عالمی دِنوں کا لنڈا بازار


پوری دنیا میں پورا سال ہی کسی نہ کسی چیز کا عالمی دن منایا جاتا ہے بلکہ کسی دن کو تو کئی کئی حوالوں سے منسوب کرکے منانے کا رواج بھی ہے۔ تاہم ہر دن اس دن کے سورج کے ساتھ ہی غروب ہوجاتا ہے اور اس دن کی روح پھر سے دنیا کی بھیڑ میں اگلے برس تک کھو جاتی ہے۔ البتہ ہر منائے جانے والے دن کی نسبت سے مَنوں کے حساب سے کلچر ضرور برآمد ہوتا ہے۔ اکثر دن مثبت مقاصد کے حامل جبکہ کچھ متنازع بھی ہیں۔ ابھی یکم اپریل کو بے وقوفوں نے اپنا دن منایا۔

بیس فروری سماجی انصاف کے سبز باغات کا دن تھا۔ آٹھ مارچ کو بنتِ حوا نے ابنِ آدم پہ تہذیبی و عائلی لشکر کشی کی اور باور کرایاکہ تصویرِ کائنات میں ان کا وجود، رنگ کے ساتھ ساتھ زنگ کا موجب بھی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے دوپٹے سے پرچم بنانا تو کجا، آنچل کے وجود سے بھی انکار کر دیا اور کھانا، بستر اور نہ جانے کیا کیا گرم کرنے کی نفی کی۔ حفیظ جالندھری کو بتا دیا کی وہ مائیں بہنیں کہیں او ر ڈھونڈیں اور قوم اپنی عزت کا خود اہتمام کرے۔

ایسے ہی چودہ فروری یوم ِ عشاق ہے۔ پارساؤں کے نزدیک یہ بے حیائی کا دن ہے جس میں کہیں حیا ء کی موت ہوتی ہے تو کہیں پاکیزہ نگاہوں کا قتل ہوتا ہے۔ اس لئے اسے سسٹر ڈے کے طور پر منایا جائے تاکہ کچھ پردہ داری رہ سکے۔ ماحولیات کی بابت پورا سال ”مخولیات“ میں رہنے والے پانچ جون کو یومِ ماحولیات منا کر تشہیری تسکین کا حظ اٹھاتے ہیں۔ اکیس مارچ کو شاعروں کو واہ واہ کی لولی پاپ کے جھانسے کے ہمراہ بعد از حیات اعزاز سے دفنانے کا وعدہ بھی ملتا ہے۔

چوبیس جنوری کو تعلیم کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے۔ سال بھر پانی ضائع کرنے والے بائیس مارچ کو پانی بچانے کی مہم میں ہراول دستہ ہوتے ہیں۔ یکم مئی کے روز مزدورپسینہ خشک ہونے سے قبل ادائیگی کا مژدہ سنتے ہیں۔ یکم جون کو والدین کی شان اور اہمیت بیان کی جاتی ہے اور ان سے از سرِ نو تعارف بھی ہوجاتا ہے۔ اکیس ستمبر امن کی فاختہ اڑاکر دیکھنے کا دن ہے جبکہ 5 اکتوبر کوسلام ٹیچر ڈے کے موقع پر ایک یوم کے لئے سماجی و سرکای سنگ زنی معطل رہتی ہے۔

سولہ نومبرکو رواداری و برد باری کی اصطلاحوں کی گونج سنائی دیتی ہے۔ ان میں دل چسپ ترین دن ”ہاتھ دھونے“ کا عالمی دن ہے۔ بظاہر صفائی کی ترغیب کا دن ہے مگر ازراہ تفنن کہا جاسکتا ہے کہ اس دن دنیا کی بہت سی شخصیات اپنی عزت، دولت یا عہدے سے ہاتھ دھوبیٹھتی ہیں۔ گویا یہ دن کسی بھی دن آسکتا ہے۔ اسی طرح کچھ لوگ کچھ چیزوں پہ ہاتھ صاف کر کے یہ دن منا لیتے ہیں توکہیں ہاتھ دھو کر کسی کے پیچھے پڑجانابھی دیکھا جاتا ہے۔

انڈے کے عالمی دن کو تو موجودہ حالات میں ہمارے لئے ملت بیضا کی ترجمانی کا دن کہا جا سکتا ہے۔ ناک، کان، گلہ، آنکھ، کینسر، ملیریا، ٹی بی، جنگلات، ریڈیو، ٹی وی، زمین، خلا، بائیسکل، روشنی، توانائی، مرغی، بھینس، کٹا، دال، سبزی، خواندگی، مہاجرین، انسانی حقوق اور خوش رہنے کی طرح کے سینکڑوں دن منا منا کر چھوڑ دیے جاتے ہیں۔ اور میڈیا پہ جلوہ آرائی کی نظر ہو کر بے عملی کی نظر ہو جاتے ہیں۔ جس رفتار سے موضوعات میں اضافہ ہورہا ہے، سال کے 365 دن کم پڑتے دکھائی دے رہے ہیں اور بعید نہیں کہ راتوں کا سہارا بھی لینا پڑے۔

بہتر ہوگا کہ اس عدیم الفرصتی میں تمام عالمی دنوں کو کسی ایک دن ہی منا کر ”عالمی دنوں کا عالمی دن“ متعین کرلیا جائے تاکہ باقی ایام میں عملی کاموں کا وقت اور موقع مل سکے۔ تاہم موجودہ تناظر میں عالمی سطح پر عالمی دنوں کا اک عظیم الشان لنڈا بازار سجا ہے اور اس بازار کا ہر تہوار ایسے گزر تا ہے جس طرح کسی عام بازار سے ایک نادار گزر جاتا ہے۔

Facebook Comments HS