پہلے ڈراؤ، کوئی نہ ڈرے تو خود ڈر جاؤ
”پہلے یرکاؤ نہ یرکے تو خود یرک جاؤ“۔ پنجانی کے اس مقولے کو میں کچھ ایسا ہی سنا ہے۔ ممکن ہے میں نے لکھا بھی غلط ہو اور سمجھا بھی غلط ہو تو تصحیح کا خواستگار ہوں گا۔ مجھے جو مفہوم سمجھ میں آیا وہ کچھ یوں ہے کہ ”پہلے ڈراؤ، کوئی نہ ڈرے تو خود ڈر جاؤ“۔ ایسا ہی کچھ موجودہ حکومت کا طرز عمل سامنے آرہا ہے۔ گزشتہ دنوں حکومت نے واضح اعلان کیا تھا کہ ”بینظیر انکم سپورٹ“ نام کے تحت جو پرگرام پی پی پی کے دور میں شروع کیا گیا تھا اب اس کا نام تبدیل کیا جائے گا۔
نام کی تبدیلی کا اعلان ضرور کیا گیا تھا لیکن دو باتیں پھر بھی وضاحت طلب چھوڑ دی گئیں تھیں۔ ایک یہ کہ غربت مٹاؤ اس اسکیم کا نام تبدیل کرکے دوسرا کیا نام رکھا جائے گا اور دوسری بات یہ کہ کیا صرف نام ہی تبدیل کیا جائے گا یا اس اسکیم کے تحت جن جن افراد تک (جھوٹی سچی) کچھ مدد پہنچتی رہی ہے کیا اس کو بھی روک لیا جائے گا۔ حکومت کے اس اعلان کے ساتھ ہی پی پی پی کا شدید رد عمل سامنے آیا تھا۔ پی پی پی کے ایک بہت ہی بڑے لیڈر نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ”اگر حکومت میں اتنی ہمت ہے کہ وہ جاری کی گئی اسکیم کے نام کو تبدیل کر سکتی ہے تو ایسا کر کے دکھا دے“۔
یہ بیان نہ صرف ایک اعلان جنگ کے مترادف تھا بلکہ اس کے بعد حکومت کا اپنی زبان و بیان سے پھر جانا کسی حد تک غیرت کا معاملہ بھی بن گیا تھا۔ خیال کیا جا رہا تھا کہ ایسے موقع پر حکومت کچھ استقامت کا مظاہرہ کر کے اپنی ”ہمت“ دکھائے گی لیکن ماضی کی کہانیاں کیونکہ ”یو ٹرنز“ سے پُر ہیں اس لئے ایسا کیسے ممکن تھا کہ حکومت کی جانب سے استقامت کا مظاہرہ سامنے آتا۔ خورشید شاہ کے کہے مذکورہ جملوں کو ابھی چند گھنٹے ہی گزرے تھے کہ حکومت نہایت برق رفتاری کے ساتھ الٹے قدموں واپس ہوگئی اور یوں، وہ ہوا جو بہت کروفر کے ساتھ باندھی گئی تھی غبارے کی ہوا ثابت ہوئی اور بلا آواز ہی خارج ہو گئی۔
خبروں کے مطابق وفاقی حکومت نے پسپائی اختیار کرتے ہوئے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا۔ یہ کوئی انہونی تو نہیں تھی اس لئے کہ اب تک اگر حکومتی پارٹی کے یو ٹرنز کو شمار کیا جائے تو سمندروں کو روشنائی، اشجار کو قلم اور کائینات کو اوراق بنانے کے باوجود سمندر خشک ہوجائیں گے، قلم گھس جائیں گے اور اوراق کم پڑجائیں گے لیکن حکومت اور حکومتی پارٹی کے یوٹرنز کی داستانیں پھر بھی ضبط تحریر نہ ہو سکیں گی۔
جس بات کو حکومت اور حکومتی پارٹی ”یو ٹرن“ کہتی ہے اس کو ”سلیس اردو“ میں اپنی بات سے پھر جانا کہا جاتا ہے۔ اپنے دعوؤں سے پیٹھ دکھانا اور اپنے ارادوں کے بر خلاف طرز عمل اختیار کرنے سے برا کام اور گری ہوئی حرکت ہو ہی نہیں سکتی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہا اکثر اوقات کیے گئے فیصلے غلط نتائج دیتے ہوئے بھی نظر آرہے ہوتے ہیں اور سوچے گئے فوائد کی بجائے خرابیوں کا پہلو زیادہ نمایاں ہونے لگتا ہے جس کی وجہ سے اپنے فیصلوں کو بدلنا فیصلوں پر عمل درآمد سے زیادہ ضروری ہو جاتا ہے لیکن جب بھی کوئی فرد، افراد یا حکومت اپنے کیے گئے غلط فیصلوں سے واپسی کی راہ اختیار کرتی ہے یا پسپائی دکھاتی ہے تو اس کا انداز معذرت خواہانہ ہوتا ہے لیکن حکومت کے موجودہ رویے میں احساس ندامت کی بجائے بار بار کے یوٹرنز کو بھی کامیاب رہنماؤں کی خوبی بنا کر پیش کیا جاتا رہا ہے۔
ظلم اگر یہی پر ختم ہوجاتا کہ یوٹرنز کو خوبی قرار دینے پر ہی اکتفا کرلیا جاتا تو شاید قابل برداشت ہوتا لیکن المیہ یہ ہے کہ مثالیں دے کر ثابت بھی کیا گیا کہ جن جن عظیم ہستیوں کو زہر کے پیالے پینا پڑے، میدان کارزار میں جان دینا پڑی، سولی پر لٹکائے گئے اور ہلاک کر دیے گئے وہ محض اس لئے ہوا کہ ان عظیم ہستیوں نے ”یو ٹرن“ نہیں لیا تھا۔ اگر وہ یو ٹرن لے لیتے تو اپنی جانیں نہ گنوا بیٹھتے۔
