کراچی سے لاہور ۔ ثقافتی جھٹکے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گو کہ بندۂ حقیر پر تقصیر کی پیدائش زندہ دلوں کے شہر لاھور کی ہے، مگر بچپن کے ابتدائی کچھ سال کے علاوہ ( جس میں راقم ہوش و خرد سے بیگانہ ہی تھا) مجھے اس شہر میں رہنے کا کبھی اتفاق نہیں ہوا۔ اپنی محدود زندگی کے شام و روز مختلف جگھوں پر گزارنے کے بعد کچھ برس قبل لاہور مستقل سکونت اختیار کی۔

؀ پہنچی وہیں پر خاک جہاں کا خمیر تھا

لاہور منتقلی سے قبل اوائل شباب کے پر آشوب برس روشنیوں کے شہر، عروس البلاد، شہر بے مثال کراچی میں گزرے۔ کراچی سے بے شمار یادیں اور واقعات وابستہ ہیں جن کا تذکرہ کسی اور موقع پر موقوف کرتے ہیں۔

آج دراصل ذکر کرنا چاہوں گا ان Cultural Shocks (ثقافتی صدموں ) کی جو ایک انسان کو ہوتے ہیں جب وہ کراچی سے لاہور آتا ہے۔ مجھے پہلے ثقافتی جھٹکے کے لیے لاہور پہنچنے کا بھی انتظار نہ کرنا پڑا۔ پہلی غلطی مجھ سے یہ ہوئی کے بغیر کسی معلومات کے میں نے خیبر میل کا ٹکٹ لے لیا، میرے فرشتوں کو بھی اس وقت میل اور ایکسپریس گاڑیوں کا فرق نہیں پتہ تھا۔ قصہ مختصر یہ گاڑی کراچی سے خانیوال تک تو مناسب وقت میں چلی، اس کے بعد حال یہ تھا کہ گاڑی دو قدم چلی نہیں اور ایک اور اسٹیشن پر رک جاتی اور پھر چلنے کا نام ہی نہ لیتی۔ پیپلز پارٹی کے آخری دور حکومت کا پہلا سال تھا، اور غلام احمد بلور صاحب وزیر ریلوے تھے، اور ریلوے کے حالات بہت ہی خراب تھے۔

اس طرح میں نے تقریبا آدھا وسطی پنجاب صبح سے شام تک دیکھ لیا۔ غالبا تاندلیانوالہ کا اسٹیشن تھا، بھوک کی شدت سے مجبور ہو کر گاڑی سے اترا اور اترتے ہی سامنے ایک ٹھیلے پر آلو کے کباب دکھے، دیکھتے ہی منہ میں پانی آگیا۔ چھٹتے ہی ٹھیلے والے سے کہا ”بھیا دو کباب دینا“ میرا یہ کہنا ہی تھا کہ بیچارہ ٹھیلے والا مجھے یوں دیکھنے لگا جیسے میں نے کسی جناتی زبان میں کچھ کہا ہو۔ دوبارہ آلو کے کباب کا تقاضا کیا تو پھر وہی تاثرات چہرے کے، اس دفعہ ایک خفیف سی استھزائیہ مسکراھٹ کے ساتھ۔ تنگ آکر ان کی طرف اشارہ کیا، ان سے مراد آلو کے کباب ہیں ٹھیلے والا نہیں، تو ایک زوردار قہقہہ سنائی دیا اور ساتھ ہی وہ گویا ہوا ”باؤ جی، اینوں ٹکی کہندے نے“ یہ عقدہ بعد میں کھلا کے لاھور اور اطراف میں کسی بھی توے پر بننے والے قیمہ اور آلو کے کبابوں کو ٹکی کہا جاتا ہے۔

لاہور منتقلی کا ابتدائی عرصہ میرے لیے ثقافتی جھٹکوں سے بھرپور تھا۔ اپنے ایک دوست کو پتہ سمجھاتے ہوے کہا کہ اگلی ”چورنگی“ سے بائیں مڑنا ہے، تو انہیں تاثرات کا سامنا کرنا پڑا جو تاندلیانوالہ میں دیکھے تھے۔ یہ راز آشکار ہوا کہ اہل لاھور کسی بھی چوراہے کو ”چوک“ کہتے ہیں بلکہ پیار سے ”چونک“ کہتے ہیں۔ گوشت کو ”Goshat“، درخت کو ”Darkhat“، غلط کو ”Ghalt“ کہتے سنا تو اپنے گنہگار کانوں پر یقین نہ آیا۔ ایک اور انکشاف ہوا کہ لاہوری حروف تہجی میں ”خ“ کا وجود ہی نہیں، ”خ“ سے شروع ہونے والے تمام الفاظ کی ادائیگی ”ہ“ سے کام چلا کر کیا جاتا ہے۔

