کچھ دن پہلے ”سازشی مفروضات“ اور اس پر یقین کرنے والوں کی ذہنی کیفیت اور وجوہات کا احاطہ کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ اسی موضوع سے متعلق ایک سازشی مفروضہ راقم کہ خام ذہن میں عہد طفولیت سے ہی اڑ گیا تھا۔ تفصیل اس کی کچھ یوں ہے، کہ بچپن سے ہی نا چیز کو مطالعہ کی لت پڑ گئی تھی۔ اس شوق کو ابھارنے میں نمایاں کردار میرے والد محترم اور بڑے بھائی کا تھا۔ جب سے ہوش سنبھالا خود کو انواع و اقسام کے کتب کے بیچ پایا۔ ہمارے گھر میں مختلف موضوعات پر سینکڑوں کتب کا مجموعہ ہمہ وقت دستیاب تھا۔ ایک کتاب جو میرے ذہن کو تجسس کی راہ پر لے گئی ”جزیرۂ خضراء“ تھی۔ اس کتاب کے جدید مترجم ایڈیشن آج بھی مختلف ناشرین کے پاس دستیاب ہیں۔ مصنف نے اس کتاب کے پہلے حصے میں ایک مجہول روایت کا سہارا لے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کے ”جزیرۂ خضراء“ ”امام مہدی علیہ السلام“ کی جائے سکونت ہے اور دوسرے حصے میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ”جزیرۂ خضراء“ دراصل مثلث برمودا ”Bermuda Triangle“ میں ہی واقع ہے۔
Read more