ضمیر دوست کتاب کی دُہائیاں
مذہبِ اسلام کے پیرو کار ہونے کے ناطے ہماری زندگی کے آغاز کی بنیاد فاطرِ ارض وسماں کے اتارے گئے صحیفۂ فطرت کی پہلی آیت میں کلی طور پر موجود ہے۔ کائنات میں موجود مختلف مخلوقات کی نقل و حرکت پر غور کرنے سے ایک حقیقت سے پردہ اٹھتا ہے۔ کہ خالق عرض و سماں کی پیدا کردہ اس کائنات میں ”ترجیحات“ کا واضح اور دائمی استعمال یقینی بنایا گیا ہے۔ موجودہ کائنات کے جس حصہ میں زندگی کو پیدا کیا گیا وہ زمین ہے۔ استشنائی طور پر صرف زمین ہی ایسے تمام اوصاف اور وسائل کی جگہ ہے جو زندگی کی نشوونما کے لئے آخری حد تک ضروری ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والے آخری کلام کے آغاز کے لئے جس موضوع کو منتخب کیا گیا میرے نزد یک وہ کرۂ ارض پر بسنے والے انسانوں کی زندگی کی سب سے پہلی اور اہم ترین ترجیح ہے۔ انسان کو پیدا کرنے والے خدا نے انسانوں کے لئے سب سے پہلی ترجیح سب سے پہلے نازل ہونے والی سورۂ علق میں رکھ دی ہے۔ خالق ار ض و سماں نے اپنی آخری کتاب کو شروع کرنے کے لئے ”پڑھنے“ کا موضوع منتخب کیا۔ (القرآن) پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے عالم کو پیدا کیا ( 96 : 1 ) ۔
نزول کے اعتبار سے صحیفۂ فطرت کی یہ سب سے پہلی آیت ہے اور روئے زمین پر بسنے والے انسانوں کے لئے سب سے پہلی ترجیح۔ اگر ہم اپنے ادراک کو خندہ پیشانی کے ساتھ مکمل آزادی دیں تو ایک بات بالکل واضح ہے کہ خدا کے نزدیک انسانوں کے لئے سب سے اہم ترین کام ”پڑھنا“ ہے۔ اور اس دنیا میں پڑھنے کا واحد ذریعہ صرف کتاب ہے۔ یہی وہ ذریعہ ہے جو انسانی زندگی کے تمام شعبہ جات کی مکمل ترجمانی اور رہنمائی کا بیش بہا خزانہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔
انسانوں کی دنیامیں موجود ”کتاب“ ایک ایسا ٹول ہے جو ہر زمانے میں درپیش مختلف بشری تقاضوں کی مناسبت سے انسان کو صحت مند اور مضبوط ارادے فراہم کرتا ہے۔ میرے نزدیک کسی بھی معاشرے کو ایک قوم میں بدلنے کے لئے صرف نصابی کتابوں کا علم کافی نہیں ہوتا بلکہ دنیا میں بہترین معاشروں کی پیداوار کے لئے غیر نصابی کتب کے مطالعے کی عادت کو قائم کرنا پڑتا ہے۔ حقیقی داعیانِ ِ اسلام کی روحوں کی غذا ہمیشہ سے کتاب ہی رہی ہے۔
کتاب کو پڑھنا، کتاب کی عزت کرنا اور کتاب کی حفاظت کرنا ہمارے اسلاف کی زندگیوں کا ایک اہم ترین کام رہا ہے۔ پیغمبرِ اسلام ﷺ کی بعثت سے لے کر آنے والے کم و بیش ایک ہزار سال تک مسلمانوں نے اپنے اپنے ادوار میں کتاب پڑھنے اور کتاب لکھنے کے عمل کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ لوگ عقل و دانش اور تہذیب و تمدن کے تمام محاذوں پر دنیامیں موجود دوسری قوموں کی رہنمائی کرتے تھے۔ آئیے اب مذکورہ بالا گفتگو کے پیش نظر پاکستانی معاشرے میں کتاب سے ہونے والے سلوک کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔
امریکی تحقیقاتی ادارے دی ورلڈ کلچر سکور انڈیکس کے تحت 2016 میں ہونے والی تحقیق کے مطابق کتاب پڑھنے کے حوالے سے پاکستانی معاشرہ دنیا کے پہلے تیس ممالک میں بھی اپنی جگہ نہ بنا سکا۔ جو کہ پاکستان کی ساٹھ فیصد سے زیادہ آبادی کے حصہ دار طبقہ نو جوانوں کے لئے بالخصوص اور باقی ماندہ لوگوں کے لئے بالعموم لمحہ فکریہ ہے! اور مجموعی طور پر پاکستان میں رہنے والے چھیانوے فیصد مسلمانوں کے منہ پر تمانچہ!