”خون“ کو ”ہون“، ”خرگوش“ کو ”ہرگوش“، ”خیال“ کو ”ہیال“ کہا جاتا ہے۔ اپنے ایک دوست سے ان دنوں ”مران ہان“ (عمران خان) کی حمایت میں طویل بحثیں ہوتی تھیں۔ ابتدائی دنوں میں کچھ دن اندرون لاہور میں بھی گزرے، وہاں اپنے میزبان سے، جو کچھ دن پہلے ملک کے شمالی علاقوں سے ہو آئے تھے، ”پہار پر چرنے“ والے انسانوں کا ذکر سنا تو حیران و پریشان شکل تکتا رہا کچھ دیر۔ تھوڑی ردوقدح کے بعد اندرون لاہور کے خاص لہجے کے راز ہم پر آشکار ہوے۔ موصوف ”پہاڑ پر چڑھنے“ والے لوگوں کے بارے میں ارشاد فرما رہے تھے۔

سب سے بڑا ثقافتی جھٹکا بلا شبہ اہالیان لاھور کا بریانی سے سلوک تھا۔ میں بقول مشتاق احمد یوسفی ”ماکولات میں معقولات کے دخل کا قائل نہیں“ پر کچھ جگہوں پر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ شروع کے دنوں میں اتفاقاً ایک معروف ریسٹورنٹ میں اس کا سامنا ہوا۔ ہماری زبان جو کہ کراچی کی بریانی کی عادی تھی کافی دنوں سے اس لذیذ طعام کے ذائقے کو ترس گئی تھی، شومئی قسمت ادھر بریانی کا آرڈر دے بیٹھے۔ کچھ دیر بعد ویٹر ایک پلیٹ میں ایک عجیب سی چیز لے کر آیا، غور کیا تو سادہ پلاؤ کے اوپر سالن ڈال کر لایا گیا تھا۔

ویٹر کو بلا کر اس سے کہا کہ شاید آپ غلط آرڈر لائے ہیں، میں نے بریانی کا آرڈر کیا تھا۔ آگے سے جو جواب ملا اس سے میرے ہاتھ کیا پیروں کے بھی طوطے اڑ گئے۔ ویٹر کے مطابق وہ بریانی ہی لایا تھا، وا عجبا! آہستہ آہستہ گزرتے دن کے ساتھ احساس ہوا کہ لاھور میں کسی بھی قسم کے چاول کو جو گوشت کے ساتھ بنائے جائیں، بریانی کہا جاتا ہے۔ شاہان مغلیہ و اودھ کے طباخ اپنی پسندیدہ غذا کا یہ حال دیکھ لیں تو فرط جذبات میں خودکشی کر لیں۔ اسی قسم کی غذائی زیادتی ”حلیم“ کے ساتھ بھی روا رکھی جاتی ہے۔ یہاں ملنے والا حلیم، کچھ بھی ہو سکتا ہے لیکن حلیم نہیں۔

یہی حال ”شیرمال“ کا ہے۔ لاھور میں بڑے سے ”بن“ کو شیرمال کہا جاتا ہے۔ اصل ”شیرمال“ کے بارے میں شاید ہی کسی کو پتہ ہو، جو کراچی میں تافتان سمیت نہاری کے ساتھ خصوصا کھائی جاتی ہے۔ ”چم چم“ کو کئی لوگوں سے ”رس گلا“ کہتے سنا، اور زندگی کے بے شمار قیمتی ساعات اہالیان لاھور کو ”چم چم“ اور ”رس گلے“ کا فرق سمجھانے میں صرف ہوے۔ لاہور میں ”کٹاکٹ“ کو ”ٹکاٹک“ کہا جاتا ہے، اس معاملے میں لاہوریوں کو شک کا فائدہ دیا جا سکتا ہے، کیونکہ اس غذا کا نام اس کے صوتی آہنگ کے مطابق ہے۔

مثالیں اور بھی ہیں لیکن یہ سب کہنے کا مقصد یہ تھا کہ جب بھی انسان کسی بھی نئی جگہ جاتا ہے وھاں ضروری نہیں کہ چیزیں اسی طرح ہوں جیسے پرانی جگہ پر تھیں۔ لاہور لا زندگی تبدیلی سے عبارت ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ اب ہم لاہوری زندگی میں مکمل طور پر ڈھل چکے ہیں۔ پلاؤ کے اوپر سالن ڈال کر اسے بریانی کہتے اور کھاتے ہیں اور اسی میں اوپر والے کا شکر ادا کرتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •