یہ محمد پاک روڈ ہے

لاہور میں گرمیوں کا موسم ہو، تپتی دھوپ میں لو چل رہی ہو اور شدت حرارت سے چرند و پرند و انسان نڈھال ہوں تو ان سب کی پہلی پناہ گاہ، لاہور کی مشہور ”نہر“ ہی ہوتی ہے۔ تا حد نگاہ بلند و بالا سایہ دار درختوں کی قطاریں، نہر کے دونوں اطراف مخملیں سبزے…

Read more

پاکستانی سائنس تو بس ایسی ہی ہے

بفضل خدائے بزرگ و برتر، مملکت خداداد پاکستان میں رمضان مبارک اپنے پورے آب و تاب سے سایہ فگن ہے۔ اس ماہ مبارک میں کلمہ گو اپنی استطاعت کے مطابق اللہ کی اطاعت و بندگی میں روز و شب بسر کر رہے ہیں۔ رمضان کی آمد کے ساتھ ہی، مختلف نجی چینلز پر تکلف رمضان ٹرانسمیشن کا اہتمام کرتے نظر آرہے ہیں۔ چند دن پہلے کا قصہ ہے کہ راقم سحری کی برکتیں سمیٹنے کے ساتھ ساتھ ایک نجی چینل پر سحری کی نشریات کا لطف اٹھا رہا تھا۔ پروگرام کی خاتون میزبان، اپنے صاحب علم و عرفان مہمانوں کے ساتھ دینی تعلیمات پر پر مغز گفتگو میں مصروف تھیں۔ اسی اثنا میں ایک لائیو کالر کو شامل نشریات کیا گیا جن کا سوال پروگرام میں موجود مہمانوں میں سے ایک نورانی بزرگ سے تھا جو ہمہ وقت زیر لب ذکر و اذکار میں مشغول نظر آتے ہیں۔ سوال سائل کا یہ تھا کہ ان کے والد محترم کو ذیابیطس/ شوگر کا مرض لاحق ہے اور اس سلسلے میں معزز مہمان سے شفا کے لیے نسخہ کی طلبگار تھیں۔

Read more

شاہ نعمت ﷲ ولی کی پیشن گوئیاں اصلی ہیں یا فراڈ؟

چند دن قبل محترم حامد میر کا عمران خان کے دورۂ ایران اور خارجہ پالیسی سے متعلق ایک کالم پڑھنے کا اتفاق ہوا جس میں انہوں نے شاہ نعمت اللہ ولی کے پیشن گوئیوں پر مشتمل اشعار کا ذکر کیا۔ جدید اردو صحافت میں ان ”نام نہاد“ پیشن گوئیوں کا بڑھا چڑھا کر ذکر ہوتا رہا ہے۔ اس سے پہلے محترم ہارون رشید، زید حامد، اوریا مقبول جان اور اس قبیل کے بے شمار افراد شاہ نعمت اللہ ولی کے مبینہ کلام کا ذکر کرتے رہے ہیں۔ راقم کا ان پیشن گوئیوں سے پہلا تعارف آج سے چند سال قبل ہوا جب دفتر کے ایک ساتھی نے نہایت ہی تاکید کے ساتھ اس بیش بہا اور نادر کلام کا ایک الیکٹرانک مترجم نسخہ بندہ کو پڑھنے کے لیے دیا۔

Read more

حامد میر اور شاہ نعمت ﷲ ولی کی پیش گوئیاں

چند دن قبل محترم حامد میر کا عمران خان کے دورۂ ایران اور خارجہ پالیسی سے متعلق ایک کالم پڑھنے کا اتفاق ہوا جس میں انہوں نے شاہ نعمت ﷲ ولی کے پیش گوئیوں پر مشتمل اشعار کا ذکر کیا۔ جدید اردو صحافت میں ان “نام نہاد” پیش گوئیوں کا بڑھا چڑھا کر ذکر ہوتا…

Read more

برمودا ٹرائی اینگل کا راز؟

کچھ دن پہلے ”سازشی مفروضات“ اور اس پر یقین کرنے والوں کی ذہنی کیفیت اور وجوہات کا احاطہ کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ اسی موضوع سے متعلق ایک سازشی مفروضہ راقم کہ خام ذہن میں عہد طفولیت سے ہی اڑ گیا تھا۔ تفصیل اس کی کچھ یوں ہے، کہ بچپن سے ہی نا چیز کو مطالعہ کی لت پڑ گئی تھی۔ اس شوق کو ابھارنے میں نمایاں کردار میرے والد محترم اور بڑے بھائی کا تھا۔ جب سے ہوش سنبھالا خود کو انواع و اقسام کے کتب کے بیچ پایا۔ ہمارے گھر میں مختلف موضوعات پر سینکڑوں کتب کا مجموعہ ہمہ وقت دستیاب تھا۔ ایک کتاب جو میرے ذہن کو تجسس کی راہ پر لے گئی ”جزیرۂ خضراء“ تھی۔ اس کتاب کے جدید مترجم ایڈیشن آج بھی مختلف ناشرین کے پاس دستیاب ہیں۔ مصنف نے اس کتاب کے پہلے حصے میں ایک مجہول روایت کا سہارا لے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کے ”جزیرۂ خضراء“ ”امام مہدی علیہ السلام“ کی جائے سکونت ہے اور دوسرے حصے میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ”جزیرۂ خضراء“ دراصل مثلث برمودا ”Bermuda Triangle“ میں ہی واقع ہے۔

Read more

ہم سازشی مفروضات پر کیوں یقین کرتے ہیں؟

ہم میں سے اکثر نے 65 کی جنگ میں ان سبز پوش بابوں کا ذکر ضرور سنا ہوگا جو دشمن کے داغے گئے گولوں کو ہوا میں ہی پکڑ کر واپس دشمن کی طرف اچھال دیتے تھے۔ یا ان شمشیر بکف گھڑ سواروں کا جنہوں نے اپنی ننگی تلواروں سے دشمن کے جدید اسلحہ بردار…

Read more

کراچی سے لاہور ۔ ثقافتی جھٹکے

گو کہ بندۂ حقیر پر تقصیر کی پیدائش زندہ دلوں کے شہر لاھور کی ہے، مگر بچپن کے ابتدائی کچھ سال کے علاوہ ( جس میں راقم ہوش و خرد سے بیگانہ ہی تھا) مجھے اس شہر میں رہنے کا کبھی اتفاق نہیں ہوا۔ اپنی محدود زندگی کے شام و روز مختلف جگھوں پر گزارنے کے بعد کچھ برس قبل لاہور مستقل سکونت اختیار کی۔
؀ پہنچی وہیں پر خاک جہاں کا خمیر تھا
لاہور منتقلی سے قبل اوائل شباب کے پر آشوب برس روشنیوں کے شہر، عروس البلاد، شہر بے مثال کراچی میں گزرے۔ کراچی سے بے شمار یادیں اور واقعات وابستہ ہیں جن کا تذکرہ کسی اور موقع پر موقوف کرتے ہیں۔

Read more