ایک بات کہہ کر اپنی بات سے پھر جانا ویسے بھی حمیت کے خلاف ہے لیکن اگر کوئی مخالف رہنما کہی ہوئی بات پر یہ کہہ بیٹھے کہ ”اگر جرات ہے تو اپنا کہا کر کے دکھاؤ“ تو شاید ہی کوئی ایسا ہو جو چلینج کو قبول نہ کرے۔ بینظیر انکم سپورٹ کا نام تبدیل کرنے کے اعلان کے بعد پی پی پی کے ایک لیڈرکی جانب سے فیصلے کو چیلنج کرنے کے بعد حکومت کا اپنی ہی کہی بات سے پھر جانا کسی بھی صورت بنتا ہی نہیں تھا۔
حکومت کا اپنے بیانات سے بار بار پھر جانا دو باتیں ظاہر کرتا ہے۔ ایک تو یہ کہ حکومت جو بھی بات کہتی ہے یا فیصلہ کرتی ہے تو اس کے سارے پہلوؤں پر غور و فکر کے بغیر ہی فیصلہ کر لیتی ہے۔ فیصلہ کرنے کے فوراً بعد ہی اسے احساس ہوجاتا ہے کہ کیا گیا فیصلہ کہیں سے کہیں تک بھی درست نہیں تھا۔ ایک پہلو تو یہ ہوا جبکہ دوسرا پہلو کچھ یوں ہے کہ شاید فیصلہ تو درست ہی ہوتا ہو لیکن کسی دباؤ میں آکر حکومت اپنے فیصلے کو واپس لینے پر مجبور ہو جاتی ہو۔
دباؤ مخالفین کا ڈر اور خوف ہو یا پھر لانے والوں کی آرا فیصلوں سے مختلف ہوں۔ مسند اقتدار اس بات کی متحمل ہی نہیں ہو سکتی کہ وہاں کمزور فیصلے کیے جائیں۔ جو فرد بھی ایسے مقام پر فائز ہوتا ہے اس کا اس قسم کے کمزور فیصلے کرنا، بار بار یو ٹرنز لینا اور اپنی کہی ہوئی باتوں سے پھر جانا ناقبل فہم ہے۔ یہ ساری کمزوریاں کسی بھی حکومت کے لئے نہایت خطرناک صورت حال پیدا کر سکتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد تو ہر عام و خاص کے لئے یہ ہے کہ ”اے ایمان والو، وہ بات کہتے کیوں ہو جو کر نہیں سکتے“۔ جب یہ بات ہر ایمان والے کے لئے ناپسندیدہ قرار دیدی گئی ہے تو پھر حاکم وقت کے لئے کیسے گوارہ ہو سکتی ہے۔
موجودہ حکومت کا ڈھانچہ بھان متی کا ایک ایسا کنبہ ہے جو کہیں کی اینٹ اور کہیں کے روڑے سے تعمیر کیا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ الیکشن سے قبل بھی بھانت بھانت کے با اثر افراد کی گھیرا گھاری صاف صاف دکھائی دے رہی تھی اور جب حکومت سازی اور کابینہ کی تشکیل کا وقت آیا تو یہ بات اور بھی واضح ہو گئی کہ حکومت سازی ہو یا کابینہ کی شکل و صورت بنانا، اس ساری صناعی میں بادشاہ سے زیادہ بادشاہ گر کا کام ہے۔ جب ساری ”مصنوعات“ بادشاہ گر کی فنکاری ہوں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ مصنوعات کو مختار بنادیا جائے۔ بس یہی وہ الجھن ہے جو موجودہ حکومت کو کبھی سلجھنے نہیں دے گی۔
اس میں شک نہیں کہ جب فیصلوں میں خود مختاری نہ ہو اور کیے گئے فیصلہ اور اٹھائے گئے اقدامات پر کہیں کی مہریں لگائے بغیر ان کو مستند بننا نصیب نہ ہو تو پھر کسی بھی وقت اور کسی بھی معاملے میں یو ٹرنز تو بہر صورت سامنے آئیں گے ہی۔
حکومت کا 18 فیصد وقت تو گزر ہی چکا ہے۔ ہر حکومت کے شروع کے ایام بڑے اہم ہوتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ”پہلا تاثر ہی آخری تاثر ہوتا ہے“ لیکن بد قسمتی سے وہی پہلا تاثر اچھا ثابت نہ ہو سکا۔ اس خراب تاثر کو بھی ختم کرنے کے لئے اٹھارہ بیس فیصد وقت چاہیے جس کا آغاز ابھی تک ہوا نہیں ہے۔ وقت نہایت تیزی کے ساتھ گزرا جارہا ہے اور ملک کے حالات کوئی اچھی خبریں نہیں سنا رہے ہیں۔ ضروری ہے کہ جنگی بنیاد پر ایسے اقدامات اٹھائیں جو عوام میں تیزی سے گرتی ہوئی حکومتی ساکھ کو بحال کر سکیں اور ترقی کا تیر زمین کی جانب آنے کی بجائے آسمان کی جانب پرِ پرواز تول سکے۔


