا اللہ مالک ہے، ہم رہیں یا نہ رہیں یہ دنیا تو پھلے پھولے گی۔ لیکن شاید ایسا نہیں ہے۔ اس تبدیلی کے ساتھ بہت بڑی تبدیلی

Read more

ذرا سوچیے

اس بار کچھ اتنے تواتر سے جبری مذہب کی تبدیلی کے واقعات ہو رہی ہیں کہ جیسے صوبہ سندھ میں لوگوں کے پاس کچھ اور کام ہی نہیں ہے۔ آٹھ مارچ پر نکلنے والے عورتوں کے جلوسوں پر نتقید کا سلسلہ جاری ہی تھا کہ ہندو لڑکیوں کو جھانسے دے کر یا ڈرا دھمکا کر مذہب تبدیل کرنے اور شادیاں رچانے کا سلسلہ زور و شور سے شروع ہو گیا۔ اس پر کسی مُلاّ۔ سیاسی لیڈروں اور تنقید نگاروں کی توجہ نہیں جاتی کہ آخر نو عمر لڑکیوں کو ہی مسلمان کرنے پر اتنا زور کیوں ہے؟ لڑکے عمر رسیدہ مرد و عورت کیوں اپنا مذہب تبدیل نہیں کررہے۔

اگر اس سوال کا تجزیہ کیا جائے تو یہی بات سامنے آتی ہے کہ عورت کو ذاتی جائیداد سمجھنا اور ان کے جسموں پر سیاست کرنا ہماری پرانی روایت ہے۔ اکیسویں صدی میں بھی ہماری اکثریت اسی انداز سے سوچتی ہے کہ عورت کی ساری زندگی اور پورپور پران کا حق ہے۔ فیصلہ اُن کا ہے کہ عورت کیا پڑھے۔ کہا ں جائے۔ نوکری کرے یا گھر بیٹھے۔ میکے جا سکتی ہے یا نہیں۔ کس سے شادی کرے کتنے بچے پیدا کرے۔ بچوں میں کوئی وقفہ دے سکتی ہے یا نہیں۔

Read more