پاکستانی معاشرے میں کتاب کی روداد بہت ہی درد ناک ہے۔ سڑکوں، فٹ پاتھوں اور ریڑھیوں پر پڑی ہزاروں اور لاکھوں کتابیں عرصہ دراز سے اپنی قسمت پر نالاں ہیں۔ اور معاشرے میں بسنے والے تمام غیور لوگوں کو ہر لمحہ دہائیاں دیتی نظر آتی ہیں۔ کہ جنہوں نے اُن کے وجود کو اپنے پاؤں کے برابر کا درجہ دے دیا ہے۔ یہا ں میں دانشمندی کی دنیا میں انتہائی متاثر کن شخصیت بہت ہی محترم جناب مرحوم اشفاق احمد صاحب کا ایک قول ضرور یاد دلانا چاہوں گا۔
انہوں نے کہا تھا جس قوم میں کتابیں سڑکوں پر اور جوتے شیشے کی خوبصورت الماریون کی زینت ہوں تو واقعی اس قوم کو کتابوں سے زیادہ جوتوں کی ضرورت ہے ان کا یہ قول انتہائی گہری اور تکلیف دہ حقیقت کا پیغام دے رہا ہے۔ ملک میں موجود تھوڑی ہی سہی لیکن وہ تھوڑی بھی خالی لائبریریاں من حیث القوم ہمارا کتاب سے رشتہ واضح طور پر بیان کر رہی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کتاب سے لوگوں کی محبت ایک نہ ایک دن اس قوم کو دنیا کی راہنما قوم بناتی ہے۔
اس کے برعکس کتاب سے دوری برتنے والی قوم کا حال وہی ہوتا ہے جو آج ہمارا ہے۔ اور ہم ایک فقری پستی پر مبنی قوم بن چکے ہیں۔ اس ضمن میں حکومت پاکستان سے میری درخواست ہے کہ ہم مسلمان ہونے کے ناطے اپنی مطالعاتی میراث کو پہچانیں اور دوبارہ اس کو اپنی وراثت کا حصہ بنانے کے لئے اعلیٰ سطحی اقدامت کو ممکن بنائیں۔ مطالعے کی عادت کو فروغ دینے کے لئے حکومت کو چاہیے کہ ہر ادارے میں میٹنگ روم کے ساتھ ساتھ کتاب روم بھی قائم کیے جائیں ہر محلے، ہر کالونی، ہرقصبے میں کتاب رومز کی تشکیل کا کام شروع کیا جائے۔
مزید یہ کہ الیکٹرونک، پرنٹ اور سوشل میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے مطالعہ کی عادت کو پروان چڑھانے کے حوالے سے مختلف پروگرامز کا اہتمام کیا جائے اور مہمیں چلائی جائیں۔ چونکہ مختلف شہروں میں قائم حکومتی لائبریریاں لوگوں کے گھروں سے دور دراز ہوتی ہیں۔ اس لیے بہت سے لوگوں کا مطالعاتی شوق فاصلاتی رکاوٹ کی نظر ہو کر دم توڑ جاتا ہے اس کو دیکھتے ہوئے حکومت کے بعد جو کام ہم عوام کو کرنا ہے وہ یہ ہے کہ ہم اپنے گھروں کی تعمیر کرتے وقت اور تعمیر شدہ گھروں میں ڈرائنگ روم، بیڈ روم اور ڈائنگ روم کے ساتھ ساتھ کتاب روم بھی بنائیں۔ جس دن ہم نے اپنی شخصیتوں میں مطالعاتی ایمر جنسی کو نافذ کر لیا۔ اس دن سے ہم ایک بار پھر اس منزل کی جانب سفر شروع کر دیں گے جس کو پا کر ہمارے اسلاف نے زندگی کے ہر شعبہ میں دوسری قوموں کی راہنمائی کی تھی۔


